دیہی ترقیات کی وزارت
دیہی ہندوستان میں کاروباری کلچر
اسٹارٹ اپ ولیج انٹرپرینیورشپ پروگرام (ایس وی ای پی) کے تحت اب تک 1.86 لاکھ سے زیادہ کاروباری اداروں کی مدد کی گئی ہے
ڈی اے وائی- این آر ایل ایم کے تحت اب تک 183 پروڈیوسر انٹرپرائزز اور 1.22 لاکھ پروڈیوسر گروپس کی مدد کی گئی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 FEB 2022 5:12PM by PIB Delhi
دیہی ترقیات کے مرکزی وزیر مملکت جناب فگن سنگھ کلستے نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں اطلاع فراہم کی کہ دیہی ترقیات کی وزارت دین دیال انتیودیہ یوجنا – قومی دیہی روزی روٹی مشن(ڈی اے وائی- این آر ایل ایم ) کے تحت ایک ذیلی اسکیم کے طور پر اسٹارٹ اپ ولیج انٹرپرینیورشپ پروگرام(ایس وی ای پی) کو لاگو کر رہی ہے جس کا مقصد غیر زرعی شعبوں میں گاؤں کی سطح پر دیہی غریبوں کو کاروبار قائم کرنے میں مدد کرنا ہے۔ پروجیکٹ کے مستفیدین ڈی اے وائی- این آر ایل ایم کے خود امدادی گروپ (ایس ایچ جی) ایکو سسٹم سے ہیں۔ پروجیکٹ کا آپریشنل یونٹ بلاک ہے۔ منظور شدہ فنڈز کے ساتھ ایک بلاک میں زیادہ سے زیادہ 2,400 کاروباری اداروں کو مدد دی جاسکتی ہے ۔یہ موجودہ اداروں کے ساتھ ساتھ نئے اداروں کے قیام کی بھی حمایت کرتا ہے۔ دیہی صنعت کاروں کو مالیات تک رسائی میں مدد کرنے کے علاوہ کمیونٹی ریسورس پرسنز- انٹرپرائز پروموشن(سی آر پی- ای پی) کے ایک کیڈر کو بھی فروغ دیا جاتا ہے تاکہ کاروباری اداروں کو کاروبارمیں معاونت کی خدمات فراہم کی جاسکیں۔ ایس وی ای پی کے تحت ایک بلاک کے لیے زیادہ سے زیادہ بجٹ 597.76 لاکھ روپے ہے۔ پروجیکٹ کی مدت ڈی پی آر کی منظوری کی تاریخ سے 4 سال کی مدت کے لیے ہے۔ اب تک 23 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کل 1,86,576 کاروباری اداروں کی مدد کی گئی ہے۔
ہندوستان میں کاروباری کلچر کو مزید فروغ دینے کے لیے 588 رورل سیلف ایمپلائمنٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ(آر ایس ای ٹی آئیز) یعنی دیہی خود روزگار تربیتی ادارے ملک بھر میں کام کر رہے ہیں اور دیہی غیر روزگار نوجوانوں کو ہنر مندی اور کاروبار کی ترقی کے تربیتی پروگراموں میں توسیع کر رہے ہیں تاکہ وہ خود روزگار یونٹس/سرگرمیاں شروع کر کے انہیں خود کو ملازمت دینے میں سہولت فراہم کر سکیں۔ یہ وزارت آر ایس ای ٹی آئیز کے ذریعے دیہی نوجوانوں کو ریاستی دیہی روزی روٹی مشن(ایس آر ایل ایمز) کے ذریعے دی جانے والی تربیت کے اخراجات کی ادائیگی کر رہی ہے۔
ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) پردھان منتری- یووا (پائلٹ) کو نافذ کر رہی ہے تاکہ ملک بھر میں صنعت کاری کی تعلیم اور تربیت کے ذریعے کاروبار کی ترقی کے لئے ایک قابل عمل ایکو سسٹم تشکیل دیا جا سکے۔ اس اسکیم میں 10 ریاستیں اور 2 مرکز کے زیر انتظام علاقوں یعنی آسام، بہار، کیرالہ، مہاراشٹر، میگھالیہ، تمل ناڈو، تلنگانہ، اتر پردیش، اتراکھنڈ، مغربی بنگال، دہلی اور پڈوچیری کا احاطہ کیا گیا ہے۔
مزید برآں ایم ایس ڈی ای، 6 مقدس شہروں میں کاروبار کی ترقی کو بھی لاگو کر رہا ہے تاکہ مقدس شہروں میں کاروباری سرگرمیوں کو تحریک دی جا سکے تاکہ موجودہ صنعتوں کو فروغ دینے میں مدد فراہم کی جا سکے اور صنعتو ں کے قیام کے لیے رہنمائی اور امدادی تعاون کے لیے ممکنہ کاروباری افراد کو استعمال کیا جا سکے۔ مندروں کے شہروں میں پوری (اڈیشہ)، وارانسی (اتر پردیش)، ہری دوار (اتراکھنڈ)، کولور (کرناٹک)، پنڈھارپور (مہاراشٹر) اور بودھ گیا (بہار) شامل ہیں۔
زراعت اور متعلقہ شعبے میں دیہی علاقوں میں گروپ صنعت کاری کی ترقی کے لیےڈی اے وائی- این آر ایل ایم کے تحت وزارت خواتین کی ملکیت والے پروڈیوسرز مجموعی اداروں یعنی پروڈیوسر انٹرپرائزز/فارمر پروڈیوسرز آرگنائزیشنز اور پروڈیوسرز گروپس کو فروغ دینے میں سہولت فراہم کرتی ہے تاکہ خواتین کسان ممبران کو جمع کرنے، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ جیسے اقدامات کے ذریعے ان کی پیداوار کے لیے بہتر مارکیٹ تک رسائی میں مدد فراہم کی جا سکے۔ خیال یہ ہے کہ ایک مکمل کاروباری ماڈل تیار کیا جائے تاکہ بنیادی پروڈیوسرز کو پروڈیوسر تنظیمیں بنانے سے لے کر مارکیٹنگ کے روابط کی تعمیر تک شروع سے آخر تک حل فراہم کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ تکنیکی مہارت پیدا کرنے کے لیے، تاکہ بڑے سائز کے پروڈیوسر انٹرپرائزز کو فروغ دینے کے لیے پراجیکٹس کی ترقی میں مدد ملے، وزارت نے ٹا ٹا ٹرسٹ کے تعاون سے ایک سیکشن 8 کمپنی ‘‘فاؤنڈیشن فار ڈیولپمنٹ آف رورل ویلیو چین(ایف ڈی آر وی سی)’’ قائم کی ہے۔ . یہ ڈی اے وائی- این آر ایل ایم کی ریاستی اکائیوں کو بڑے سائز کے پروڈیوسر انٹرپرائزز کے فروغ کے ذریعے ویلیو چین پروجیکٹوں کو تیار کرنے اور لاگو کرنے میں مدد کرتا ہے۔
ڈی اے وائی- این آر ایل ایم کے تحت اب تک 183 پروڈیوسر انٹرپرائزز اور 1.22 لاکھ پروڈیوسر گروپس کی مدد کی گئی ہے۔
ایس وی ای پی کا وسط مدتی جائزہ 19-2018 کے دوران کوالٹی کونسل آف انڈیا (کیو سی آئی) کے ذریعے کیا گیا تھا۔ کلیدی نتائج مندرجہ ذیل ہیں:
بلاکس کے 82فیصد کاروباری افراد نے ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی زمروں سے تعلق رکھنے کی اطلاع دی۔
75فیصد کاروباری اداروں کی ملکیت اور انتظام خواتین کے پاس تھا۔
مجموعی گھریلو آمدنی کا 57فیصد ایس وی ای پی کے تحت فروغ دیئے جارہے ہیں ۔
کاروباریوں کی اوسط مجموعی آمدنی کاروبار شروع کرنے کے وقت کاروبار سے ان کی طرف سے بیان کردہ متوقع آمدنی سے زیادہ ہے۔
تقریباً 96 فیصد کاروباریوں نے بچت میں اضافے کی اطلاع دی۔
انٹرویو کے دوران 70فیصد کاروباری افراد نے بتایا کہ کمیونٹی انٹرپرائز فنڈ(سی ای ایف) سے قرض لینا آسان تھا۔
*************
ش ح ۔ م ع ۔ رض
U. No.1409
(ریلیز آئی ڈی: 1797134)
وزیٹر کاؤنٹر : 180