خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اقتصادی طور پر کمزور طبقے کی  خواتین کی فلاح و بہبود

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 FEB 2022 4:38PM by PIB Delhi

 

حکومت اقتصادی طور پر کمزور اور سماجی طور پر پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے کئی اسکیموں کو عمل میں لا رہی ہے جن میں منجملہ درجِ ذیل شامل ہیں:

سوادھار گرہ اسکیممشکل حالات میں اُن خواتین اور لڑکیوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتی ہے جو خاندانی اختلافات، جرائم، تشدد، ذہنی تناؤ، سماجی بے راہ روی کی وجہ سے بے گھر ہو جاتی ہیں،یا اُنہیں جسم فروشی پر مجبور کیا جا رہا ہوتا ہے اور وہ اخلاقی طور پرخطرے میں ہیں۔ یہ اسکیم کا مقصد  ایسی خواتین کو رہائش، خوراک، لباس، مشاورت، تربیت، طبی اور قانونی امداد کے انتظامات کے ذریعے مشکل حالات میں معاشی اور جذباتی طور پر بحال کرنا ہے۔

 

اجولا اسکیمکا مقصد ہے۔ (1) سماجی تحریک اور بیداری پیدا کرنے کے پروگراموں کے ذریعے خواتین اور بچوں کے تجارتی جنسی استحصال کے لئے ان کی اسمگلنگ کو روکنا (2) متاثرین کو ان کے استحصال کی جگہ سے بچانے اور انہیں ایسی جگہ رکھنے میں سہولت فراہم کرنا جہاں وہ محفوظ ہوں (3) بنیادی سہولیات/ضروریات کے ذریعے بحالی کی خدمات فراہم کرنا۔ ان میں پناہ، خوراک، لباس، طبی علاج فراہم کرنے کے علاوہ  مشاورت، قانونی امداد، رہنمائی اور پیشہ ورانہ تربیت شامل ہیں (4) متاثرین کو ان کے خاندان اور معاشرے کا بڑے پیمانے پر دوبارہ حصہ بنانے کی سہولت فراہم کرنا، اور   (5) سرحد پار متاثرین کو ان کے آبائی وطن لوٹنے میں سہولت فراہم کرنا۔

ون اسٹاپ سینٹرز(او ایس سیز) کا مقصد جنہیں سکھی عام طور پرسینٹرز کے نام سے جانا جاتا ہے تشدد (بشمول خانگی تشدد) سے متاثرہونے والی خواتین کو ایک ہی چھت کے نیچے مربوط خدمات کے ساتھ سہولت فراہم کرنا ہے۔ جیسے پولیس کی سہولت، طبی امداد، قانونی امداد و قانونی مشاورت، نفسیاتی سماجی مشاورت، عارضی پناہ گاہ وغیرہ۔

 

وومن ہیلپ لائن (ڈبلیو ایچ ایل) اسکیم عوامی اور نجی دونوں جگہوں پر تشدد سے متاثرہ خواتین کو چوبیسوں گھنٹے ہنگامی اور غیر ہنگامی مدد فراہم کرتی ہے۔  یہ مدد انہیں مناسب اتھارٹی جیسے کہ پولیس، ون اسٹاپ سینٹر، اسپتال، قانونی خدمات وغیرہ سے جوڑ کر فراہم کی جاتیہیں۔ ڈبلیو ایچ ایل  کے ذریعہ ملک بھر میں خواتین کی فلاح و بہبود کی اسکیموں اور پروگراموں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے علاوہ ریسکیو وین اور مشاورتی خدمات کے ذریعے مصیبت میں گھری خواتین کی مدد بھی کی جاتی ہے۔ خواتین ہیلپ لائن سے خواتین  خدمات حاصل کرنے کے لئے 181 شارٹ کوڈ ڈائل کر سکتی ہیں۔

 

نیشنل سوشل اسسٹنس پروگرام (این ایس اے پی) ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی طرف سے شناخت شدہ  کم مراعات یافتہ لوگوں کے لئے مکمل طور پر مرکزی فنڈ والی اسکیم ہے۔ این ایس اے پی کا مقصد بنیادی سطح کی مالی مدد فراہم کرنا ہے۔

 

قومی صحت پالیسی(این ایچ پی) 2017 کے تحت مقاصد کے مطابق حکومت نے ستمبر 2018 میں  اہم اور جامع آیوشمان بھارت پروگرام کا اعلان کیا۔ صحت اور تندرستی کے مراکز اور پردھان منتری جن آروگیہیوجنا اس کے جڑواں ستونوں ہیں۔ جن آروگیہیوجنا کے تحت غریب اور کمزور خاندانوں کو کوریج فراہم کی جاتی ہے۔ اس سے خواتین کی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

 

حکومت ہند نے 5 اپریل 2016 کو اسٹینڈ اپ انڈیااسکیم کا آغاز کیا تاکہ درج فہرست زات و قبائل کی خواتین میں صنعتکاری کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ اسکیم دس لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک بینک قرضوں کی سہولت فراہم کرتی ہے۔   کم از کم ایک درج فہرست ذات و قبائل کے قرض لینے والے اور کم از کم ایک خاتون قرض لینے والی کو شیڈول کمرشل بینکوں کے ہر بینک برانچ سے ٹریڈنگ،ینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبے میں گرین فیلڈ انٹرپرائزز قائم کرنے کے لئے یہ قرض دیا جاتا ہے۔

 

حکومت نے ملک بھر میںپردھان منتری کوشل وکاس یوجناکے تحت پردھان منتری کوشل کیندر قائم کئے ہیں۔

 

مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ، 2005  دیہی گھرانوں میں روزگار کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ملازمتوں کا کم از کم ایک تہائی حصہ خواتین کو دیا جائے۔ مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ کے رہنما خطوط میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی کے لئے خصوصی انتظامات ہیں، جن میں خواتین (خاص طور پر اکیلی خواتین) اور بوڑھے افراد کو ان کی رہائش گاہوں کے قریب کام کی جگہوں پر کام مہیا کرانے کوترجیح دینا، 6 سال سے کم عمر کے پانچ سے زائد بچوں کی صورت میں کام کی جگہ پر بچوں کیدیکھ بھال کی سہولیات شامل ہیں۔ یہ اس بات کو بھییقینی بناتا ہے کہ بیواؤں، تنہا ہو کر رہ جانے والی خواتین اور بے سہارا خواتین کو 100 دن کا کام فراہم کیا جائے۔ حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کو ایک خاص زمرے کے طور پر سمجھا جاتا ہے جس میں ان کے لئے مناسب کام کا بندوبست کیا جاتا ہے۔

 

پردھان منتری شرم یوگی مان دھن غیر منظم مزدوروں کے لئے بڑھاپے کے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر شروع کیا گیا ہے جن میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جو کسی دوسری پنشن اسکیم کے تحت نہیں ہیں۔

 

پردھان منتری مدرا یوجنامنجملہ اور چیزوں کے اپنا روزگار آپ کرنے کی سہولت کے لیے حکومت کی طرف سے شروع کی گئی ہے۔ اس کے تحت دس لاکھ روپے تک کے ضمانتی مفت قرضے بہت چھوٹے اور چھوٹے کاروباری اداروں اور انفرادی لوگوں کو دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنی کاروباری سرگرمیوں شروع کرنے یا اسے بڑھانے کے قابل بن سکیں۔ اس یوجنا کے تحت فائدہ اٹھانے والوں میں زیادہ تر خواتین ہیں۔

 

معذوروں کی بازآبادکاری کی دین دیال اسکیمایک مرکزی سیکٹر اسکیم ہے جس کا مقصد (1) معذور افراد کی بحالی سے متعلق منصوبوں کے لئے غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو گرانٹ ان ایڈ فراہم کرنا  ہے تاکہ معذور افراد کی امکانی، جسمانی، حسی، فکری، نفسیاتی اور سماجی سرگرمی تک رسائی ہو سکے۔ (2)  معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لئے مساوی مواقع، مساوات، سماجی انصاف کو یقینی بنانے والا ماحول پیدا کیا جا سکے اور (3) معذور افراد کے حقوق ایکٹ 2016 کا موثر نفاذ  یقینی بنانے کے لئے رضاکارانہ کارروائی کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

پرائیویٹ سیکٹر میں معذور افراد کو روزگار فراہم کرنے کے لئے مراعات کی اسکیم: اسکیم کے مطابق، معذور افراد کو بااختیار بنانے کا محکمہ  10 برسوں کے لئے ای پی ایف اور ای ایس آئی میں آجروں کے تعاون کی ادائیگی کرے گا۔

 

وزیر اعظم آواس یوجناکا مقصد 2022 تک دیہی علاقوں میں کچے اور خستہ حال مکان میں رہنے والے تمام بے گھروں اور گھرانوں کو بنیادی سہولیات کے ساتھ  پکے گھر کی فراہمی کے ذریعے ’سب کے لئے مکان‘ فراہم کرنا ہے۔ اس سے لاوارث اور بے سہارا بیواؤں کو بھی فائدہ ہوگا۔

 

پردھان منتری آواس یوجناایک ایسی اسکیم ہے جس کا وژن 2022 تک سب کے لئے رہائش کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت، شہری علاقوں میں کچی آبادیوں سمیت اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کی رہائش کی ضروریات کو پورا کرنے میں ریاستوں اور مرکزی خطوں کو مرکزی مدد فراہم کی جاتی ہے۔

 

دین دیال انتیودیایوجنا- قومی شہری روزی روٹی مشن کو مطلوبہ شہروں میں نافذ کیا جاتا ہے تاکہ شہری غریب گھرانوں کی غریبی اور ان کی مخدوش حالت کی شدت کو کم کیا جا سکے اور ان کی معاش میں پائیدار بنیادوں پر بہتری لائی جا سکے۔ یہ مشن پسماندہ گروہوں جیسے ایس سی،ایس ٹی، خواتین، اقلیتوں، معذوروں وغیرہ کے خاندانوں کو شامل کرنے کے لئے اپنے عمل کا احاطہ وسیع  کرتا ہے بشرطیکہ  انک آبادی اوپردی گئی شہری غریب آبادی کی زیادہ سے زیادہ 25 فیصد ہو۔

اٹل پنشن یوجنا(اے پی وائی) کو تمام ہندوستانیوں خاص طور پر غریبوں، کم مراعات یافتہ طبقوں اور غیر منظم شعبے میں کام کرنے والوں کے لئے ایک عالمی سماجی تحفظ کا نظام بنانے کے مقصد کے ساتھ  عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ اسکیم ہندوستان کے تمام شہریوں کے لئے  ہے جن کیعمر 18-40 سال کے درمیان ہے او ان کا بینکیا پوسٹ آفس میں سیونگ بینک اکاؤنٹ ہے۔

 

بوڑھے لوگوں کے لئے مربوط پروگرام کا مقصد خواتین سمیت بزرگ شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے لئے بنیادی سہولیات جیسے پناہ گاہ، خوراک، طبی دیکھ بھال اور تفریح کے مواقع فراہم کرنا اور پیداواری اور فعال عمر بڑھنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔  اس کے لئے ریاستی  اور مرکز کے زیر انتظام حکومتوں / غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) / پنچایتی راج اداروں (پی آر آئی) / مقامی اداروں اور بڑے پیمانے پر کمیونٹی کی صلاحیت کی تعمیر کے لئے تعاون فراہم کرنا ہے۔

 

خاص طور پر کمزور قبائلی گروہوں کی ترقی کے لئے اسکیم: درج فہرست قبائل میں کچھ ایسے گروہ ہیں جن کی آبادی میں کمی آرہی ہے یا وہ جمود کا شکار ہیں۔ ان کے اندر خواندگی کی سطح کم ہے اور وہ اقتصادی طور پر پسماندہ ہیں۔ یہ گروہ ہمارے معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور طبقوں میں سے ایک ہے کیونکہ ان کی تعداد بہت کم ہے، ان لوگوں نے سماجی اور اقتصادی ترقی کی کوئی خاص سطح حاصل نہیں کی  اور عام طور پر ایسے دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں جن کا بنیادی ڈھانچہ اور انتظامی حالت ناقص ہے۔ 18 ریاستوں اور ایک مرکزی خطے میںایسے 75 گروپوں کی شناخت کی گئی ہے اور ان کی خاص طور پر کمزور قبائلی گروپ کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے۔

1998-99 میں ان کی خصوصی ترقی کے لئے الگ سے 100 فیصد مرکزی اعانت سے کام شروع کیا گیا۔ اسکیم پر عمل سے حاصل ہونے والی معلومات اور تجربات کی بنیاد پر، اسے مزید موثر بنانے کے لئے اس پر نظر ثانی کی گئی ہے جس پر عمل 17.09.2019 سے ہوتا آرہا ہے۔

 

وہ خواتین جو جسم فروشی اور انسانی اسمگلنگ کا شکار ہوتی ہیں وزارت کی اجولا اسکیم کے تحت آتی ہیں۔

منجملہ اور باتوں کے ساتھ اس اسکیم کے تحت بنیادی سہولیات/ضروریات جیسے کہ رہائش، خوراک، کپڑے، طبی علاج بشمول مشاورت، قانونی امداد اور پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے بحالی کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں اور متاثرین کو پھر سے خاندان اور معاشرے کا حصہ بننے میں سہولت فراہم کرتی ہے۔

 

یہ معلومات خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر محترمہ اسمرتی زوبین ایرانی نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

***

ش ح۔ ع س ۔ ک ا

U 1192


(ریلیز آئی ڈی: 1795850) وزیٹر کاؤنٹر : 355
یہ ریلیز پڑھیں: English