جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ویٹ لینڈس کے تحفظ کے لئے لوگوں کی شرکت  اور جامع رسائی  کلیدی ہے : ڈی جی این ایم سی جی


ویٹ لینڈ کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ  ویبنار میں  ،پائیدار دریائی نظاموں  میں ویٹ لینڈس  کی اہمیت  پرزور دیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 FEB 2022 5:58PM by PIB Delhi

 

ویٹ لینڈ س کے عالمی دن کے موقع پر کلین  گنگا کے قومی مشن کے ڈائریکٹر جنرل جناب جی اشوک کمار نے آج ایک ویبنار کی صدارت کی ،جس کا موضوع  تھا:‘‘ ویٹ لینڈس  ،دریاؤں اور لوگوں کو منسلک کرتے ہوئے : چیلنجز ،تجربات اور مواقع’’  اس ویبنار کا انعقاد  مشترکہ طورپر این ایم سی جی اور ورلڈ وائیڈ  فنڈ  ( ڈبلیو ڈبلیو  ایف) نے کیا تھا۔ ویٹ لینڈ کا عالمی دن  ہر سال  عالمی  پیمانے  پر  2فروری  کو منایا جاتا ہے ،جس کا مقصد ویٹ لینڈس کے اس وسیع کردار کے بارے میں  آگاہی میں  اضافہ کرنا ہے، جو وہ لوگوں   اور کرہ ارض کے لئے ادا کرتے ہیں۔ 2فروری کو ،  1971 میں ایران کے شہر رام رامسر  میں  ویٹ لینڈس سے  متعلق کنونشن  کو اختیار کرنے کی تاریخ کے طورپر بھی  یادرکھا جاتا ہے۔ دو گھنٹے طویل اس اجلاس میں مختلف شراکت  دار ایک  جگہ  یکجا ہوئے ، جن میں  ماہرین اور پریکٹیشنر س   اس بات پر تبادلہ خیال کے لئے جمع ہوئے تھے کہ ویٹ لینڈ کو  کیوں اور کس طرح تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔

ویبنار کی پینل کی فہرست میں آئی آئی ٹی کانپور کے پروفیسر ڈاکٹر راجیو سنہا  ، ہندوستان کی جنگلاتی زندگی کے ا دارے کے  ریٹائر ڈ  پروفیسر ڈاکٹر وی سی چودھری  ،  ہندوستان کی آبی  فاؤنڈیشن کے صدر  ڈاکٹر اروند کمار  ،  اترپردیش میں  مالیاتی سکریٹری  جناب سنجے کمار ،ایف  ڈبلیو ایس  ،  ہندوستان کی جنگلاتی زندگی کے ادارے کی ڈین   ڈاکٹر روچی بڈولہ ، ویٹ لینڈس  ، بین الاقوامی جنوبی ایشیا کے  ڈائریکٹر ڈاکٹر رتیش کمار    ،  این ایم سی جی کے  سینئیر کنسلٹینٹ  جناب برجیش سکہ  اور  ڈبلیو ڈبلیو ایف  - ہندوستان  کےدریاؤں ،  ویٹ لینڈ  س اور   آبی  پالیسی کے ڈائریکٹر  جناب سریش  بابو  شامل ہیں۔

اس سال  ویٹ لینڈ س کے عالمی دن کا موضوع ہے: ‘‘عوام اور فطرت کے لئے ویٹ لینڈ س اقدامات ’’  جو کہ  ویٹ لینڈس  کے تحفظ کے لئے  اقدام کرنے  کا ایک نعرہ  ہے۔

این ایم سی جی کے ڈائریکٹر جنرل جناب جی اشوک کمار نے  اُن مربوط کاوشوں پر اظہار مسرت کیا ، جو منسلکہ  اداروں  کے ذریعہ ملک میں  مختلف  سمندری  نظاموں کو تحفظ فراہم  کرنے میں مدد کرنے کی جارہی ہیں۔مختلف  آبی نسلوں  کی  واپسی  اس  کامیابی کا ایک واضع عندیہ ہے  جو کہ اس طرح کی کوششوں کے  باعث حاصل کی گئی ہیں ۔  انہوں نے مزید کہا ‘‘ ویٹ لینڈس   ،فطرت کے انتہائی  حیرت انگیز  پہلو ہیں اور ہمارا مشن  نہ صرف  گنگا کے طاس کے ویٹ لینڈ س کو  بلکہ پورے ملک میں ویٹ لینڈس  کو  تحفظ فراہم کرانا ہے۔انہوں نے  زور دے کر کہا کہ عوام کی شرکت اوربیداری ویٹ لینڈ کو تحفظ فراہم کرانے کے لئے اہم اوربنیادی ہیں   اور یہ کہ عملی معلومات اور تجربات سے حاصل  جامع رسائی   ویٹ لینڈس کی بحالی کے سلسلے میں مثبت ماحصل  لاسکتی ہے۔

ڈاکٹر راجیو سنہا نے ‘ ویٹ لینڈ کنکٹوٹی   کی  نقشہ بندی  کے لئے کلیدی  رسائیاں  ’ سے متعلق ایک  پریذینٹیشن کی   اور  رام گنگا او ر  حیدر پور ویٹ لینڈس سے اسباق کا  مظاہرہ کیا۔  انہوں نے کہا کہ ویٹ لینڈس کی  بنیادی باتیں اور  اس کے  کام کاج کو  صرف اسی صورت میں سمجھا جاسکتا ہے جبکہ  ایک مربوط رسائی اپنائی جائے  اور اسے  موثر طور پر تحفظ فراہم کرنے کے لئے کچھ سفارشات کی جائیں۔ویٹ لینڈس کو تحفظ فراہم کرنے کے مقصد کے مختلف  اداروں   کے مابین  ایک بامقصدتال میل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے  ہندوستان کے آبی فاؤنڈیشن کے صدر  ڈاکٹر اروند کمار  نے  ‘ ایس  بی جی اہداف اور  حیاتیاتی  تنوع  کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے ویڈ لینڈس  ’  سے متعلق   ایک معلوماتی  پریذینٹیشن کی  ۔

حیدر پور ویٹ لینڈس  کے معاملے سے متعلق  ایک  پریذینٹیشن جناب سنجے کمار نے کی جو کہ حیدر پور ویٹ لینڈس کے معاملے کو رامسر سائٹس   میں  شامل کرنے  کے  معاملے کو تیار کرنے میں  کلیدی تھی ۔حیدرپور ویٹ لینڈس  وسطی ایشیائی فلائی وے   میں  انسان کی بنائی ہوئی سب سے بڑی ویٹ لینڈس میں سے ایک ہے۔ انہوں نے   ویٹ لینڈ کے تحفظ کثیر  محکمہ جاتی  اور کثیر صوبہ جاتی   تعاون   اور اجتماعی اقدامات کے بارے میں بات چیت کی ۔

ایف ڈبلیو ایس  وائلڈ لائف  انسٹی ٹیوٹ  آف انڈیا  کی ڈین  ڈاکٹر روچی بڈولہ نے  ویٹ لینڈ کی تجدید  نو سے متعلق این ایم سی جی  اقدامات سے حاصل تجربات کا ساجھا کیا ،جس میں  شہری اور  سیلاب کے  میدانی  ویٹ لینڈس  پر توجہ مرکوز کی  ۔ انسانیت کے فائدے کے لئے ویٹ لینڈس کو پائیداری کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتہائی زمینی سطح  پرعوام الناس میں بیداری   اور انسانی   کیپٹل میں سرمایہ  کاری ،  فطرت کے تحفظ  کے مختلف اقدامات  خاص  طور پرویٹ لینڈس کے کلیدی  پہلو رہے ہیں۔

ویٹ لینڈس  بین الاقوامی جنوبی ایشیا کے ڈائریکٹر  ڈاکٹر رتیش کمار نے   اترپردیش سے  تجربات سے  متعلق  ایک پریذینٹیشن کی ،جس میں دریائے گنگا کے ساتھ ساتھ سیلابی میدانی ویٹ لینڈس کے  تحفظ  پر توجہ مرکوز   کی ۔ انہوں نے  ویٹ لینڈ تحفظ  کے لئے   طاس  گیر رسائی   کی شمولیت کے ساتھ  ایک انتظامی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا اور  اس ضرورت پر زوردیا کہ  موجودہ  ریگولیٹری نظام کے تحت ایک  انتہائی منظم ادارہ جاتی طریقہ کار وضع کیا جانا چاہئے ۔ پینل تبادلے کے بعد، ناظرین کا تبادلے کا سلسلہ  ہوا ۔اس تقریب کے ایک حصے کے طور پر ویٹ لینڈس سے متعلق ایک دلچسپ کوئز کا اہتمام  کیا گیا۔

*************

ش ح۔اع ۔رم

U-1056


(ریلیز آئی ڈی: 1795064) وزیٹر کاؤنٹر : 181
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Telugu