جل شکتی وزارت
پی ایم کے ایس وائی پروگرام
प्रविष्टि तिथि:
10 FEB 2022 6:16PM by PIB Delhi
جل شکتی کے مرکزی وزیرجناب بشویشورتودو نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ جانکاری فراہم کی ہے ۔
پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) کاسال 16-2015کے دوران آغاز ہواتھا ۔ اس کے مقاصد میں کھیتوں تک پانی کی رسائی میں اضافہ کرنا اور آبپاشی کے تحت قابل کاشت علاقے کی توسیع ، کھیتوں میں پانی کے استعمال کی کارکردگی کو بہتربنانااور پانی کو محفوظ بنانے سے متعلق دیرپا طورطریقے متعارف کرانا شامل ہیں ۔
پی ایم کے ایس وائی ایک سرپرست اسکیم ہے جو اس وزارت کے ذریعہ نافذ کئے جارہے دوبڑے عناصر یعنی آبپاشی کے تیز ترفوائد کے پروگرام (اے آئی بی پی ) اور ہرکھیت کو پانی (ایچ کے کے پی ) پرمشتمل ہے جبکہ ایچ کے کے پی اپنے آپ میں چارذیلی عناصر پرمشتمل ہے یہ عناصرہیں :کمانڈ علاقے کی ترقی اورآبی بندوبست (سی اے ڈی اینڈ ڈبلیو ایم ) ، سطحی چھوٹی آبپاشی (ایس ایم آئی ) ، آبی ذخائر کی مرمت ، تزیئن کاری اوربحالی (آرآرآر) اورزیرزمین پانی (جی ڈبلیو) کی ترقی سے متعلق پروگرام ۔
اس کے علاوہ پی ایم کے ایس وائی دوعناصر پربھی مشتمل ہے جنھیں دیگر وزارتوں کے ذریعہ نافذ کیاجارہاہے ۔ ‘‘فی بوندزیادہ فصل ’’ (پی ڈی ایم سی ) پروگرام ، زراعت اورکسانوں کی بہبود کی وزارت کے زراعت ، کاشتکاری ، امداد باہمی اورکسانوں کی فلاح وبہبود کے محکمے کے ذریعہ نافذ کیاجارہاہے ۔ پی ایم کے ایس وائی کے پن مینڈھ کی تعمیر وترقی (ڈبلیو ڈی سی ) کے پروگرام کو دیہی ترقی کی وزارت کے آراضی کے وسائل کے محکمے کے ذریعہ نافذ کیاجارہاہے ۔
گذشتہ تین سال کے دوران (21-2020تا 19-2018) پی ایم کے ایس وائی کے مختلف پروگرام کے تحت کئے گئے ترقیاتی کام ضمیمہ میں پیش کئے گئے ہیں ۔ البتہ پی ایم کے ایس وائی کے تحت اہداف کو، مستفید ہونے والوں کے لحاظ سے نشاندہی یا نگرانی کے خلاف ، دائرہ کارمیں شامل کئے گئے علاقوں کے لحاظ سے طے کیاگیاہے ۔
نافذ کئے جارہے پروجیکٹوں کی ،پروگراموں کے لحاظ سے تفصیلات ذیل میں پیش کی گئی ہیں :
.
|
نمبرشمار
|
پی ایم کے ایس وائی کے پروگرام
|
نافذکئے جارہے پروجیکٹ
|
|
1.
|
سی اے ڈی اورڈبلیو ایم کی یکساں رفتارسے عمل آوری سمیت پی ایم کے ایس وائی
|
60پروجیکٹ عمل آوری کے مختلف مراحل میں ہیں
|
|
2.
|
پی ایم کے ایس وائی –ایچ کے کے پی –ایس ایم آئی
|
1224اسکیمیں عمل آوری کے مختلف مراحل میں ہیں
|
|
3.
|
پی ایم کے ایس وائی –ایچ کے کے پی –آرآرآر
|
295 آبی ذخائر کے آرآرآر عمل آوری کے مختلف مراحل میں ہیں
|
|
4.
|
پی ایم کے ایس وائی –ایچ کے کے پی- جی ڈبلیو –
|
13پروجیکٹ عمل آوری کے مختلف مراحل میں ہیں
|
|
5.
|
پی ایم کے ایس وائی –پی ڈی ایم سی
|
سال 22-2021کے دوران سبسڈی فراہم کرنے کی غرض سے 4000کروڑروپے کے بجٹ کا التزام کیاگیاہے ۔
|
|
6.
|
پی ایم کے ایس وائی- ڈبلیو ڈی سی
|
1139پروجیکٹوں پرکام جاری ہے اوریہ عمل آوری کے مختلف مراحل میں ہیں ۔
|
اس کے علاوہ پی ایم کے ایس وائی کے مختلف پروگراموں کے لئے سال 22-2021کے لئے بجٹ میں مختص شدہ رقومات زیراستعمال ہیں اوربغیراستعمال شدہ باقی بچے فنڈس ، اگرہوئے تو ، کے بارے میں مالی سال کے اختتام تک معلومات ہوجائیں گی ۔
پی ایم کے ایس وائی ، مارچ 2021تک کے لئے نافذ کی گئی تھی ۔ حکومت ہند نے سال 22-2021سے سال 26-2025کے عرصہ کے لئے اس کی مدت کارمیں توسیع کردی ہے ، جس کے لئے مجموعی طورپر 93068.56کروڑروپے کے تخمینہ اخراجات مختص کئے گئے ہیں ۔ (37454کروڑ روپے کی مرکزی امداد ، نبارڈ کے قرضوں کی ادائیگی کے لئے 20434.56کروڑروپے اورریاستی سرکاروں کے ذریعہ ریاستی حصہ کے طورپر 35180کروڑروپے کے تخمینہ اخراجات )۔
البتہ ایچ کے کے پی –پی ایم کے ایس وائی کے تحت زیرزمین پانی سے متعلق پروگرام کے لئے سردست سال 22-2021تک کی منظوری دی گئی ہے جبکہ‘‘ فی بوند زیادہ فصل ’’اسکیم کو زراعت اورکسانوں کی فلاح وبہبود کے محکمے کے ذریعہ الگ سے نافذ کیاجارہاہے ۔
********
ضمیمہ
پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا کے مختلف پروگراموں کے تحت گذشتہ تین برسوں (19-2018سے 21-2020) کے دوران کئے گئے ترقیاتی کاموں کی ریاستوں کے لحاظ سے اورپروگراموں کے لحاظ سے تفصیلات :
(آبپاشی سے متعلق امکانات، ہزارہیکٹیئر س میں )
|
نمبرشمار
|
ریاست /مرکز کے زیرانتظام علاقے
|
سی اے ڈی ڈبلیو ایم کی یکساں رفتارسے عمل آوری کے ساتھ اے آئی بی پی
|
ایچ کے کے پی –ایس ایم آئی
|
ایچ کے کے پی –آرآرآر
|
ایچ کے کے پی –جی ڈبلیو
|
پی ڈی ایم سی (بہت چھوٹی آبپاشی کے دائرے میں شامل علاقے )
|
ڈبلیوڈی سی
تحفظاتی آبپاشی کے تحت شامل کئے گئے اضافی علاقے )
|
|
1
|
آندھراپردیش
|
2.03
|
-
|
-
|
-
|
322.35
|
73.13
|
|
2
|
اروناچل پردیش
|
-
|
3.46
|
-
|
2.77
|
5.58
|
4.54
|
|
3
|
آسام
|
1.16
|
16.69
|
-
|
26.34
|
17.67
|
55.70
|
|
4
|
بہار
|
2.27
|
19.66
|
17.87
|
-
|
6.17
|
8.62
|
|
5
|
چھتیس گڑھ
|
0.14
|
0.50
|
-
|
-
|
65.25
|
12.60
|
|
6
|
گوا
|
0.18
|
-
|
-
|
-
|
0.60
|
-
|
|
7
|
گجرات
|
141.23
|
-
|
0.14
|
0.24
|
349.76
|
9.29
|
|
8
|
ہماچل پردیش
|
-
|
7.62
|
-
|
-
|
5.05
|
1.47
|
|
9
|
ہریانہ
|
-
|
-
|
-
|
-
|
45.57
|
10.29
|
|
10
|
مرکز کے زیرانتظام علاقے جموں وکشمیر اورلداخ
|
6.16
|
14.57
|
-
|
-
|
1.09
|
12.42
|
|
11
|
جھارکھنڈ
|
0.61
|
4.60
|
-
|
-
|
11.88
|
1.99
|
|
12
|
کرناٹک
|
10.14
|
-
|
-
|
-
|
806.62
|
21.93
|
|
13
|
کیرالہ
|
1.748
|
-
|
-
|
-
|
1.94
|
9.94
|
|
14
|
مدھیہ پردیش
|
29.14
|
-
|
-
|
-
|
67.51
|
70.70
|
|
15
|
مہاراشٹر
|
173.56
|
0
|
-
|
-
|
380.93
|
49.50
|
|
16
|
منی پور
|
6.18
|
0.70
|
-
|
1.92
|
8.61
|
0.62
|
|
17
|
میگھالیہ
|
-
|
3.80
|
0.03
|
-
|
-
|
0.35
|
|
18
|
میزورم
|
-
|
1.74
|
-
|
0.04
|
2.87
|
4.46
|
|
19
|
ناگالینڈ
|
-
|
4.00
|
-
|
0.4
|
4.35
|
2.69
|
|
20
|
سکم
|
-
|
1.08
|
-
|
-
|
5.52
|
-
|
|
21
|
تریپورہ
|
-
|
-
|
-
|
0.18
|
-
|
0.81
|
|
22
|
اتراکھنڈ
|
-
|
9.15
|
-
|
0.055
|
15.17
|
0.14
|
|
23
|
مغربی بنگال
|
-
|
-
|
-
|
-
|
52.63
|
12.37
|
|
24
|
اڈیشہ
|
32.12
|
-
|
3.97
|
-
|
32.17
|
19.10
|
|
25
|
پنجاب
|
1.44
|
-
|
-
|
-
|
2.19
|
0.55
|
|
26
|
راجستھان
|
0.19
|
-
|
2.85
|
-
|
181.75
|
53.29
|
|
27
|
تلنگانہ
|
33.83
|
-
|
12.93
|
-
|
56.24
|
31.60
|
|
28
|
تمل ناڈو
|
-
|
-
|
1.66
|
0.37
|
650.09
|
64.16
|
|
29
|
اترپردیش
|
615.34
|
-
|
2.35
|
15.28
|
170.14
|
27.74
|
|
|
میزان
|
1,057.47
|
87.57
|
41.80
|
47.60
|
3,269.70
|
560.00
|
نوٹ:آبپاشی سے متعلق پیداکئے گئے مواقع جیسے ترقی کی حصولیابی ، تیارکیے گئے کمانڈ علاقے وغیرہ کے اشاریوں کو مالی سال کے اختتام پرمرتب کیاگیاہے ۔ رواں مالی سال یعنی 22-2021کی تفصیلات کو شامل نہیں کیاگیاہے ۔
*****
ش ح ۔ ع م ۔ ع آ
U-1631
(रिलीज़ आईडी: 1798446)
आगंतुक पटल : 138
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English