پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 DEC 2021 4:29PM by PIB Delhi
نئی دہلی،6 دسمبر 2021: کنکرینٹ لسٹ میں تعلیم کے شامل ہونے کے ساتھ ہی نئے اداروں کا قیام، مرکزی اور ریاستی سرکاروں، دونوں کی ذمے داری ہے۔ البتہ ریاستی اعلیٰ تعلیمی اداروں کی جامع فنڈنگ کے ذریعے مرکزی معاونت کے لیے ضرورت کی شناخت کرنے کی غرض سے، وزارت تعلیم کے ذریعے ، مرکز کے زیر سرپرستی ایک اسکیم ،راشٹریہ اچھتر سکشا ابھیان (آر یو ایس اے) نافذ کی جارہی ہے، جس کا مقصد رسائی، مساوات اور معیار کو فروغ دینا ہے۔ آر یو ایس اے کے تحت فنڈنگ کے لیے اہل ہونے کے ضمن میں، ریاستوں کو بعض ضروری کارروائیاں پوری کرنی ہوں گی جن میں اکیڈمک، انتظامی اور حکمرانی کی اصلاحات شامل ہیں۔ ریاستوں کی اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ جامع سوچ بچار اور مستقبل کی ضروریات کو ذہن میں رکھتے ہوئے منصوبہ سازی کریں۔ اس اسکیم کا مقصد ریاستی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے معیار کو بہتر بنانا نیز ان کی موجودہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے تاکہ وہ ڈائنمک، مطالبے پر مبنی، معیار حساس، موثر اور دوراندیش ہوجائیں اور مقامی، ریاستی، قومی اور بین الاقوامی سطحوں پر پیش آنے والے تیز اقتصادی اور تکنیکی پیشرفت سے فوری طورپر نمٹ سکیں۔
آر یو ایس اے کے تحت ، ریاستی اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو مختلف عناصر کے تحت معاونت فراہم کی جاتی ہے جن میں موجودہ خود مختار کالجوں کو اپ گریڈ کرکے یونیورسٹیاں وضع کرنا، کسی کلسٹر میں کالجوں کو تبدیل کرکے یونیورسٹیوں میں تبدیل کردینا، یونیورسٹیوں کو بنیادی ڈھانچے کی مالی امداد فراہم کرنا، کالجوں کو بنیادی ڈھانچے کی گرانٹس فراہم کرنا، موجودہ ڈگری کالجوں کو ماڈل ڈگری کالجوں میں بدلنے کے لیے اپ گریڈ کرنا وغیرہ جیسے عوامل شامل ہیں۔ اسکیم کے تحت ریاست وار/ سال وار اہداف مقرر نہیں ہیں۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں تعلیم کے وزیر مملکت ڈاکٹر سبھاش سرکار نے ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*****
U.No.13838
(ش ح - اع - ر ا)