وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

جناب سبھاس سرکار نے سب کی شمولیت والی تعلیم کے لیے معاون ٹکنالوجی اختراعی شوکیس سے خطاب کیا

Posted On: 17 JAN 2022 7:09PM by PIB Delhi

 

تعلیم کے وزیر مملکت جناب سبھاس سرکار نے آج اٹل اختراعی مشن، نیتی آیوگ کے اشتراک سے محکمہ اسکولی تعلیم اور خواندگی، وزارت تعلیم کے زیر اہتمام جامع تعلیم کے لیے معاون ٹیکنالوجی اختراعی نمائش سے خطاب کیا۔

جناب سبھاس سرکار نے  این ای پی- 2020 کی شقوں پر روشنی ڈالی۔ جو مساوی اورسب کی شمولیت والی تعلیم کو لازمی قرار دیتی ہے تاکہ ہر شہری کو خواب دیکھنے، ترقی کرنے اور قوم کی ترقی میں حصہ داری کا مساوی موقع ملے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول اور اسکول کمپلیکس تمام بچوں کو خصوصی ضروریات(سی ڈبلیو ایس این) رہائش فراہم کرنے کے لیے اور کلاسوں میں ان کی مکمل شرکت اور شمولیت کو یقینی بناتے ہوئے، ان کی ضروریات کے مطابق بنائے گئے معاون میکانزم  کے لئے کام کر رہے ہیں ۔

معاون ٹیک اسپیس میں اختراع  کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے چیف اختراعی افسر ڈاکٹر ابھے جیرے، اے آئی سی ٹی ای نے نصابی کتب کو بھارتیہ  اشاروں کی زبان (آئی ایس ایل) میں تبدیل کرنے پروان چڑھانے اور ایکسلریشن مدد کے ذریعے معاون ٹیکنالوجی کی اختراعات کو آگے بڑھانے کے لیے وزارت کے اختراعی ایکو نظام کا ذکر کیا۔

سوشل الفا کے بانی جناب منوج کمار نے اس بات کو اجاگر کیا کہ تعلیم کے لیے معاون ٹیکنالوجی کو نہ صرف ایک سماجی منصوبے کے طور پر سمجھا جانا چاہیے بلکہ اس کا اپنا ایک ٹھوس کاروباری ماڈل ہے اور اسے مزید تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر  اظہار خیال کرتے ہوئے ہیڈ آف اسسٹیو ٹیکنالوجی، میڈیکل ڈیوائسز اینڈ ڈائیگناسٹک  کے سربراہ  جناب چپل خاصنابیس، ، ڈبلیو ایچ او نے معاون ٹیکنالوجی تک  رسائی اور عالمی بہترین طریقوں پر روشنی ڈالی کہ کس طرح صحیح معنوں میں سب کی شمولیت والا بھارت بن سکتا ہے۔

 اس  تقریب کی خاص بات 12 اسٹارٹ اپس کی جانب سے  کی گئی پیشکش تھی، جس میں ایپلی کیشنز یا ڈیوائسز کی شکل میں سرفہرست حل پیش کئے گئے تھے جو ہندوستان کے نوجوان کاروباری ذہنوں نے تخلیق کیے ہیں۔ یہ نوجوان ذہن فرنٹیئر ٹیکنالوجیز جیسے کہ اے آئی  کا فائدہ اٹھا رہے ہیں تاکہ ان بچوں کے سیکھنے میں مدد کے لیے سماجی طور پر متعلقہ حل فراہم کیے جا سکیں جو مختلف معذوریوں جیسے کہ قدرتی طور پر ماؤف ذہن ،پڑھنے کی اہلیت میں کمی ، سماعت اور گویائی کی خرابی کے شکار ، بصارت کی خرابی، دماغی فالج وغیرہ کے شکار بچے شامل ہیں۔

اس تقریب میں اسکولوں کے نوجوان اختراع کاروں کی اختراعات کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ اٹل ٹنکرنگ لیبز کے بچوں نے اپنی اختراعات پیش کیں جن میں اختراعی ڈیوائس سے لے کر اشاروں کی زبان کو تقریر میں ایک ایسے آلے میں تبدیل کیا گیا جو کسی بھی کتاب یا اخبار میں چھپی ہوئی تحریر کو اسکین کرکے آڈیو کلپ میں تبدیل کرتا ہے۔

آئی آئی ٹی دہلی کے پروفیسر پی وی ایم راؤ کے زیر انتظام پروفیسر انوپم باسو، این آئی ٹی، درگاپور، پروفیسر انیل پربھاکر اور پروفیسر سجاتا، آئی آئی ٹی مدراس پر مشتمل ایک پینل نے سب کی شمولیت والی تعلیم کے لیے ضروری تحقیق اور اختراعات اور شراکت داری کے بارے میں منعقد اس بحث میں حصہ لیا۔ پروفیسر راؤ نے معاون آلات میں تحقیق کے فروغ اور نصاب میں اس کی شمولیت کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی ۔ انہوں نے امتحانات اور جائزوں میں لچک کی ضرورت اور سب کی شمولیت والی تعلیم کے لیے مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھنے کی ضرورت پر بھی بات کی۔ پروفیسر پربھاکر نے اپنے  ان خدشات کا اظہار کیا کہ ایک ملک کے طور پر ہمارے پاس معاون ٹیکنالوجیز کے کئی حل ہیں، ہمیں پیمانے پر پہنچنے  اور حل کو قابل قبول بنانے کے لیے  عمل درآمد میں پیش آنے والی مشکلوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء کی ضروریات کا اندازہ لگانے کی ضرورت کے بارے میں بھی بات کی جو اس وقت اسکولوں میں زیرتعلیم ہیں۔ پروفیسر سجاتا نے معاون آلات کے منظر نامے کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ جہاں حل  ایک طرف کم ٹیک اور کم لاگت والے آلات کے ساتھ، دوسری طرف ہائی ٹیک اور مہنگے معاون آلات  کے ساتھ اسپیکٹرم کے سِروں پر مرکوز ہیں ۔ آئی آئی ٹی مدراس کےآر2 -ڈی2 مرکز میں ہونے والی تحقیق نے سستی، بیداری، رسائی اور حل کی مناسبیت  جیسے  چیلنجزپر توجہ مرکوز کی ہے ۔

مشن ڈائریکٹر، اٹل  اختراعی مشن  کے ڈائریکٹر ڈاکٹر چنتن وشنو نے  اختراع کاروں کی  ستائش کی اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ تعلیم میں معاون ٹیکنالوجی کے لیے  اختراعی ایکو نظام کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے انکیوبیشن سینٹرز اور کمیونٹی انوویشن سینٹرز کے اے آئی ایم کے اختراعی نیٹ ورک کے ذریعے تعاون پر زور دیا۔

،  تعلیم  کی وزارت میں ایڈیشنل سکریٹری جناب سنتوش سارنگی  نے تقریب کے اختتام پر معاون ٹیکنالوجی ایجادات کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے درپیش چیلنجوں اور آگے کے راستے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے حل کو بڑھانے اور ادارہ جاتی بنانے میں وزارت کے رول کو بھی  اجاگر کیا۔

اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے اور اختراعات کی نمائش کے لیے اس تقریب کااہتمام کیا گیا تھا۔ جس کا زبردست رد رعمل دیکھنے میں آیا ۔  تقریب کے ختم ہونے سے پہلے  ہی  یوٹیوب ناظرین کی تعداد 2+ لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

تعلیم  کی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری محترمہ ریتو سین  نے اختتامی کلمات کہے اور اختتامی نوٹ کے طور پر ملک کے دیہی اور دور دراز حصوں میں خصوصی ضرورتوں کے حامل بچوں کی جلد شناخت اور مدد کے لیے  طریقہ کار پر مبنی ٹیکنالوجی  کو بروئے کار لانےکے لئے کام جاری رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعلیم وزارت نے ان سٹارٹ اپس کے ساتھ مل کر میرٹ پر پروڈکٹ پائلٹ حاصل کرنے کے لیے کام کرے گی اور سیکٹرل چیلنجوں کو حل کرنے کے لیے آئندہ اسی طرح کی تقریبات کا اشارہ دیا۔

****************

(ش ح ۔ش ر۔رض )

U NO: 499


(Release ID: 1790664) Visitor Counter : 147


Read this release in: English , Hindi , Punjabi