کیمیکلز اور فرٹیلائزر کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav g20-india-2023

ریاست چھتیس گڑھ کو کیمیائی کھادوں کی تقسیم سے متعلق اخباری اطلاعات کے بارے میں وضاحت حکومت ہند کی طرف سے کھاد کی فراہمی میں کہیں کوئی کمی نہیں

Posted On: 18 FEB 2022 4:42PM by PIB Delhi

 

ریاست چھتیس گڑھ کیلئے کیمیائی کھادوں کے اختصاص میں کمی سے متعلق میڈیا رپورٹس کے حوالے سے کیمیکل اور کھاد کی مرکزی وزارت کی طرف سے وضاحت حسب ذیل ہے:

چار عشاریہ گیارہ لاکھ ٹن کیمیائی کھاد (2 لاکھ ٹن یوریا، 60،000 میٹرک ٹن ڈی اے پی) کی تقسیم کے معاملے پر بتایا گیا ہے کہ مرکز نے ریاست چھتیس گڑھ کو 50,000 میٹرک ٹن این پی کے (نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم)، 26،000 ٹن میٹرک ٹن ایم او پی۔ پوٹاش) اور 26,000 میٹرک ٹن ایس ایس پی (سنگل سپر فاسفیٹ) کی منظوری دی ہے۔ یہاں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ عام طور پر کھادوں کی تقسیم ریاستی حکومتوں کی طرف سے ڈی اے اینٖ ایف ڈبلیو کی زونل کانفرنسوں کے دوران پیش کردہ ضرورت پر مبنی ہوتی ہے۔

علاوہ ازیں ریاست چھتیس گڑھ کی طرف سے پیش کردہ ضرورت کے مطابق ربیع کے سیزن 22-2021 کے لئے 1.50 لاکھ میٹرک ٹن یوریا، 0.60 لاکھ میٹرک ٹن ڈی اے پی، 0.50 لاکھ میٹرک ٹن این پی کے، 0.26 ایم او پی اور 0.75 لاکھ میٹرک ٹن ایس ایس پی مختص کیے گئے تھے۔ اس لئے ریاست کو 3.61 لاکھ میٹرک ٹن مختص کیا گیا ہے۔ ربیع کا سیزن یکم اکتوبر سے 31 مارچ تک سمجھا جاتا ہے۔ ابتک یعنی 17 فروری 2022 تک ریاست کو 3.61 لاکھ میٹرک ٹن کی کل ضرورت کے مقابلے میں 4.36 لاکھ میٹرک ٹن دستیاب کرایا گیا ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ  تقریباً 120.8 فیصد سیزن کی ضروریات فروری کے وسط تک پہلے ہی پوری کی جا چکی ہے۔ ریاست کے پاس فروختگی کے بعد بھی  1.85 لاکھ میٹرک ٹن  دستیاب ہے۔ گویا حکومت ہند کی طرف سے کھاد کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں ہے۔ آرٹیکل میں 4.11 لاکھ میٹرک ٹن کے اعداد و شمار غلط اور گمراہ کن ہیں۔ مجموعی ضرورت صرف 3.61 لاکھ میٹرک ٹن رہی۔

کہا گیا ہے کہ ریاست کی ربیع سیزن کے لئے جنوری تک 2,32,000 میٹرک ٹن کی مانگ رہی لیکن صرف 1,71,476 ٹن کیمیائی کھادیں موصول ہوئیں یہ واضح کیا جاتا ہے کہ جنوری 2022 تک جہاں 2.32 لاکھ میٹرک ٹن کی ضرورت تھی وہاں حکومت ہند نے 3.61 لاکھ میٹرک ٹن کھاد فراہم کی ہے۔ اس لئے ریاست میں کیمیائی کھاد کی دستیابی کافی حد تک اطمینان بخش رہی ہے۔

یہ بھی کہا گیا کہ ریاست کو فروری 2022 میں مرکز سے یقین دہانیاں تو 1.20 لاکھ ٹن کیمیائی کھاد کی فراہمی کی موصول ہوئی تھیں لیکن صرف 40,686 ٹن ہی ملا  یہ واضح کیا جاتا ہے کہ کُل ماہانہ ضرورت جہاں  0.69 لاکھ میٹرک ٹن کی تھی وہاں حکومتِ ہند 17 فروری 2022 تک 0.75 لاکھ میٹرک ٹن کیمیائی کھاد پہلے ہی فراہم کر چکی ہے۔

اخبارات میں یہ بھی خبر ہے کہ چھتیس گڑھ کو خریف کے سیزن میں بھی کیمیائی کھاد کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ تو یہ واضح کیا جاتا ہے کہ ریاست میں خریف 2021 (یکم اپریل سے 30 ستمبر) کے سیزن کے لئے کھاد کی کوئی کمی نہیں تھی کیونکہ حکومت ہند نے 11.75 لاکھ میٹرک ٹن کی مجموعی موسمی طلب کے مقابلے میں 14.44 لاکھ میٹرک ٹن کیمیائی کھاد دستیاب کرائی تھی۔

****

U.No:1769

ش ح۔رف۔س ا



(Release ID: 1799369) Visitor Counter : 118


Read this release in: English , Hindi , Kannada