ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہمالیائی خطے پر تحقیق

प्रविष्टि तिथि: 15 DEC 2021 3:07PM by PIB Delhi

 

واڈیا انسٹی ٹیوٹ آف ہمالین جیولوجی کے سائنسداں اتراکھنڈ کے پتھورا گڑھ ضلع، ہمالیہ میں واقع بالائی کالی گنگا وادی میں گلیشیئرز کا مطالعہ کرتے ہوئے پتہ چلایا  کہ کوٹھی یانکتی وادی (دریائے کالی کی معاون دریا) میں ~4 کلومیٹر 2 کے رقبے پر محیط 5 کلومیٹر طویل بے نام گلیشیر (30.28089این- 80.69344ای) اچانک اپنا اصل راستہ بدل کر اور ایک ملحقہ گلیشیئر کے ساتھ مل گیا جس کا نام سمزورکچانکی ہے۔ ایسا موسمیاتی تبدیلیوں اور ٹیکٹونک کی وجہ سے ہوا ہے۔ ایسا قبل ازیں ایسا لاسٹ گلیشیل میکسما (2400-19 سال پہلے) اور ہولوسین (10,000 سال پہلے) کے درمیان کسی وقت ہوا تھا۔

حکومت ہمالیہ کے خطے میں مزید تحقیق اور مطالعہ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تاکہ بار بار آنے والی قدرتی آفات کا حل تلاش کیا جا سکے۔

حکومت ہمالیائی خطےمیں قدرتی آفات پر متعدد تحقیقی اداروں، یونیورسٹیوں، آئی آئی ٹیز، آئی آئی ایسیز وغیرہ کے ذریعے تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ارضیاتی علوم کی وزارت  اپنے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے ذریعے زلزلے کے عمل سے متعلق مختلف مظاہر کو سمجھنے اور خاص طور پر ہمالیائی خطے کے لئے زلزلے کے خطرات کی تشخیص کی خاطر ریکارڈ شدہ زلزلے کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے اس تحقیق میں شامل ہے۔ واڈیا انسٹی ٹیوٹ آف ہمالین جیولوجی ہمالیہ میں زلزلوں، زمین کھسکنے اور برفانی تودہ گرنے کی وجوہات اور نتائج کو سمجھنے کے لئے تحقیق کر رہا ہے جس کا مقصد اس کی شدت میں کمی لانے کے اقدامات وضع کرنا ہے۔

یہ اطلاع ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج )  اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے مملکتی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

***

ش ح۔ ع س۔ ک   ا


(रिलीज़ आईडी: 1781959) आगंतुक पटल : 122
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Tamil