خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
بے سہارا بچوں کے لئے اسکیم
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 FEB 2022 3:40PM by PIB Delhi
نئی دہلی،9فروری ،2022
خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت مرکز کے ذریعہ حمایت یافتہ اسکیم ’چائلڈ پروٹیکشن سروس (سی پی ایس)اسکیم ’-مشن وتسلیا کا نفاذ کررہی ہے ۔یہ اسکیم بے برے حالات میں بچوں کی بحالی سمیت ،یتیم اور بے سہارا بچوں کےلئے ہے۔سی پی ایس اسکیم کے تحت ریاستوں /مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو خدمات مہیا کرنے کےلئے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے جس میں ادارہ جاتی دیکھ بھال ،غیر ادارہ جاتی دیکھ بھال ،صلاحیت سازی میں مدد اور انسانی وسائل وغیرہ شامل ہیں۔بچوں کے گھر ،آبزرویشن ہومز،اسپیشل ہومز ، تحفظ کےمقامات ،کھلی پناہ گاہوں وغیرہ سمیت بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے مختلف قسم کے اداروں (سی سی آئی) کی تشکیل اور ان کی دیکھ بھال کےلئے بھی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ سی سی آئی عمر کے لحاظ سے مناسب تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی، تفریحی سرگرمیاں ، صحت کی دیکھ بھال، مشاورت وغیرہ فراہم کرتے ہیں۔ اسکیم پر عمل درآمدگی متعلقہ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر منحصر ہے۔
اس کے علاوہ ،بچوں کے حقوق کے تحفظ کے قومی کمیشن (این سی پی سی آر) کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق ،ایس ایم ڈبلیو پی (سی) نمبر 6/2021 میں معزز سپریم کورٹ نےگلیوں میں بچون کی حالت پر اس مسئلے کا از خود نوٹس لیا ہے۔ان سی پی سی آر کے بال سوراج پورٹل پر گلیوں میں بچوں کی حالت کے سلسلے میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مطابق 11.01.2022 تک کی تفصیل جدول ایک میں دی گئی ہیں۔
وزارت نے تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ خدمات کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے اور اسکیموں کے موثر نفاذ کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں اور باقاعدگی سے کام کیا ہے۔ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مختلف اسکیموں کے تحت چلائے جانے والے اداروں اور سہولیات کو فعال اور دستیاب رکھنے کے لیے مختلف رہنما خطوط اور مشوروں کا اشتراک کیا گیا ہے۔
یہ معلومات خواتین اور بچوں کی ترقی کی مرکزی وزیر محترمہ اسمریتی زوبین ایرانی نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
جدول 1
ریاستوں /مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مطابق بال سوراج پورٹل پر گلیوں میں بچوں کی حالت کے سلسلے میں تفصیلات (11.01.2022تک )
|
نمبر شمار
|
یاستیں
|
اپنے خاندان کے ساتھ گلیوں میں رہنے والے بچے
|
وہ بچے جو دن میں گلیوں میں رہتے ہیں اور رات میں قریب ہی کچی بستیوں اور جھوپڑیوں میں رہنے والے اپنے کنبے کے پاس چلے جاتےہیں
|
گلیوں اور سڑکوں پر تنِ تنہا رہنے والے بے سہارا بچے
|
کُل
|
|
1
|
انڈمان اور نیکوبارجزائر
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
465
|
177
|
13
|
655
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
4
|
آسام
|
28
|
96
|
27
|
151
|
|
5
|
بہار
|
77
|
55
|
11
|
143
|
|
6
|
چنڈی گڑھ
|
1
|
5
|
0
|
6
|
|
7
|
چھتیس گڑھ
|
17
|
57
|
5
|
79
|
|
8
|
دادر اور نگر حویلی اور دمن اور دیو
|
11
|
0
|
0
|
11
|
|
9
|
دہلی
|
91
|
138
|
2
|
231
|
|
10
|
گوا
|
13
|
27
|
0
|
40
|
|
11
|
گجرات
|
1086
|
895
|
9
|
1990
|
|
12
|
ہریانہ
|
180
|
216
|
22
|
418
|
|
13
|
ہماچل پردیش
|
15
|
49
|
0
|
64
|
|
14
|
جموں و کشمیر
|
50
|
200
|
6
|
256
|
|
15
|
جھارکھنڈ
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
16
|
کرناٹک
|
427
|
573
|
99
|
1099
|
|
17
|
کیرالہ
|
13
|
5
|
1
|
19
|
|
18
|
لداخ
|
3
|
29
|
0
|
32
|
|
19
|
لکشدیپ
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
20
|
مدھیہ پردیش
|
598
|
771
|
43
|
1412
|
|
21
|
مہاراشٹر
|
2075
|
480
|
18
|
2573
|
|
22
|
منی پور
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
23
|
میگھالیہ
|
0
|
5
|
0
|
5
|
|
24
|
میزورم
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
25
|
ناگالینڈ
|
0
|
1
|
0
|
1
|
|
26
|
اوڈیشہ
|
13
|
4
|
17
|
34
|
|
27
|
پدوچیری
|
9
|
18
|
0
|
27
|
|
28
|
پنجاب
|
23
|
85
|
16
|
124
|
|
29
|
راجستھان
|
35
|
17
|
0
|
52
|
|
30
|
سکم
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
31
|
تمل ناڈو
|
134
|
43
|
14
|
191
|
|
32
|
تلنگانہ
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
33
|
تریپورہ
|
0
|
2
|
12
|
14
|
|
34
|
اترپردیش
|
30
|
65
|
80
|
175
|
|
35
|
اتراکھنڈ
|
7
|
13
|
1
|
21
|
|
36
|
مغربی بنگال
|
0
|
122
|
0
|
122
|
|
|
کُل
|
5401
|
4148
|
396
|
9945
|
****************
ش ح ۔ا م۔
U:1370
(ریلیز آئی ڈی: 1797065)
وزیٹر کاؤنٹر : 191