قبائیلی امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اختتام سال کا جائزہ :قبائلی امورکی وزارت

قبائلی امورکی وزارت کی قابل ذکرپہل قدمیوں  کا کتابچہ

ہرسال 15نومبر کو جن جاتیہ گورودیوس کے طورپر منائے جانے کا اعلان

جناب نریندرمودی  نے آزادی   کا امرت مہوتسو کے حصے کے طورپر جن جاتیہ گورو دیوس کے موقع  پر 50نئے ای ایم آرایس   کا سنگ بنیاد رکھا

جھارکھنڈ میں بھگوان برسامنڈا قبائلی مجاہدین آزادی  میوزیم اورپارک کا افتتاح کیاگیا

مرکزی وزیرداخلہ  جناب امت شاہ نے منی پور میں لُوانگ کاؤگاؤں میں رانی  گائیڈن لیو قبائلی مجاہدین  آزادی میوزیم کا سنگ بنیاد رکھا

قبائلی برادریوں  میں کووڈ سے بچاؤ کے لئے ٹیکہ کاری کے عمل کی رفتار تیز کرنے کی غرض سے ‘‘کووڈ ٹیکہ  سنگ سرکشت ون ، دھن  اور اودّیم  ’’ مہم کاآغاز کیاگیا

قبائلی اسکولوں  میں یکسر تبدیلی لانے کی غرض سے بہت سی ڈجیٹل پہل قدمیاں کی گئیں

قبائلی امورکی وزارت نے ‘‘ ای –گورننس میں بہترین کارکردگی ’’ کے لئے باوقار  اسکوچ چیلنجر ایوارڈ اور اپنی پہل قدمیوں  کے لئے تین سونے کے تمغے حاصل کئے

قبائلی امورکی وزارت  نے 18ویں  س

Posted On: 31 DEC 2021 5:32PM by PIB Delhi

درج فہرست قبائل (ایس ٹی ) بھارت کی آبادی کے لگ بھگ 8.6 فیصد پرمشتمل ہیں ، ان کی آبادی تقریبا 10.4کروڑہے ۔ بھارت کے آئین کی دفعہ 342کے تحت  705درج فہرست قبائل کو مشتہرکیاگیاہے ۔ وزیراعظم جناب نریندرمودی کے ‘‘ سب کا ساتھ  ، سب کا وکاس ، سب کا وشواس ’’ ویژن کی پیروی کرتے ہوئے حکومت ہند نے قبائلی عوام  کی ترقی اور ان کے ورثے کی حفاظت  پرترجیحی بنیاد پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔

قبائلی امورکی وزارت  نے اس ویژن سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے اورقبائلی عوام کی فلاح وبہبود کے تئیں اپنے عزم مصمم  کے عین مطابق ، مالی وسائل کو مختص  کرنے میں اضافہ کرکے ، اپنی کوششوں  میں تال میل پیداکرکے اور وزارت کی منسوبہ بندی اور عمل درآمد سے متعلق ، نظام کو ازسرنومرتب کرکے شعبہ جاتی ترقی کو یقینی بنانے کے مقصد سے خود کو تیارکیاہے ۔

قبائلی امور کی وزارت کے بجٹ میں بھی اضافہ کرکے سال 22-2021میں 7484کروڑروپے کردیاگیاہے ، جب کہ  15-2014 میں محض  3850 کروڑروپے مختص کئے گئے تے ۔ اس اضافہ شدہ وسائل کی دستیابی کے سبب وزارت نے قبائلی برادریوں کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کی غرض سے اورزیادہ عزم کے ساتھ ترقی کا ایک نیا راستہ مرتب کیاہے ۔

 

سال 2021 کے دوران قبائلی  امورکی وزارت کی بڑی حصولیابیاں  درج ذیل ہیں

  • کابینہ نے 15نومبر  کو جن جاتیہ گورو دیوس کے طورپر منانے سے متعلق قرارداد کو منظوری دی

وزیراعظم جناب نریندرمودی کی قیادت   میں مرکزی کا بینہ نے 15نومبر کو جن جاتیہ گورو دیوس کے طورپر منانے سے متعلق  قرارداد  کو منظوری دی ۔ یہ دن  بہادرقبائلی مجاہدین آزادی  کی یادوں  سے منسوب ہے تاکہ آنے والی نسلیں  ملک کے لئے ان کی قربانیوں کے بارے میں جان سکیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001U6R1.jpg

مذکورہ تاریخ  جناب برسامنڈا کایوم پیدائش ہے ، جن میں ملک بھرکی قبائلی برادریاں بھگوان کی حیثیت سے مقدس مانتی ہیں ۔ سال 2016 کے یوم آزدی  کے موقع پر وزیراعظم  کی تقریر کی پیروی کرتے ہوئے ، حکومت ہند نے پورے ملک میں قبائلی مجاہدین آزادی کے دس میوزیموں کی تعمیر کی منظوری دی ہے ۔

 

  • وزیراعظم  کے ہاتھوں  جھارکھنڈ  میں بھگوان برسامنڈا میوزیم کا افتتاح

وزیراعظم  جناب نریندرمودی نے بھگوان برسامنڈا قبائلی مجاہدین آزادی  میوزیم اورپارک کاافتتاح کیا۔ ریاست کے شہریوں  اورقبائلی معاشرے کو مبارکباد دیتے ہوئے ، وزیراعظم  ، جناب مودی نے برسامنڈا میموریم ادیا ن اور میوزیم کو قوم کے نام وقف کیا۔ اس مقام  کے برسامنڈا کا 25فٹ  بلند مجسمہ نصب کیاگیاہے ۔ مذکورہ پروجیکٹ ، جھارکھنڈ سرکارکے اشتراک کے ساتھ تعمیر کیاگیاہے ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002S7XN.jpg https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0038458.jpg

یہ میوزیم اس جدوجہد کو اجاگرکرتاہے جو قبائلی لوگوں نے اپنے جنگلات  ، زمینی حقوق ، اپنی ثقافت کے تحفظ کے لئے  کی تھی۔ اس میوزیم میں ان کی جانبازی  اور قربانیوں  کی نمائش کی گئی ہے جو کہ تعمیر قوم  کے لئے لازمی حیثیت رکھتی ہے ۔

 

  • وزیراعظم  جناب نریندرمودی  نے آزادی کا امرت مہوتسوکے حصے کے طورپر جن جاتیہ گورو دیوس کے موقع  پر 50نئے ایکلوویہ ماڈل رہائشی اسکولوں کا سنگ بنیاد رکھا

جن جاتیہ گورو دیوس کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندرمودی نے 7ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام ایک  علاقے کے 27ضلعوں  میں 50 نئے ایکلوویہ  ماڈل  رہائشی  اسکولوں (ای ایم آرس ) کی تعمیر کے لئے سنگ بنیاد رکھا۔ انھوں نے بھوپال میں آزادی کا امرت مہوتسو  منانے کی ایک تقریب کے دوران ورچوئل طریقے سے یہ سنگ بنیاد رکھا۔قبائلی امور کی وزارت  قبائلی برادریوں  کی فلاح وبہبود کی سمت مسلسل کوششیں کررہی ہے اور اس سلسلے میں کئے جانے والے اقدامات کے کلیدی شعبوں میں تعلیم کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔حال ہی میں سنگ بنیاد رکھے جانے کی تقریب قبائلی طلباء  کے لئے ایک طاقتور  وسیلے کے طورپر منافع بخش  تعلیم فراہم کرنے سے متعلق  وزارت کے جذب کی عکاسی ہوتی ہے تاکہ ان کی مستقبل کی کامیابیوں اور حصولیابیوں کے لئے راہ ہموار کی جاسکے ۔

 

  • وزیرجناب ارجن منڈا اوروزیرمملکت جناب بشیشورتودو نے جھارکھنڈ اوراڈیشہ میں 11ای ایم آرایس کا سنگ  بنیاد رکھا

جناب ارجن منڈااور وزیرمملکت جناب بشیشور تودونے جولائی اورستمبر  2021کے دوران 11ای ایم آرایس کا سنگ بنیاد رکھا۔ 2021کےدوران  کل 84ای ایم آرایس  کے سنگ بنیاد رکھے گئے ، ان میں سے 50ای ایم آرایس کا سنگ بنیاد وزیر اعظم  جناب نریندرمودی نے رکھاہے ۔ کل 27 ای ایم آرایس  کا سنگ  بنادی قبائلی امورکے وزیرجناب ارجن منڈا اور وزیرمملکت جناب بشیشور تودو نے رکھاہے ۔ ان کے علاوہ 7ای ایم آرایس کے سنگھ بنیاد ریاستی وزراء نے رکھے ہیں ۔

کل 639ای ایم آرایس  کی منظوری دی گئی ہے ، ان میں پرانی اسکیم کے تحت 288اورنئی اسکیم کے تحت 351 ای ایم آرایس  شامل ہیں ۔ پورے ملک میں  367ای ایم آرایس  فعال  ہیں ، جن میں لگ بھگ 85232طلباء  فی الحال زیرتعلیم ہیں ۔ ان کے علاوہ 173ای ایم آریس  زیرتعمیر ہیں ، ان میں سے 66پرانی اسکیم میں اور107 نئی اسکیم میں ہیں ۔

ان اسکولوں میں نوودیہ ودیالیہ اسکول  کے معیارکے مطابق تعلیم فراہم کرنے کی بات  کہی گئی ہے ۔ قبائلی طلباء  کے لئے قومی تعلیمی سوسائٹی  (این ای ایس ٹی ایس ) ، قبائلی امور کی وزارت  کے تحت ایک خود مختار ادارے کی حیثیت سے ، مذکورہ اسکولوں کو مجموعی امداد اور پالیسی ہدایات فراہم کرنے کی غرض سے قائم کی گئی ہے ۔ تاکہ اسکولوں کے انتظامات  میں یکسانیت لائی جاسکے ۔ ریاست اورمرکز کے زیرانتظام کی سطح پر ریاستی / مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی ای ایم آرایس سوسائٹیاں، اسکولوں کے روزمرہ کے انتظام اوربندوبست کے لئے قائم کی گئی ہیں ۔

 

  • قبائلی امور کی وزارت  نے جن جاتیہ گورو سپتاہ  کا انعقاد کیا

حکومت ہند نے بھگوان  برسامنڈا  کے یوم پیدائش  15نومبر کو  ‘‘جن جاتیہ گورو دیوس ’’  کے طورپر منانے کا اعلان کیاہے ۔ یہ قدم  قبائلی مجاہدین آزادی کی قربانیوں  اور گراں قدر تعاون کو خراج عقیدت  پیش کرنے اور ثقافتی ورثہ  محفوظ رکھنے اور جانبازی ، بہادر ی ، مہمان نوازی  اورقومی وقار  سے متعلق بھارتی اقدار کو فروغ دینے کی غرض سے اٹھاگیاہے ۔

آزادی کا امرت مہوتسو  کی ہفتہ طویل تقریبات کے دوران اس علامتی ہفتے کو منانے کے لئے ملک کے مختلف  حصوں میں 15نومبر سے 22نومبر تک 125سے زیادہ تقریبات اور سرگرمیوں کاانعقاد کیاگیا، تاکہ ان گمنام عظیم سورماؤں کو یاد کیاجاسکے ، جنھوں نے اپنی جانوں  کا نذرانہ پیش کیا اور قوم کی تعمیر میں گراں  قدرتعاون کیا۔

 

  • مرکزی وزیرداخلہ جناب امت شاہ نے منی پور میں لوانگ کاؤ گاؤں میں رانی گائیڈن لیو قبائلی مجاہدین آزادی میوزیم  کا سنگ بنیاد رکھا

داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے منی پورکے تامینگ لونگ ضلع  کے لوانگ کاؤگاؤں  میں رانی گائیڈن لیو قبائلی مجاہدین آزادی  میوزیم کی سنگ بنیاد رکھا۔ اس میوزیم سے ملک کے نوجوانوں  کو ترغیب  حاصل ہوگی کہ وہ آزادی کی جدوجہد  کے جذبے کو حقیقی  کی شکل دینے کے علاوہ قوم کے لئے اپنی خدمت  کووقف کردیں ۔

اس موقع پرایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے کہاکہ ملک کو برطانیہ سے آزادی حاصل کئےہوئے 75سال ہورہے ہیں اورملک نے 25سال بعد اپنی آزادی  کے 100 سال منانے کے دوران ایک عالمی طاقت بننے کا عزم مصمم  کیاہے ۔

مرکزی وزیرداخلہ  نے رانی گائیڈن لیو کی حیات اور قربانیوں کا بھی ذکرکیا، جنھوں نے شروع عمرسے ہی اپنے عوام کو برطانیہ کے تسلط سے آزاد کرنے کے لئے سخت  جدوجہد کی تھی ۔ منی پوراور شمال مشرقی خطے کے دیگر مجاہدین آزادی کا ذکرکرتے ہوئے مرکزی وزیرداخلہ نے حاضرین کو مرکزی  حکومت کے اس  فیصلے کی بھی یاد دہانی کرائی ، جس کے تحت  انڈمان اورنکوبار  جزائر میں تیسرے سب سے بلندترین پہاڑ  ماؤنٹ  ہیرٹیٹ کا ازسرنو نام رکھاگیاتھا۔ ان جزائر میں 1891 میں اینگلو –منی پور جنگ  کے بعد منی پور کے مہاراجہ کل چندرا سنگھ اور 22دیگر مجاہدین آزادی کو قید رکھاگیاتھا۔

 

  • قبائلی امور کی وزارت اورمائیکروسافٹ نے قبائلی اسکولوں  کو ڈجیٹل پرمبنی بنانے سے متعلق  ایک مشترکہ پہل کے سلسلے میں ایک مفاہمت نامہ پردستخط کئے

اس اشتراک کے تحت مصنوعی ذہانت سمیت اگلے سلسلے کی ڈجیٹل ٹیکنولوجیز میں اساتذہ اور طلباء کو صلاحیت فراہم کی جائے گی۔ قبائلی امورکی وزارت  نے ، ایک برمبنی شمولت اور ہنرمدی پرمبنی معیشت  تیارکرنے کے ویژن کے ساتھ ، مائیکر وسافٹ  کے ساتھ ایک مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم اویو) کو منسلک کیاہے ۔ اس کامقصد وزارت کے تحت ، اسکولوں  کو ، ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آرایس ) اورآشرم  اسکولوں  کی طرز پر ڈجیٹل پرمبنی بنانے میں مدد فراہم کرناہے ۔ کامیابی کے لئے نوجوانوں کو بااختیاربنانے کے موضوع  پرایک آن لائن تقریب کے موقع  پریہ دستخط کئے گئے تھے ۔  مثب عمل سے متعلق  پہل کے تحت ، مائیکرو سافٹ ، قبائلی امورکی وزارت کے تحت تمام ای ایم آرایس اسکولوں میں قبائلی طلباء  کو انگریزی اورہندی دونوں زبانوں  میں مصنوعی  ذہانت سے متعلق ایک نصاب دستیاب کرائے گا۔ تاکہ مصنوعی ذہانت  سمیت اگلے سلسلے کی ٹیکنولوجیز  میں معلمین اورطلباء کو صلاحیت سازی کی جاسکے ۔

اس پروگرام کے تحت ، پہلے مرحلے میں ، مائیکر وسافٹ 250ای ایم آرایس اسکولوں کو گود لے گا ان میں سے 50 ای ایم آرایس اسکولوں  کی خصوصی  تربیت فراہم کی گئی ہے جب کہ 500ماسٹرٹرینرس  یا تربیت فراہم کرنے والوں کی تربیت کی گئی ۔

 

  • قبائلی امورکی وزارت  اورسی بی ایس ای نے ای ایم آرایس  اور سی بی ایس ای اساتذہ کے لئے اکیسویں صدی کے لئے تجرباتی آموزش کے موضوع  پرآن لائن سرٹیفکیٹ  کورس کا مشترکہ طورپر آغاز کیا

آزادی کا امرت مہوتسو تقریبات  کے حصے کے طورپر قبائلی امور کی وزارت  میں سکریٹری جناب انل کمارجھااور سی بی ایس سی کے چیئرمین جناب منوج آہوجہ   نے سی بی ایس سی  اور ایکلوویہ ماڈل  رہائشی  اسکولوں ( ای ایم آرایس ) کے معلمین کے لئے اکیسویں  صدی کے لئے تجرباتی آموزش کے موضوع  پر ایک سرٹیفکیٹ کورس کا مشترکہ طورپر آغاز کیا۔ یہ کورس ٹاٹاٹرسٹ ، سی ای ٹی ای ، ٹی آئی ایس ایس ( ٹاٹاانسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز ) ممبئی اور ایم جی آئی ایس ( مہاتماگاندھی بین الاقوامی اسکول ) احمدآباد کے اشتراک کے ساتھ شروع کیاگیاہے ۔

یہ پروگرام 6ریاستوں  میں 350 معلمین  کے لئے متعین کیاگیا تھا اوراس تقریب میں قبائلی امورکی وزارت  کے تحت ایک خود مختارتنظیم، قبائلی طلباء کے لئے  قومی تعلیمی سوسائٹی (این ای ایس ٹی ایس ) کے کمشنر جناب است گوپال نے شرکت کی ۔ ان کے علاوہ قبائلی امور کی وزارت میں جوائنٹ  سکریٹری ڈاکٹر نول جیت کپور ، اورٹاٹاٹرسٹ کے جناب آرپوتراکماربھی اس موقع پر موجودتھے ۔

 

  • قبائلی امور کی وزارت اور این سی ای آرٹی  نے ای ایم آرایس اساتذہ اور پرنسپل صاحبان کے لئے نشٹھا صلاحیت سازی سے متعلق پروگرام کے لئے سمجھوتہ کیا

قبائلی امور کی وزارت  (ایم اوٹی اے ) کے دیرینہ  ویژن  کو پوراکرنے  اورایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں  (ای ایم آرایس ) میں تعلیمی مہارت حاصل کرنے کی غرض سے ، 3ریاستوں کے 120ای ایم آرایس اساتذہ اورپرنسپل صاحبان نے اسکولوں کے سربراہان اور اساتذہ   کی مجموعی پیش رفت سے متعلق پروگرام  کے لئے قومی پہل –نشٹھا کی 40روزہ تربیت مکمل  کرلی ہے ۔ 19جون ، 2021 ک منعقدہ این سی ای آرٹی کا یہ ایک قومی سطح کا ایک اہم پروگرام تھا۔ صلاحیت  سازی پروگرام  کا مقصد ، اسا تذہ   او ر پرنسپل صاحبان  میں مطلوبہ استعداد پیداکرنا ، اوراس کے ساتھ ہی اساتذہ کی مربوط تربیت کے ذریعہ اسکولی تعلیم کے معیار میں سدھار لاناہے ۔

قبائلی امورکی وزارت نے تعلیمی تحقیق اورتربیت سے متعلق قومی کاؤنسل (این سی ای آرٹی ) کے ساتھ حال ہی میں اشتراک کیاہے اورپورے بھارت میں 350 فعال ای ایم آرایس اسکولوں  میں اسی نوعیت  کے مختلف پروگراموں  کا انعقاد کیاہے ۔

 

  • ایکلوویہ ماڈل رہائشی اسکول ، چھیتس گڑھ  کے انگریزی کے  لیکچررجناب پرمود کمارشکلا  نے یوم اساتذہ کے موقع پر صدر جمہوریہ جناب  رام ناتھ کووند کے ہاتھوں  نیشنل ایوارڈ فارٹیچر س -2021 حاصل کیا

عزت مآب صدرجمہوریہ جناب رامناتھ کووند  نے 5ستمبر ، 2021 کو یوم اساتذہ کے موقع  پرپورے ملک سے منتخب  کئے گئے 44باصلاحیت  اساتذہ کو نیشنل ٹیچر ایوارڈس سے نوازا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004GM0A.jpg

چھتیس گڑھ  میں بسترڈویژن میں کرپاوند کے ایکلوویہ ماڈل رہائشی اسکول ( ای ایم آرایس ) کے انگریزی  کے لیکچرر جناب پرمود کمارشکلا کو بھی اس ایوارڈسے سرفراز کیاگیا۔ یہ ای ایم آرایس  اساتذہ کو دیاجاے والا  مسلسل دوسرا ایوارڈ ہے اورقبائلی امورکی وزارت  کے تحت  قائم کئے گئے ایکلوویہ  ماڈل رہائشی اسکولوں کے لئے یہ  خصوصی اہمیت کا حامل ہے ۔

اس سے پہلے اتراکھنڈ میں دہرہ دون میں کلسی کے مقام پر ای ایم آرایس  اسکول  کی وائس پرنسپل محترمہ شدھ پینولی کو سال 2020 میں اس ایوارڈ سے نوازاگیاتھا ۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020کے نفاذ کے بعد ، ایسا باورکیاجاتاہے کہ اب اساتذہ پرزیادہ توجہ مرکوز کی جائیگی  کیونکہ ان کو مرکزی حیثیت  حاصل ہے اور این ای پی سفارشات  پرعمل درآمد کی غرض سے اساتذہ کو بااختیار بنایاجائے گا۔ یہ ای ایم آرایس اسکولوں کے پہلوؤں میں تبدیلی لانے سے براہ راست  اشاروں کی حیثیت  رکھتے ہیں ۔ یہ اسکول  تربیتی  یافتہ ، باصلاحیت  اورپرعزم اساتذہ کی ایماپرقبائلی طلباء کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی مقصد سے قائم کئے گئے ہیں ۔

2022-2021 کے دوران 35.2 لاکھ قبائلی طلباء کے درمیان ڈی بی ٹی کے ذریعے پری اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپس تقسیم کی گئی۔

 وزارت نے  2021 کے دوران کورونا وائرس وبائی صورتحال کے درمیان تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر کے ذریعے پری اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت 35.2 لاکھ قبائلی طلباء کے درمیان 2500 کروڑ روپے کی رقم تقسیم کی۔ اس سلسلے میں ریاست کے پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکیموں کے پورٹل کو ڈی بی ٹی ٹرائبل پورٹل اور ڈی بی ٹی بھارت پورٹل کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ اس اسکیم میں 331 یونیورسٹیوں کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ طالب علم کی تفصیلات کی شناخت اور تصدیق کے لیے طلبہ کی آن لائن تصدیق کا عمل شروع کیا گیا ہے۔

پری/پوسٹ میٹرک، نیشنل فیلوشپ اور اسکالرشپ، اور نیشنل اوورسیز اسکالرشپ کے لیے کل بجٹ کا تخمینہ  2013 کے پچھلے بجٹ سے بڑھا کر2021 میں 2546 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔ 32,08,154 سے زیادہ طلباء ان اسکالرشپس سے مستفید ہوئے اور کاغذ پر مبنی ایپلیکیشن سے ڈیٹا بیسڈ ایپلی کیشن میں منتقل کرنے  کے ساتھ ساتھ اسکالرشپ کے اجراء کی مدت کو کم کرنے کے لئے اس اسکیم کے نفاذ کا طریقہ مکمل طور پر آن لائن رہا۔

مرکزی وزیر تعلیم اور قبائلی امور کے مرکزی وزیر نے مشترکہ طور پر اسکول انوویشن ایمبیسیڈر ٹریننگ پروگرام کا آغاز کیا

مرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان اور قبائلی امور کے مرکزی وزیر جناب ارجن منڈا نے مشترکہ طور پر 50,000 اسکول اساتذہ کے لیے ‘اسکول انوویشن ایمبیسیڈر ٹریننگ پروگرام’  کا آغاز کیا۔ اس کا مقصد 50,000 اسکول ٹیچرز کو اختراع ، کاروباریت، آئی پی آر، ڈیزائن تھنکنگ، مصنوعات کی ترقی ، نظریات کی تخلیق ، وغیرہ کے بارے میں تربیت دینا ہے۔

قبائلی امور کی وزارت نے ‘‘ای گورننس میں بہترین کارکردگی’’ کے لیے ممتاز ایس کے او سی ایچ چیلنجر ایوارڈ اور اپنے  اقدامات کے لیے 3 گولڈ ایوارڈز حاصل کیے

قبائلی امور کی وزارت(ایم او ٹی اے) کو آج اپنے 20+ آن لائن پورٹلز پر گزشتہ سال جاری کردہ اپنی لاگو سکیموں کی تازہ ترین معلومات کے ساتھ ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور ڈیجیٹل ٹرانسپیرنسی جیسے مختلف اقدامات کے لیے انتہائی پرکشش ‘‘ ایس کے او سی ایچ چیلنجر ایوارڈ’’ – ‘‘ای-گورننس میں بہترین کارکردگی’’ ملا۔  یہ ایوارڈ مرکزی وزیر برائے قبائلی امور جناب ارجن منڈا نے ورچوئل اسکوچ چوٹی کانفرنس میں وصول کیا۔

 

وزارت کو اس کے اقدامات کے لیے 3 گولڈ ایوارڈز بھی ملے جن میں ‘‘آئس استوپس کا استعمال کرتے ہوئے پانی کے انتظام میں اختراعی ڈیزائن کے ذریعے قبائلی دیہاتوں کی ماحولیاتی بحالی’’، سواستھیا: قبائلی صحت اور غذائیت سے متعلق پورٹل اور پرفارمنس ڈیش بورڈ ‘‘امپاورنگ ٹرائبلز ٹرانسفارمنگ انڈیا’’ شامل ہیں۔ وزارت کی جانب سے ڈاکٹر نوال جیت کپور، جوائنٹ سکریٹری نے یہ ایوارڈ حاصل کئے۔

قبائلی امور کی وزارت نے 18ویں سی ایس آئی ایس آئی جی ای گورننس ایوارڈز 2020 میں توصیفی ایوارڈ حاصل کیا

قبائلی امور کی وزارت نے 18ویں سی ایس آئی ایس آئی جی ای-گورنمنٹ ایوارڈز 2020 میں پراجیکٹ کیٹیگری-مرکزی حکومت کے ادارے میں پرفارمنس ڈیش بورڈ ایمپاورنگ ٹرائبلس ٹرانسفارمنگ انڈیا کو مختلف آئی سی ٹی اقدامات کے ذریعے بااختیار بنانے کا اعزازی ایوارڈ حاصل کیا۔ یہ ایوارڈ قبائلی امور کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر نوالجیت کپور نے لکھنؤ میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے وصول کیا۔

ورکشا بندھن پروجیکٹ کے تحت قبائلی خواتین دیسی درختوں کے بیجوں سے راکھیاں بنا رہی ہیں۔

آرٹ آف لیونگ فاؤنڈیشن، اورنگ آباد، اور مہاراشٹر کے ساتھ شراکت میں قبائلی امور کی وزارت کی ایک منفرد پہل میں ورکشا بندھن پروجیکٹ کا آغاز کیا گیا جہاں 1100 قبائلی خواتین نے دیسی درختوں کے بیجوں سے رکھشا بندھن کے لیے راکھیاں بنائیں، جو کہ جنگلات کے رقبے کو بڑھانے  اور  موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنےمیں ایک منفرد تعاون ہے۔

راکھیاں دیسی بیجوں سے بنی تھیں جو قدرتی طور پر رنگے ہوئے، نرم دیسی، غیر زہریلے، بایوڈیگریڈیبل کپاس پر لگے ہوئے تھے۔ ایک بار استعمال کرنے کے بعد، بیج مٹی میں بویا جا سکتا ہے، اس طرح ماحول کو فائدہ ہوتا ہے۔ توقع ہے کہ اس منصوبے کے تحت ہزاروں درخت لگائے جائیں گے اور اس منصوبے سے منسلک قبائلی خواتین کو روزگار ملے گا۔

قبائلی امور کی وزارت اور ایمس نے پوشن ماہ کے ایک حصے کے طور پر  صحیح پوشن- دیش روشن کے مشن کے لیے این جی اوز کے لیے ورکشاپ کا اہتمام کیا۔

09 ستمبر 2021 کو قبائلی امور کی وزارت نے پوشن مہ کی سرگرمیوں کے ایک حصے کے طور پر غذائیت اور صحت سے متعلق غیر سرکاری تنظیموں کے لیے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ کا مقصد  صحیح  پوشن- دیش روشن کے مشن میں قبائلی امور کی وزارت کے ساتھ کام کرنے والی این جی اوز کو مضبوطی کے ساتھ ایک دوسرے سے جوڑنا تھا۔ ورکشاپ میں 70 سے زائد این جی اوز نے شرکت کی جو قبائلی علاقوں میں صحت کے شعبے میں کام کر رہی ہیں۔

قبائلی امور کی وزارت کے آزادی کا امرت مہوتسو ہفتہ کی تقریبات کے حصہ کے طور پر جنوبی ریاستوں کے 86 درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیات کو اعزاز سے نوازا گیا

قبائلی برادری کے درمیان انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے اور کامیاب کاروباریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے نیشنل شیڈول ٹرائب فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ٹی ایف ڈی سی) اور قبائلی امور کی وزارت، حکومت ہند کی طرف سے 22 نومبر 2021 کو  ٹی آر آئی سی او آر -آندھرا پردیش کے ساتھ مل کروشاکھاپٹنم میں ایک عظیم الشان تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

قبائلی امور کی وزارت نے قبائلی نوجوانوں میں قائدانہ خصوصیتوں اور صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔

جی او اے ایل (بطور لیڈر آن لائن ہوتے ہوئے) ڈیجیٹل طور پر فعال رہنمائی اور قبائلی نوجوانوں کو اپنی دلچسپی کے علاقے میں رہنما بننے کے لیے بااختیار بنانے کے لیے فیس بک کے ساتھ وزارت کا ایک مشترکہ اقدام ہے۔ جی او اے ایل اقدام کے ذریعے، صنعت، فنون، سیاست، کاروبار وغیرہ کے نامور افراد، جو اپنی قائدانہ صلاحیتوں یا کرداروں کے لیے مشہور ہیں، کو ڈیجیٹل میڈیم کے ذریعے قبائلی نوجوانوں کے ذاتی سرپرست  کی حیثیت سے  شامل کیا جاتا ہے۔ جی او اے ایل پروگرام نے اب تک 23 ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا احاطہ کیا ہے۔

قبائلی امور کی وزارت معروف تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوشش کرتی ہے: مائیکروسافٹ، آرٹ آف لیونگ فاؤنڈیشن، ٹاٹا فاؤنڈیشن، اور  ایس ای سی ایم او ایل  جیسے قبائل کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا جس کا مقصد کمیونٹی کی شرکت کے ساتھ پروجیکٹ کو آگے بڑھانا اور قبائلی نوجوانوں میں قیادت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اس کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔

پنچایتوں ( درج فہرست علاقوں  تک میں توسیع) ایکٹ، (پی ای ایس اے) 1996 کی دفعات پر ایک روزہ قومی کانفرنس پی ای ایس اے کی 25 ویں سالگرہ کا جشن  منانے کے لیے منعقد کی گئی۔

امرت مہوتسو کے موضوعات میں سے ایک ‘پورا حکومتی نقطہ نظر، اور ‘جن بھاگدااری، ہے۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے، قبائلی امور کی وزارت نے اس مدت کے دوران قومی اور ریاستی سطح پر کئی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی۔

پی ای ایس اے قبائلی برادریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم قانون ہے۔ ریاست کے عہدیداروں اور عوامی نمائندوں سے کہا گیا کہ وہ قبائلی علاقوں کا دورہ کریں اور عوامی سطح پر قبائلیوں کے مسائل کو سمجھیں۔ اجتماع کے دوران، اس بات پر زور دیا گیا کہ قبائلی برادریوں کی ثقافت کی حفاظت ایک ضروری اقدام ہے، تاکہ قبائلیوں کے ساتھ شفاف رویہ اختیار کیا جا سکے اور انہیں تیزی سے بدلتے ہوئے منظرناموں میں ترقی کی کرن دکھائی جائے۔ کئی ریاستوں میں اس راستے کی طرف پیش قدمی کی  کوششیں کی گئیں۔ مہاراشٹر میں پی ای ایس اے کے تحت مختلف مشقیں کی گئیں جس کے نتیجے میں قبائلیوں کو معاشی طور پر بااختیار بنایا گیا۔

دہلی ہاٹ، آئی این اے، نئی دہلی میں قومی آدی مہوتسو کا انعقاد – قبائلی ثقافت، دستکاری اور تجارت کا جشن

قومی آدی مہوتسو 1 سے 15 فروری 2021 تک دلّی ہاٹ،  آئی این اے، نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ اس  میلے میں قبائلی ثقافت کے کئی پہلوؤں کو پیش کیا گیا، جس میں بہت زیادہ  عوامی دلچسپی سامنے آئی اور پہلی بار میں بہت زیادہ  تعداد میں لوگ  میلہ دیکھنے آئے۔ یہ میلہ لوگوں کو  گراں مایہ  اور متنوع دستکاری ، ملک بھر میں قبائلی برادریوں کی ثقافت سے ایک ہی جگہ  میں روشناس کرانے کی کوشش تھی۔

پندرہ روزہ قومی قبائلی میلے میں ملک بھر کی 25 ریاستوں سے ہزاروں قبائلی کاریگروں، باورچیوں، فنکاروں اور ثقافتی گروہوں نے شرکت کی۔ گراں مایہ قبائلی ثقافت،  نایاب قبائلی دستکاریوں، ہینڈلوم اور قدرتی مصنوعات، قبائلی کھانوں کی شکلوں میں واضح تھی کیونکہ ان کی تقریباً 200 اسٹالز میں نمائش کی گئی تھی۔ آدی مہوتسو دہلی کے باشندوں کے دل جیتنے میں کامیاب رہا اور 15 دنوں میں زبردست پذیرائی اور فروخت ریکارڈ کی گئی ۔ اس میلے میں یہ  دیکھا گیا کہ قبائلی کاریگروں نے پچھلے پندرہ دن میں براہ راست فروخت کی شکل میں 4 کروڑ روپے کی مقدار درج کرائی۔ مزید برآں، ٹی آر آئی ایف ای ڈی کی طرف سے 8 کروڑ روپے کا پرچیز آرڈر دیا گیا تھا۔  جس سے اس تہوار میں حصہ لینے والے قبائلیوں کے لیے تجارتی لین دین میں 12 کروڑ روپے تک جاپہنچا۔ آدی مہوتسو پوری طرح سے قبائلی زندگی کی روح - دستکاری، ثقافت اور کھانوں کا جشن تھا۔

قبائل ہندوستان - آدی مہوتسو

 اس وقت جب کہ ہندوستان آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے، 16 نومبر سے 30 نومبر تک دہلی ہاٹ میں آدی مہوتسو کا اہتمام کیا گیا۔

 

ملک بھر سے 200 سے زیادہ اسٹالز اور تقریباً 1000 کاریگروں اور فنکاروں نے اپنی منفرد کہانیوں کے ساتھ حصہ لیا، آدی مہوتسو آدیواسیوں کو مرکزی دھارے میں لانے کا ایک طریقہ ہے۔ روایتی فن اور دستکاری، اور ملک کے ثقافتی ورثے کی نمائش کرتے ہوئے، یہ تہوار قبائلی کاریگروں کو بڑی منڈیوں سے جوڑتا ہے اور ہندوستان کے قبائل کے تنوع اور خوشحالی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

 

آدی مہوتسو ایک چھوٹا ہندوستان ہے جہاں قبائلی کاریگروں کی شاندار دستکاری کی روایات - بُنکر، کمہار، کٹھ پتلی کے فنکار اور کڑھائی کرنے والے، سبھی ایک جگہ پر جمع ہوگئے ہیں۔ پینٹنگز جیسے نوادرات کی ایک وسیع رینج کے ساتھ وہ وارلی انداز میں ہوں یا پٹاچتر، وانچو اور کونیاک قبائل سے لے کر جنوب کی مشہور توڈا کڑھائی تک ڈوکرا انداز میں ہاتھ سے تیار کردہ زیورات ، نکوبار جزائر کے تازہ ناریل کے تیل سے لے کر شمال مشرق کے کثیر ذائقہ والے نیوٹرا مشروبات تک، رنگ برنگی کٹھ پتلیوں اور بچوں کے کھلونوں سے لے کر روایتی بُننے جیسے ڈونگری شال، بوڈو بنی، راجستھان سے کوٹا ڈوریا؛ لوہے کے دستکاری سے لے کر بانس کے دستکاری اور گنے کے فرنیچر تک؛ مٹی کے برتن جیسے نیلے مٹی کے برتن اور منی پور کے لونگپی مٹی کے برتن جیسی دلکش اشیا کی نمائش کے ساتھ یہ میلہ احساسات کی تروتازگی کا ایک وسیلہ بنا ہوا ہے۔

قبائلی امور کے وزیر جناب ارجن منڈا نے ہندوستان میں آدیواسیوں میں کووڈ  ویکسینیشن کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے عملی طور پر ملک گیر مہم ‘‘کووڈ ٹیکہ سنگ سرکھشت   ون دھن اور ادویم’’ کا آغاز کیا۔

یہ مہم قبائلی کوآپریٹو مارکیٹنگ ڈیولپمنٹ فیڈریشن آف انڈیا(ٹرائیفیڈ) کے 45,000 وان دھن وکاس کیندروں (وی ڈی وی کے) سے فائدہ اٹھانے کے لیے شروع کی گئی تھی، جو کہ قبائلی امور کی وزارت، حکومت ہند کے انتظامی کنٹرول کے تحت کام کرنے والا ایک قومی سطح کا کوآپریٹو ادارہ ہے۔

قبائلی امور کی وزارت اور گوا حکومت مشترکہ طور پر تارکین وطن کارکنوں اور قبائلی مائیگرنٹ سیل کے لیے کل شرم شکتی ڈیجیٹل ڈیٹاسولیشن کا آغاز کریں گی

ایک اقدام کے تحت جس سے تارکین وطن کارکنوں کے لیے ریاستی اور قومی سطح کے پروگراموں کی ہموار تشکیل میں مدد ملے گی، مرکزی وزارت قبائلی امور (ایم او ٹی اے) نے ‘‘شرم شکتی’’،  ایک قومی مائیگریشن سپورٹ پورٹل اور شرم-ساتھی،  گوا میں مہاجر مزدوروں کے لئے ایک  تربیتی کتابچہ کا آغاز کیا اور مختلف ریاستوں سے گوا آنے والے تقریباً 4 لاکھ تارکین وطن کی سہولت اور مدد کے لیے، گوا کے وزیر اعلیٰ گوا میں ایک وقف شدہ مائیگریشن سیل بھی شروع کریں گے۔ ایم او ٹی اے نے گوا میں قبائلی تحقیقی ادارہ، قبائلی عجائب گھر، ون دھن کیندر اور قبائلی لوک اتسو کو بھی منظوری دی ہے۔

قبائلی امور کے وزیر جناب ارجن منڈا نے ایس ٹی پی آر آئی ممبران کے لیے ‘آدی پرشکشن پورٹل’ اور 3 روزہ آن لائن صلاحیت سازی پروگرام کا آغاز کیا

قبائلی امور کے عزت مآب مرکزی وزیر جناب ارجن منڈا نے ‘ آدی پریشکشن’ پورٹل کا آغاز کیا اور آزادی کا امرت مہوتسو کے ایک حصے کے طور پر‘‘ایس ٹی پی آر آئی اراکین کے لیے ماسٹر ٹرینرز کی صلاحیت سازی کی تربیت’’ پر تین روزہ تربیتی پروگرام کا افتتاح کیا۔ دہلی۔

 

وزارت کی طرف سے تیار کردہ آدی پرشکشن پورٹل، قبائلی تحقیقی اداروں(ٹی آر آئیز)، وزارت کے مختلف ڈویژنوں، قبائلی طلباء کی قومی تعلیم کے لیے سوسائٹی (این ای ایس ٹی ایس قبائلی امور کی وزارت اور قومی قبائلی تحقیقی ادارہ کے  فنڈ سے چلنے والے تمام تربیتی پروگراموں کے مرکزی ذخیرہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ ۔

قبائلی امور کی وزارت نے 19 جون، 2021 کو ورلڈ سکل سیل ڈسیز دے منانے کےلئے  ہندوستان میں سکل سیل کی بیماری پر دوسرے قومی کانکلیو کا اہتمام کیا، سکیل سیل کی بیماری کو ختم کرنے کے لیے انمکت پروجیکٹ کا آغاز کیا گیا۔

19 جون 2021 کو عالمی سکل سیل ڈیزیز ڈے منانے کے لیے، قبائلی امور کی وزارت (ایم او ٹی اے) نے فکی، نووارٹیس، پیرامل فاونڈیشن، اپولو ہسپتال ، ناسکو  اور گاسکوکے ساتھ شراکت میں سکل سیل ڈیسیز ان انڈیا' کے موضوع پر دوسرے آن لائن نیشنل کانکلیو کا انعقاد کیا۔ اس تقریب نے ہندوستان بھر میں سکل سیل بیماری کے ماہرین کے ایک گروپ کو اکٹھا کیا تاکہ سیکل سیل بیماری کے انتظام میں ابتدائی تشخیص سے لے کر جدید ترین ادویات اور اس بیماری کے علاج میں پیشرفت تک حالیہ پیشرفت پر غور کیا جا سکے -

 

شری ارجن منڈا، مرکزی وزیر اور رینوکا سنگھ سوتا نے جھارکھنڈ کے کھنٹی ضلع اور چھتیس گڑھ کے کانکیر میں ایس سی ڈی کی اسکریننگ اور بروقت انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے دو قبائلی اضلاع جہاں قبائلیوں میں سکیل سیل کی بیماری بہت زیادہ ہےانمکت پروجیکٹ کے تحت موبائل وین کو ہری جھنڈی دکھائی۔

قبائلی صحت کے تعاون پر مبنی‘انامایہ’: قبائلی صحت اور غذائیت کو بڑھانے کے لیے ایک ملٹی اسٹیک ہولڈر اقدام کا آغاز

انامایا، قبائلی صحت کے تعاون پر مبنی اقدام ، مرکزی وزیر صحت اور خاندانی بہبود ڈاکٹر ہرش وردھن اور قبائلی امور کے مرکزی وزیر جناب ارجن منڈا نے نئی دہلی میں ایک تقریب میں شروع کیا۔ تعاون قبائلی امور کی وزارت کا ایک ملٹی اسٹیک ہولڈر اقدام ہے جسے پیرامل فاؤنڈیشن اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن(بی ایم جی ایف) کی حمایت حاصل ہے۔ یہ ہندوستان کی قبائلی برادریوں کی صحت اور غذائیت کی  صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے مختلف سرکاری ایجنسیوں اور تنظیموں کی کوششوں کو یکجا کرے گا۔

ماحولیات اور قبائلی امور کی وزارتوں کے ذریعے دستخط شدہ جنگلات کے حقوق کے قانون کے زیادہ موثر نفاذ کے لیے مشترکہ کمیشن کے قیام پر دستخط کئے گئے۔

فارسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے 2006)،  جنگل میں رہنے والی قبائلی برادریوں اور دیگر روایتی جنگل میں رہنے والوں کے حقوق کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ کمیونٹیز مختلف ضروریات بشمول معاش، رہائش اور دیگر سماجی و ثقافتی ضروریات کے لیے جنگل کے وسائل پر منحصر ہیں۔

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت(ایم او ای ایف سی سی) کے سکریٹری جناب آر پی گپتا اور قبائلی امور کی وزارت کے سکریٹری جناب انیل کمار جھا نے وزیر ماحولیات ۔ جناب پرکاش جاوڈیکر اور قبائلی امور کے وزیر جناب ارجن منڈا کی موجودگی میں ایک ‘‘مشترکہ مواصلات’’ پر دستخط کئے

ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تمام چیف سکریٹریوں کے لئے قائم کیا گیا جوائنٹ کمیونیکیشن، فارسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے2006) کے زیادہ موثر نفاذ اور جنگل میں رہائش پذیر  درج فہرست قبائل (ایف ڈی ایس ٹیز) اور دیگر روایتی جنگلات کے باشندوں  (او ٹی ایف ڈیز)  کے ذریعہ معاش میں بہتری کے امکانات کو بروئے کار لانے سے متعلق ہے۔

 

قبائلی امور کے مرکزی وزیر جناب ارجن منڈا نے آزادی کا امرت مہوتسو کے ایک حصے کے طور پر قبائلی ثقافتی تحقیق اور تربیتی مشن (ٹی آر آئی ) آندھرا پردیش کے لیے نئی عمارت کا افتتاح کیا۔

قبائلی امور کے مرکزی وزیر، جناب ارجن منڈا؛ قبائلی امور کے ایم او ایس ، رینوکا سنگھ سروتا، اور نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر برائے قبائلی بہبود، آندھرا پردیش، محترمہ پمولا پشپا سری وانی جی نے 15 اگست 2021 کو آزادی کا امرت مہوتسو انڈیا @  75کے ایک حصے کے طور پر آندھرا پردیش کے قبائلی ثقافتی تحقیق اور تربیتی مشن(ٹی آر آئی) کے لیے نئی عمارت کے احاطے کا ورچوئل طور پر افتتاح کیا۔

کووڈ کے حالات کے دوران قبائلیوں کی روزی روٹی کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات

قبائلی امور کی وزارت نے ریاستی حکومتوں کو ‘ قبائلی ذیلی افراد کے لیے خصوصی مرکزی امداد(ایس سی اے برائے ٹی ایس ایس )’  ‘خاص طور پر کمزور قبائلی گروپس (پی وی ٹی جیز) کی ترقی’  اور ‘آرٹیکل 275(1) کے تحت ان کی تجاویز پر مبنی بہت سی سرگرمیاں انجام دینے کے لئے 2021-20 کے دوران فنڈز فراہم کیے، جن میں زراعت، باغبانی، مویشی پالنے، ماہی گیری اور دیگر غیر فارم پر مبنی روزی روٹی سرگرمیاں شامل ہیں، گرانٹس کی رقم  کے طور پر587.47 کروڑ روپے مختلف ریاستی حکومتوں کے ذریعہ معاش کی مختلف سرگرمیاں شروع کرنے کے لئے منظور/منظور کیے گئے تھے۔

مزید برآں  12355.43 کروڑ روپے کے فنڈز۔ 2021-20 اور 2022-21 کے دوران دیگر مرکزی وزارتوں / محکموں کے ذریعہ معاش سے متعلق اسکیموں کے تحت شیڈولڈ ٹرائب کمپوننٹ(ایس ٹی سی) کے طور پر فراہم کیے گئے ہیں۔

قبائلی مصنوعات/پیداوار کی ترقی اور مارکیٹنگ کے لیے ادارہ جاتی تعاون:

•        اسکیم کے تحت، ٹرائیفیڈ اپنے پورٹل www.tribesindia.com سے قبائلی مصنوعات کی ای کامرس فروخت کو فروغ دے رہا ہے اور تمام بڑے ای کامرس پورٹلز جیسے ایمزون، اسنیپ ڈیل، فلپ کارڈ، پے ٹی ایم اور جی ای پر بھی موجود ہے۔

•        ٹرائیفیڈ نے روپے کی آن لائن فروخت کی ہے۔ مالی سال 2021-20 میں 99.74 لاکھ۔ رواں مالی سال 2022-21 کے دوران، ٹرائیفیڈ نے 127.54 لاکھ روپے (30.11.2021 تک) کی فروخت کی ہے۔

•        ٹرائیفیڈ نے 30.10.2021 تک ملک بھر میں 145 آؤٹ لیٹس یعنی 97 اپنے سیلز آؤٹ لیٹس، کنسائنمنٹ سیل پر 33 آؤٹ لیٹس اور 15 فرنچائز آؤٹ لیٹس کا نیٹ ورک قائم کیا ہے۔

        31.10.2021 تک ٹرائیفیڈ کے ساتھ شامل سپلائرز/پروڈیوسرز کی کل تعداد 2915 ہے۔

        2019-20 کے دوران ٹرائیفیڈ کے ذریعے قبائلی مصنوعات کی فروخت –40.30 کروڑ روپے۔ ، 2021-20 –29.63 کروڑ روپے اور 2022-21میں  (30.10.2021 تک) –18.43 کروڑ روپے

•        کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) معمولی جنگلاتی پیداوار(ایم ایف پی) اسکیم کے لیے:

•        معمولی جنگلاتی پیداوار کے لیے ایم ایس پی میں اضافہ کیا گیا ہے۔

        2021-20 سے ایم ایف پی اسکیم کی فہرست کے لئے ایم ایس پی کے تحت 37 نئی اشیاء۔

•        ایم ایس پی اسکیم کے تحت ایم ایف پی کی تعداد 2021-20 کے دوران 50 سے بڑھ کر 87 ہوگئی۔

•        ریاستوں کے ذریعہ ایم ایف پی اسکیم کے لئے ایم ایس پی کے تحت حکومت ہند کے فنڈز سے ایم ایف پیز کی خریداری  اسکیم کے نفاذ کے بعد سے 317.89 کروڑ روپے ہے ۔

•        ون دھن وکاس کاریہ کرم:

        ’ایم ایف پی کے لیے ایم ایس پی‘ کی اسکیم کے تحت وان دھن وکاس کیندر کلسٹرس(وی ڈی وی کے سیز) مقامی طور پر دستیاب معمولی جنگلاتی پیداوار کے حصول کے ساتھ قدر میں اضافے کے لیے مشترکہ سہولت مراکز کے طور پر کام کرتے ہیں۔

•        گزشتہ تین سالوں میں 254.64 کروڑ روپے ون دھن وکاس کیندر کلسٹرس(وی ڈی وی کے سیز) کے قیام کے لیے ٹرائیفیڈ کو جاری کئے گئے ہے۔

        2020-19 میں اس کے آغاز سے لے کر اب تک 3110  وی ڈی وی کے سیز کو منظوری دی گئی ہے جس سے 52000 سے زیادہ ایس ایچ جیز کے 9.28 لاکھ ایم ایف پی جمع کرنے والوں کو فائدہ پہنچا ہے۔

•        ایس ٹی ایف ڈی سیز/ این ایس ٹی ایف ڈی سی کو ایکویٹی سپورٹ:

•        این ایس ٹی ایف ڈی سی اپنی نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ذریعے آمدنی پیدا کرنے کی سرگرمیوں/ خود روزگار کے لیے اہل درج فہرست قبائل کے افراد کو رعایتی قرضوں میں توسیع کرتا ہے۔

•        این ایس ٹی ایف ڈی سی کی طرف سے گزشتہ تین سالوں (2019-20 سے 30.11.2021) میں 4.04 لاکھ  روپے قبائلی استفادہ کنندگان کو اس کی پانچ اسکیموں کے تحت 748.75 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے ہیں۔

•        این ایس ٹی ایف ڈی سی نے  پی ایم ای جی پی اسکیم کے تحت عمل درآمد کرنے والی ایجنسی کے طور پر کام کرنے کے لیے  کے وی آئی سی کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں۔ اس مفاہمت نامے کا مقصد قبائلی کاروباریوں کو رعایتی قرض فراہم کرنا ہے جو بینکوں اور  ایس سی ایز کے ذریعے مالی امداد کے خواہاں ہیں اور ایس ٹی سے مستفید ہونے والوں کو یونٹ لاگت کی 35فیصد تک ختم شدہ سبسڈی واپس ملے گی۔

 

2022-2021 کے دوران 35.2 لاکھ قبائلی طلباء کے درمیان ڈی بی ٹی کے ذریعے پری اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپس تقسیم کی گئی۔

 وزارت نے  2021 کے دوران کورونا وائرس وبائی صورتحال کے درمیان تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر کے ذریعے پری اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت 35.2 لاکھ قبائلی طلباء کے درمیان 2500 کروڑ روپے کی رقم تقسیم کی۔ اس سلسلے میں ریاست کے پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکیموں کے پورٹل کو ڈی بی ٹی ٹرائبل پورٹل اور ڈی بی ٹی بھارت پورٹل کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ اس اسکیم میں 331 یونیورسٹیوں کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ طالب علم کی تفصیلات کی شناخت اور تصدیق کے لیے طلبہ کی آن لائن تصدیق کا عمل شروع کیا گیا ہے۔

پری/پوسٹ میٹرک، نیشنل فیلوشپ اور اسکالرشپ، اور نیشنل اوورسیز اسکالرشپ کے لیے کل بجٹ کا تخمینہ  2013 کے پچھلے بجٹ سے بڑھا کر2021 میں 2546 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔ 32,08,154 سے زیادہ طلباء ان اسکالرشپس سے مستفید ہوئے اور کاغذ پر مبنی ایپلیکیشن سے ڈیٹا بیسڈ ایپلی کیشن میں منتقل کرنے  کے ساتھ ساتھ اسکالرشپ کے اجراء کی مدت کو کم کرنے کے لئے اس اسکیم کے نفاذ کا طریقہ مکمل طور پر آن لائن رہا۔

مرکزی وزیر تعلیم اور قبائلی امور کے مرکزی وزیر نے مشترکہ طور پر اسکول انوویشن ایمبیسیڈر ٹریننگ پروگرام کا آغاز کیا

مرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان اور قبائلی امور کے مرکزی وزیر جناب ارجن منڈا نے مشترکہ طور پر 50,000 اسکول اساتذہ کے لیے ‘اسکول انوویشن ایمبیسیڈر ٹریننگ پروگرام’  کا آغاز کیا۔ اس کا مقصد 50,000 اسکول ٹیچرز کو اختراع ، کاروباریت، آئی پی آر، ڈیزائن تھنکنگ، مصنوعات کی ترقی ، نظریات کی تخلیق ، وغیرہ کے بارے میں تربیت دینا ہے۔

قبائلی امور کی وزارت نے ‘‘ای گورننس میں بہترین کارکردگی’’ کے لیے ممتاز ایس کے او سی ایچ چیلنجر ایوارڈ اور اپنے  اقدامات کے لیے 3 گولڈ ایوارڈز حاصل کیے

قبائلی امور کی وزارت(ایم او ٹی اے) کو آج اپنے 20+ آن لائن پورٹلز پر گزشتہ سال جاری کردہ اپنی لاگو سکیموں کی تازہ ترین معلومات کے ساتھ ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور ڈیجیٹل ٹرانسپیرنسی جیسے مختلف اقدامات کے لیے انتہائی پرکشش ‘‘ ایس کے او سی ایچ چیلنجر ایوارڈ’’ – ‘‘ای-گورننس میں بہترین کارکردگی’’ ملا۔  یہ ایوارڈ مرکزی وزیر برائے قبائلی امور جناب ارجن منڈا نے ورچوئل اسکوچ چوٹی کانفرنس میں وصول کیا۔

 

وزارت کو اس کے اقدامات کے لیے 3 گولڈ ایوارڈز بھی ملے جن میں ‘‘آئس استوپس کا استعمال کرتے ہوئے پانی کے انتظام میں اختراعی ڈیزائن کے ذریعے قبائلی دیہاتوں کی ماحولیاتی بحالی’’، سواستھیا: قبائلی صحت اور غذائیت سے متعلق پورٹل اور پرفارمنس ڈیش بورڈ ‘‘امپاورنگ ٹرائبلز ٹرانسفارمنگ انڈیا’’ شامل ہیں۔ وزارت کی جانب سے ڈاکٹر نوال جیت کپور، جوائنٹ سکریٹری نے یہ ایوارڈ حاصل کئے۔

قبائلی امور کی وزارت نے 18ویں سی ایس آئی ایس آئی جی ای گورننس ایوارڈز 2020 میں توصیفی ایوارڈ حاصل کیا

قبائلی امور کی وزارت نے 18ویں سی ایس آئی ایس آئی جی ای-گورنمنٹ ایوارڈز 2020 میں پراجیکٹ کیٹیگری-مرکزی حکومت کے ادارے میں پرفارمنس ڈیش بورڈ ایمپاورنگ ٹرائبلس ٹرانسفارمنگ انڈیا کو مختلف آئی سی ٹی اقدامات کے ذریعے بااختیار بنانے کا اعزازی ایوارڈ حاصل کیا۔ یہ ایوارڈ قبائلی امور کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر نوالجیت کپور نے لکھنؤ میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے وصول کیا۔

ورکشا بندھن پروجیکٹ کے تحت قبائلی خواتین دیسی درختوں کے بیجوں سے راکھیاں بنا رہی ہیں۔

آرٹ آف لیونگ فاؤنڈیشن، اورنگ آباد، اور مہاراشٹر کے ساتھ شراکت میں قبائلی امور کی وزارت کی ایک منفرد پہل میں ورکشا بندھن پروجیکٹ کا آغاز کیا گیا جہاں 1100 قبائلی خواتین نے دیسی درختوں کے بیجوں سے رکھشا بندھن کے لیے راکھیاں بنائیں، جو کہ جنگلات کے رقبے کو بڑھانے  اور  موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنےمیں ایک منفرد تعاون ہے۔

راکھیاں دیسی بیجوں سے بنی تھیں جو قدرتی طور پر رنگے ہوئے، نرم دیسی، غیر زہریلے، بایوڈیگریڈیبل کپاس پر لگے ہوئے تھے۔ ایک بار استعمال کرنے کے بعد، بیج مٹی میں بویا جا سکتا ہے، اس طرح ماحول کو فائدہ ہوتا ہے۔ توقع ہے کہ اس منصوبے کے تحت ہزاروں درخت لگائے جائیں گے اور اس منصوبے سے منسلک قبائلی خواتین کو روزگار ملے گا۔

قبائلی امور کی وزارت اور ایمس نے پوشن ماہ کے ایک حصے کے طور پر  صحیح پوشن- دیش روشن کے مشن کے لیے این جی اوز کے لیے ورکشاپ کا اہتمام کیا۔

 

09 ستمبر 2021 کو قبائلی امور کی وزارت نے پوشن مہ کی سرگرمیوں کے ایک حصے کے طور پر غذائیت اور صحت سے متعلق غیر سرکاری تنظیموں کے لیے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ کا مقصد  صحیح  پوشن- دیش روشن کے مشن میں قبائلی امور کی وزارت کے ساتھ کام کرنے والی این جی اوز کو مضبوطی کے ساتھ ایک دوسرے سے جوڑنا تھا۔ ورکشاپ میں 70 سے زائد این جی اوز نے شرکت کی جو قبائلی علاقوں میں صحت کے شعبے میں کام کر رہی ہیں۔

قبائلی امور کی وزارت کے آزادی کا امرت مہوتسو ہفتہ کی تقریبات کے حصہ کے طور پر جنوبی ریاستوں کے 86 درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیات کو اعزاز سے نوازا گیا

قبائلی برادری کے درمیان انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے اور کامیاب کاروباریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے نیشنل شیڈول ٹرائب فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ٹی ایف ڈی سی) اور قبائلی امور کی وزارت، حکومت ہند کی طرف سے 22 نومبر 2021 کو  ٹی آر آئی سی او آر -آندھرا پردیش کے ساتھ مل کروشاکھاپٹنم میں ایک عظیم الشان تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

قبائلی امور کی وزارت نے قبائلی نوجوانوں میں قائدانہ خصوصیتوں اور صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔

جی او اے ایل (بطور لیڈر آن لائن ہوتے ہوئے) ڈیجیٹل طور پر فعال رہنمائی اور قبائلی نوجوانوں کو اپنی دلچسپی کے علاقے میں رہنما بننے کے لیے بااختیار بنانے کے لیے فیس بک کے ساتھ وزارت کا ایک مشترکہ اقدام ہے۔ جی او اے ایل اقدام کے ذریعے، صنعت، فنون، سیاست، کاروبار وغیرہ کے نامور افراد، جو اپنی قائدانہ صلاحیتوں یا کرداروں کے لیے مشہور ہیں، کو ڈیجیٹل میڈیم کے ذریعے قبائلی نوجوانوں کے ذاتی سرپرست  کی حیثیت سے  شامل کیا جاتا ہے۔ جی او اے ایل پروگرام نے اب تک 23 ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا احاطہ کیا ہے۔

قبائلی امور کی وزارت معروف تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوشش کرتی ہے: مائیکروسافٹ، آرٹ آف لیونگ فاؤنڈیشن، ٹاٹا فاؤنڈیشن، اور  ایس ای سی ایم او ایل  جیسے قبائل کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا جس کا مقصد کمیونٹی کی شرکت کے ساتھ پروجیکٹ کو آگے بڑھانا اور قبائلی نوجوانوں میں قیادت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اس کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔

پنچایتوں ( درج فہرست علاقوں  تک میں توسیع) ایکٹ، (پی ای ایس اے) 1996 کی دفعات پر ایک روزہ قومی کانفرنس پی ای ایس اے کی 25 ویں سالگرہ کا جشن  منانے کے لیے منعقد کی گئی۔

امرت مہوتسو کے موضوعات میں سے ایک ‘پورا حکومتی نقطہ نظر، اور ‘جن بھاگدااری، ہے۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے، قبائلی امور کی وزارت نے اس مدت کے دوران قومی اور ریاستی سطح پر کئی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی۔

پی ای ایس اے قبائلی برادریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم قانون ہے۔ ریاست کے عہدیداروں اور عوامی نمائندوں سے کہا گیا کہ وہ قبائلی علاقوں کا دورہ کریں اور عوامی سطح پر قبائلیوں کے مسائل کو سمجھیں۔ اجتماع کے دوران، اس بات پر زور دیا گیا کہ قبائلی برادریوں کی ثقافت کی حفاظت ایک ضروری اقدام ہے، تاکہ قبائلیوں کے ساتھ شفاف رویہ اختیار کیا جا سکے اور انہیں تیزی سے بدلتے ہوئے منظرناموں میں ترقی کی کرن دکھائی جائے۔ کئی ریاستوں میں اس راستے کی طرف پیش قدمی کی  کوششیں کی گئیں۔ مہاراشٹر میں پی ای ایس اے کے تحت مختلف مشقیں کی گئیں جس کے نتیجے میں قبائلیوں کو معاشی طور پر بااختیار بنایا گیا۔

دہلی ہاٹ، آئی این اے، نئی دہلی میں قومی آدی مہوتسو کا انعقاد – قبائلی ثقافت، دستکاری اور تجارت کا جشن

قومی آدی مہوتسو 1 سے 15 فروری 2021 تک دلّی ہاٹ،  آئی این اے، نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ اس  میلے میں قبائلی ثقافت کے کئی پہلوؤں کو پیش کیا گیا، جس میں بہت زیادہ  عوامی دلچسپی سامنے آئی اور پہلی بار میں بہت زیادہ  تعداد میں لوگ  میلہ دیکھنے آئے۔ یہ میلہ لوگوں کو  گراں مایہ  اور متنوع دستکاری ، ملک بھر میں قبائلی برادریوں کی ثقافت سے ایک ہی جگہ  میں روشناس کرانے کی کوشش تھی۔

پندرہ روزہ قومی قبائلی میلے میں ملک بھر کی 25 ریاستوں سے ہزاروں قبائلی کاریگروں، باورچیوں، فنکاروں اور ثقافتی گروہوں نے شرکت کی۔ گراں مایہ قبائلی ثقافت،  نایاب قبائلی دستکاریوں، ہینڈلوم اور قدرتی مصنوعات، قبائلی کھانوں کی شکلوں میں واضح تھی کیونکہ ان کی تقریباً 200 اسٹالز میں نمائش کی گئی تھی۔ آدی مہوتسو دہلی کے باشندوں کے دل جیتنے میں کامیاب رہا اور 15 دنوں میں زبردست پذیرائی اور فروخت ریکارڈ کی گئی ۔ اس میلے میں یہ  دیکھا گیا کہ قبائلی کاریگروں نے پچھلے پندرہ دن میں براہ راست فروخت کی شکل میں 4 کروڑ روپے کی مقدار درج کرائی۔ مزید برآں، ٹی آر آئی ایف ای ڈی کی طرف سے 8 کروڑ روپے کا پرچیز آرڈر دیا گیا تھا۔  جس سے اس تہوار میں حصہ لینے والے قبائلیوں کے لیے تجارتی لین دین میں 12 کروڑ روپے تک جاپہنچا۔ آدی مہوتسو پوری طرح سے قبائلی زندگی کی روح - دستکاری، ثقافت اور کھانوں کا جشن تھا۔

قبائل ہندوستان - آدی مہوتسو

 اس وقت جب کہ ہندوستان آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے، 16 نومبر سے 30 نومبر تک دہلی ہاٹ میں آدی مہوتسو کا اہتمام کیا گیا۔

 

ملک بھر سے 200 سے زیادہ اسٹالز اور تقریباً 1000 کاریگروں اور فنکاروں نے اپنی منفرد کہانیوں کے ساتھ حصہ لیا، آدی مہوتسو آدیواسیوں کو مرکزی دھارے میں لانے کا ایک طریقہ ہے۔ روایتی فن اور دستکاری، اور ملک کے ثقافتی ورثے کی نمائش کرتے ہوئے، یہ تہوار قبائلی کاریگروں کو بڑی منڈیوں سے جوڑتا ہے اور ہندوستان کے قبائل کے تنوع اور خوشحالی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

 

آدی مہوتسو ایک چھوٹا ہندوستان ہے جہاں قبائلی کاریگروں کی شاندار دستکاری کی روایات - بُنکر، کمہار، کٹھ پتلی کے فنکار اور کڑھائی کرنے والے، سبھی ایک جگہ پر جمع ہوگئے ہیں۔ پینٹنگز جیسے نوادرات کی ایک وسیع رینج کے ساتھ وہ وارلی انداز میں ہوں یا پٹاچتر، وانچو اور کونیاک قبائل سے لے کر جنوب کی مشہور توڈا کڑھائی تک ڈوکرا انداز میں ہاتھ سے تیار کردہ زیورات ، نکوبار جزائر کے تازہ ناریل کے تیل سے لے کر شمال مشرق کے کثیر ذائقہ والے نیوٹرا مشروبات تک، رنگ برنگی کٹھ پتلیوں اور بچوں کے کھلونوں سے لے کر روایتی بُننے جیسے ڈونگری شال، بوڈو بنی، راجستھان سے کوٹا ڈوریا؛ لوہے کے دستکاری سے لے کر بانس کے دستکاری اور گنے کے فرنیچر تک؛ مٹی کے برتن جیسے نیلے مٹی کے برتن اور منی پور کے لونگپی مٹی کے برتن جیسی دلکش اشیا کی نمائش کے ساتھ یہ میلہ احساسات کی تروتازگی کا ایک وسیلہ بنا ہوا ہے۔

قبائلی امور کے وزیر جناب ارجن منڈا نے ہندوستان میں آدیواسیوں میں کووڈ  ویکسینیشن کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے عملی طور پر ملک گیر مہم ‘‘کووڈ ٹیکہ سنگ سرکھشت   ون دھن اور ادویم’’ کا آغاز کیا۔

یہ مہم قبائلی کوآپریٹو مارکیٹنگ ڈیولپمنٹ فیڈریشن آف انڈیا(ٹرائیفیڈ) کے 45,000 وان دھن وکاس کیندروں (وی ڈی وی کے) سے فائدہ اٹھانے کے لیے شروع کی گئی تھی، جو کہ قبائلی امور کی وزارت، حکومت ہند کے انتظامی کنٹرول کے تحت کام کرنے والا ایک قومی سطح کا کوآپریٹو ادارہ ہے۔

قبائلی امور کی وزارت اور گوا حکومت مشترکہ طور پر تارکین وطن کارکنوں اور قبائلی مائیگرنٹ سیل کے لیے کل شرم شکتی ڈیجیٹل ڈیٹاسولیشن کا آغاز کریں گی

ایک اقدام کے تحت جس سے تارکین وطن کارکنوں کے لیے ریاستی اور قومی سطح کے پروگراموں کی ہموار تشکیل میں مدد ملے گی، مرکزی وزارت قبائلی امور (ایم او ٹی اے) نے ‘‘شرم شکتی’’،  ایک قومی مائیگریشن سپورٹ پورٹل اور شرم-ساتھی،  گوا میں مہاجر مزدوروں کے لئے ایک  تربیتی کتابچہ کا آغاز کیا اور مختلف ریاستوں سے گوا آنے والے تقریباً 4 لاکھ تارکین وطن کی سہولت اور مدد کے لیے، گوا کے وزیر اعلیٰ گوا میں ایک وقف شدہ مائیگریشن سیل بھی شروع کریں گے۔ ایم او ٹی اے نے گوا میں قبائلی تحقیقی ادارہ، قبائلی عجائب گھر، ون دھن کیندر اور قبائلی لوک اتسو کو بھی منظوری دی ہے۔

قبائلی امور کے وزیر جناب ارجن منڈا نے ایس ٹی پی آر آئی ممبران کے لیے ‘آدی پرشکشن پورٹل’ اور 3 روزہ آن لائن صلاحیت سازی پروگرام کا آغاز کیا

قبائلی امور کے عزت مآب مرکزی وزیر جناب ارجن منڈا نے ‘ آدی پریشکشن’ پورٹل کا آغاز کیا اور آزادی کا امرت مہوتسو کے ایک حصے کے طور پر‘‘ایس ٹی پی آر آئی اراکین کے لیے ماسٹر ٹرینرز کی صلاحیت سازی کی تربیت’’ پر تین روزہ تربیتی پروگرام کا افتتاح کیا۔ دہلی۔

 

وزارت کی طرف سے تیار کردہ آدی پرشکشن پورٹل، قبائلی تحقیقی اداروں(ٹی آر آئیز)، وزارت کے مختلف ڈویژنوں، قبائلی طلباء کی قومی تعلیم کے لیے سوسائٹی (این ای ایس ٹی ایس قبائلی امور کی وزارت اور قومی قبائلی تحقیقی ادارہ کے  فنڈ سے چلنے والے تمام تربیتی پروگراموں کے مرکزی ذخیرہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ ۔

قبائلی امور کی وزارت نے 19 جون، 2021 کو ورلڈ سکل سیل ڈسیز دے منانے کےلئے  ہندوستان میں سکل سیل کی بیماری پر دوسرے قومی کانکلیو کا اہتمام کیا، سکیل سیل کی بیماری کو ختم کرنے کے لیے انمکت پروجیکٹ کا آغاز کیا گیا۔

19 جون 2021 کو عالمی سکل سیل ڈیزیز ڈے منانے کے لیے، قبائلی امور کی وزارت (ایم او ٹی اے) نے فکی، نووارٹیس، پیرامل فاونڈیشن، اپولو ہسپتال ، ناسکو  اور گاسکوکے ساتھ شراکت میں سکل سیل ڈیسیز ان انڈیا' کے موضوع پر دوسرے آن لائن نیشنل کانکلیو کا انعقاد کیا۔ اس تقریب نے ہندوستان بھر میں سکل سیل بیماری کے ماہرین کے ایک گروپ کو اکٹھا کیا تاکہ سیکل سیل بیماری کے انتظام میں ابتدائی تشخیص سے لے کر جدید ترین ادویات اور اس بیماری کے علاج میں پیشرفت تک حالیہ پیشرفت پر غور کیا جا سکے -

 

شری ارجن منڈا، مرکزی وزیر اور رینوکا سنگھ سوتا نے جھارکھنڈ کے کھنٹی ضلع اور چھتیس گڑھ کے کانکیر میں ایس سی ڈی کی اسکریننگ اور بروقت انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے دو قبائلی اضلاع جہاں قبائلیوں میں سکیل سیل کی بیماری بہت زیادہ ہےانمکت پروجیکٹ کے تحت موبائل وین کو ہری جھنڈی دکھائی۔

قبائلی صحت کے تعاون پر مبنی‘انامایہ’: قبائلی صحت اور غذائیت کو بڑھانے کے لیے ایک ملٹی اسٹیک ہولڈر اقدام کا آغاز

انامایا، قبائلی صحت کے تعاون پر مبنی اقدام ، مرکزی وزیر صحت اور خاندانی بہبود ڈاکٹر ہرش وردھن اور قبائلی امور کے مرکزی وزیر جناب ارجن منڈا نے نئی دہلی میں ایک تقریب میں شروع کیا۔ تعاون قبائلی امور کی وزارت کا ایک ملٹی اسٹیک ہولڈر اقدام ہے جسے پیرامل فاؤنڈیشن اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن(بی ایم جی ایف) کی حمایت حاصل ہے۔ یہ ہندوستان کی قبائلی برادریوں کی صحت اور غذائیت کی  صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے مختلف سرکاری ایجنسیوں اور تنظیموں کی کوششوں کو یکجا کرے گا۔

ماحولیات اور قبائلی امور کی وزارتوں کے ذریعے دستخط شدہ جنگلات کے حقوق کے قانون کے زیادہ موثر نفاذ کے لیے مشترکہ کمیشن کے قیام پر دستخط کئے گئے۔

فارسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے 2006)،  جنگل میں رہنے والی قبائلی برادریوں اور دیگر روایتی جنگل میں رہنے والوں کے حقوق کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ کمیونٹیز مختلف ضروریات بشمول معاش، رہائش اور دیگر سماجی و ثقافتی ضروریات کے لیے جنگل کے وسائل پر منحصر ہیں۔

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت(ایم او ای ایف سی سی) کے سکریٹری جناب آر پی گپتا اور قبائلی امور کی وزارت کے سکریٹری جناب انیل کمار جھا نے وزیر ماحولیات ۔ جناب پرکاش جاوڈیکر اور قبائلی امور کے وزیر جناب ارجن منڈا کی موجودگی میں ایک ‘‘مشترکہ مواصلات’’ پر دستخط کئے

ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تمام چیف سکریٹریوں کے لئے قائم کیا گیا جوائنٹ کمیونیکیشن، فارسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے2006) کے زیادہ موثر نفاذ اور جنگل میں رہائش پذیر  درج فہرست قبائل (ایف ڈی ایس ٹیز) اور دیگر روایتی جنگلات کے باشندوں  (او ٹی ایف ڈیز)  کے ذریعہ معاش میں بہتری کے امکانات کو بروئے کار لانے سے متعلق ہے۔

 

قبائلی امور کے مرکزی وزیر جناب ارجن منڈا نے آزادی کا امرت مہوتسو کے ایک حصے کے طور پر قبائلی ثقافتی تحقیق اور تربیتی مشن (ٹی آر آئی ) آندھرا پردیش کے لیے نئی عمارت کا افتتاح کیا۔

قبائلی امور کے مرکزی وزیر، جناب ارجن منڈا؛ قبائلی امور کے ایم او ایس ، رینوکا سنگھ سروتا، اور نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر برائے قبائلی بہبود، آندھرا پردیش، محترمہ پمولا پشپا سری وانی جی نے 15 اگست 2021 کو آزادی کا امرت مہوتسو انڈیا @  75کے ایک حصے کے طور پر آندھرا پردیش کے قبائلی ثقافتی تحقیق اور تربیتی مشن(ٹی آر آئی) کے لیے نئی عمارت کے احاطے کا ورچوئل طور پر افتتاح کیا۔

کووڈ کے حالات کے دوران قبائلیوں کی روزی روٹی کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات

قبائلی امور کی وزارت نے ریاستی حکومتوں کو ‘ قبائلی ذیلی افراد کے لیے خصوصی مرکزی امداد(ایس سی اے برائے ٹی ایس ایس )’  ‘خاص طور پر کمزور قبائلی گروپس (پی وی ٹی جیز) کی ترقی’  اور ‘آرٹیکل 275(1) کے تحت ان کی تجاویز پر مبنی بہت سی سرگرمیاں انجام دینے کے لئے 2021-20 کے دوران فنڈز فراہم کیے، جن میں زراعت، باغبانی، مویشی پالنے، ماہی گیری اور دیگر غیر فارم پر مبنی روزی روٹی سرگرمیاں شامل ہیں، گرانٹس کی رقم  کے طور پر587.47 کروڑ روپے مختلف ریاستی حکومتوں کے ذریعہ معاش کی مختلف سرگرمیاں شروع کرنے کے لئے منظور/منظور کیے گئے تھے۔

مزید برآں  12355.43 کروڑ روپے کے فنڈز۔ 2021-20 اور 2022-21 کے دوران دیگر مرکزی وزارتوں / محکموں کے ذریعہ معاش سے متعلق اسکیموں کے تحت شیڈولڈ ٹرائب کمپوننٹ(ایس ٹی سی) کے طور پر فراہم کیے گئے ہیں۔

قبائلی مصنوعات/پیداوار کی ترقی اور مارکیٹنگ کے لیے ادارہ جاتی تعاون:

•        اسکیم کے تحت، ٹرائیفیڈ اپنے پورٹل www.tribesindia.com سے قبائلی مصنوعات کی ای کامرس فروخت کو فروغ دے رہا ہے اور تمام بڑے ای کامرس پورٹلز جیسے ایمزون، اسنیپ ڈیل، فلپ کارڈ، پے ٹی ایم اور جی ای پر بھی موجود ہے۔

•        ٹرائیفیڈ نے روپے کی آن لائن فروخت کی ہے۔ مالی سال 2021-20 میں 99.74 لاکھ۔ رواں مالی سال 2022-21 کے دوران، ٹرائیفیڈ نے 127.54 لاکھ روپے (30.11.2021 تک) کی فروخت کی ہے۔

•        ٹرائیفیڈ نے 30.10.2021 تک ملک بھر میں 145 آؤٹ لیٹس یعنی 97 اپنے سیلز آؤٹ لیٹس، کنسائنمنٹ سیل پر 33 آؤٹ لیٹس اور 15 فرنچائز آؤٹ لیٹس کا نیٹ ورک قائم کیا ہے۔

        31.10.2021 تک ٹرائیفیڈ کے ساتھ شامل سپلائرز/پروڈیوسرز کی کل تعداد 2915 ہے۔

        2019-20 کے دوران ٹرائیفیڈ کے ذریعے قبائلی مصنوعات کی فروخت –40.30 کروڑ روپے۔ ، 2021-20 –29.63 کروڑ روپے اور 2022-21میں  (30.10.2021 تک) –18.43 کروڑ روپے

•        کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) معمولی جنگلاتی پیداوار(ایم ایف پی) اسکیم کے لیے:

•        معمولی جنگلاتی پیداوار کے لیے ایم ایس پی میں اضافہ کیا گیا ہے۔

        2021-20 سے ایم ایف پی اسکیم کی فہرست کے لئے ایم ایس پی کے تحت 37 نئی اشیاء۔

•        ایم ایس پی اسکیم کے تحت ایم ایف پی کی تعداد 2021-20 کے دوران 50 سے بڑھ کر 87 ہوگئی۔

•        ریاستوں کے ذریعہ ایم ایف پی اسکیم کے لئے ایم ایس پی کے تحت حکومت ہند کے فنڈز سے ایم ایف پیز کی خریداری  اسکیم کے نفاذ کے بعد سے 317.89 کروڑ روپے ہے ۔

•        ون دھن وکاس کاریہ کرم:

        ’ایم ایف پی کے لیے ایم ایس پی‘ کی اسکیم کے تحت وان دھن وکاس کیندر کلسٹرس(وی ڈی وی کے سیز) مقامی طور پر دستیاب معمولی جنگلاتی پیداوار کے حصول کے ساتھ قدر میں اضافے کے لیے مشترکہ سہولت مراکز کے طور پر کام کرتے ہیں۔

•        گزشتہ تین سالوں میں 254.64 کروڑ روپے ون دھن وکاس کیندر کلسٹرس(وی ڈی وی کے سیز) کے قیام کے لیے ٹرائیفیڈ کو جاری کئے گئے ہے۔

        2020-19 میں اس کے آغاز سے لے کر اب تک 3110  وی ڈی وی کے سیز کو منظوری دی گئی ہے جس سے 52000 سے زیادہ ایس ایچ جیز کے 9.28 لاکھ ایم ایف پی جمع کرنے والوں کو فائدہ پہنچا ہے۔

•        ایس ٹی ایف ڈی سیز/ این ایس ٹی ایف ڈی سی کو ایکویٹی سپورٹ:

•        این ایس ٹی ایف ڈی سی اپنی نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ذریعے آمدنی پیدا کرنے کی سرگرمیوں/ خود روزگار کے لیے اہل درج فہرست قبائل کے افراد کو رعایتی قرضوں میں توسیع کرتا ہے۔

•        این ایس ٹی ایف ڈی سی کی طرف سے گزشتہ تین سالوں (2019-20 سے 30.11.2021) میں 4.04 لاکھ  روپے قبائلی استفادہ کنندگان کو اس کی پانچ اسکیموں کے تحت 748.75 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے ہیں۔

•        این ایس ٹی ایف ڈی سی نے  پی ایم ای جی پی اسکیم کے تحت عمل درآمد کرنے والی ایجنسی کے طور پر کام کرنے کے لیے  کے وی آئی سی کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں۔ اس مفاہمت نامے کا مقصد قبائلی کاروباریوں کو رعایتی قرض فراہم کرنا ہے جو بینکوں اور  ایس سی ایز کے ذریعے مالی امداد کے خواہاں ہیں اور ایس ٹی سے مستفید ہونے والوں کو یونٹ لاگت کی 35فیصد تک ختم شدہ سبسڈی واپس ملے گی۔

****************

(ش ح ۔س ب۔ع م۔رض۔ع آ )

U NO: 156



(Release ID: 1787992) Visitor Counter : 70


Read this release in: English , Hindi , Malayalam