خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
یتیم /سڑک پر رہنے والے بچوں کی باز آباد کاری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 FEB 2022 4:25PM by PIB Delhi
نئی دہلی،4فروری 2022۔
عزت مآب وزیراعظم نے ان بچوں کی مدد کے لئے پی ایم کیئر فار چلڈرن اسکیم کا اعلان کیا ہے جو کووڈ-19 وبائی اامراض کی وجہ سے اپنے والدین یا زندہ بچ جانے والے والدین یا قانونی سرپرست یا گود لینے والے والدین دونوں کو کھو چکےہیں۔ اسکیم ایک آن لائن پورٹل یعنی pmcaresforchildren.in. کے ذریعہ قابل رسائی ہے۔ ایسے بچوں کی درخواستیں متعلقہ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کے ذریعہ پورٹل پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ 3فروری 2022 تک پورٹل پر 6654 درخواستیں اپ لوڈ کی گئی ہیں جن میں سے 3890 درخواستیں مقررہ عمل (پروسیس) کے مطابق منظور کی گئی ہیں۔
مزیدبرآں جووینائل جسٹس (بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ) ایکٹ 2015 اور گود لینے کے ضوابط 2017 میں یتیم ، لاواث اور خودسپردگی کرنےوالے بچوں کی بحالی یا بازآباد کاری سے متعلق ایک فریم ورک موجود ہے۔ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی اور ڈسٹرٹک چائلڈ پروٹیکٹ یونٹ کو بچوں کی بحالی کا کام سونپا گیا ہے۔
وزارت ، مرکز کے ذریعہ اسپانسر شدہ اسکیم یعنی چائلڈ پروٹیکشن سروسیز (سی پی ایس ) اسکیم-مشن واتسالیا کو نافذ کررہی ہے جس کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کو دیکھ بھال کی ضرورت اور مشکل حالات میں زندگی بسرکررہے بچوں کے لئے خدمات فراہم کرنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔ سی پی ایس اسکیم کے تحت قائم چائلڈ کیئر انسٹی ٹیوشن(سی سی آئی) عمر کے لحاظ سے مناسب تعلیم ، پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی ، تفریح ، صحت کی دیکھ بھال مشاورت وغیرہ فراہم کرتے ہیں۔ اسکیم کے رہنما خطوط کے مطابق بچوں کی غیر ادارہ جاتی دیکھ بھال، کفالت اور تحفظ کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے 2 ہزار روپے فی بچہ ماہانہ اور چائلڈ کیئر انسٹی ٹیوشن میں رہنے والے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے 2160 روپے فی بچہ ماہانہ گرانٹ کا استعمال کیا جاتا ہے۔
جیسا کہ قومی کمیشن برائے بچوں کے حقوق کی حفاظت (این سی پی سی آر) کے ذریعہ مطلع کیا گیا ہے، اس نے سڑک پر زندگی گزارنے والے بچوں ، دیکھ بھال اور تحفظ کے لئے ایک معیاری آپریٹنگ نظام 2.0 تشکیل دیا ہے، جسے ریاستی حکومتوں کے تمام متعلقہ حکام، بچوں کے حقوق کے تحفظ ، ریاستی کمشنروں کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے لئے نافذ کرنے کے لئے کہا ہے۔
حکومت ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں قانونی او ر خدمات کی فراہمی کے ڈھانچے کے نیٹ ورک کے ذریعہ مشکل حالات میں زندگی بسر کرنےو الے بچوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے۔ اس کے علاوہ پوشن ابھیان کامقصد لائف سائیل اسپروچ کے ذریعہ، ہم آہنگی اور نتیجہ پر مبنی نقطہ نظر اپناکر تغذیہ اور غذائیت کی کمی کو مرحلہ وار اندز میں کم کرنا ہے۔ مزید برآں وبائی مرض کے دوران ، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی گئی تھی وہ آنگن واڑی کارکنا ن کے ذریعہ 15 دنوں ایک مرتبہ مستفدین یعنی بچوں، خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کی دہلیز پر (ڈور ٹو ڈور) خوراک کی اشیا اور تغذیہ بخش امداد تقسیم کریں ۔ تاکہ مسلسل غذائی امدا کو یقینی بنایا جاسکے۔
جے جے ایک 2015 کے مطابق سڑکوں پر زندگی بسر کرنے اور یتیم بچوں سمیت پریشان کن حالات میں بچوں چائلڈویلفیر کمیٹی کے سپرد کیاجاتا ہے تاکہ بچہ کی فوری ضرورت کا پتہ لگایاجاسکے اور ایسے بچوں کی بحالی کے لئے مناسب احکامات جاری کئے جاسکیں، یا تو بچوں کی نگہداشت کرنے والے اداروں کے ساتھ بحال کیا جائے /یا اسے ادارہ جاتی یا غیر ادارہ جاتی دیکھ بھال میں رکھا جائے۔
یہ معلومات خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر محترمہ اسمرتی زوبن ایرانی نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔
ش ح۔ ش ت۔ج
Uno-1137
(ریلیز آئی ڈی: 1795650)
وزیٹر کاؤنٹر : 142