صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پرائیویٹ اسپتالوں کے ذریعے نامناسب چارج وصول کرنے کے خلاف حکومت کے ذریعے کیے گئے اقدامات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 DEC 2021 3:33PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی:03؍دسمبر، 2021۔صحت ایک ریاست کے دائرہ کار کے تحت آنے والا موضوع ہے اور یہ متعلقہ ریاست / مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پرائیویٹ اسپتالوں کے خلاف ایسی شکایتوں پر کارروائی کرتے ہوئے نامناسب طرز عمل کو روکیں جس کے تحت پرائیویٹ اسپتال مریضوں سے ایک ہی کام کیلئے نقد رقم دینے والے مریضوں سے زیادہ پیسے وصول کریں جبکہ وہ اسی کام کیلئے ہیلتھ انشورنس اسکیم کے تحت کم پیسے وصول کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی ایسی شکایت موصول ہوتی ہے تو اسے مناسب کارروائی کیلئے ریاستی / مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حکومت کو بھیج دیا جاتا ہے۔

حکومت ہند نے کلینیکل اسٹیبلشمنٹ (رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن) ایکٹ 2010 (سی ای ایکٹ 2010) نافذ کیا ہے اور اسے کلینیکل اسٹیبلشمنٹ (سینٹرل گورنمنٹ) رولس 2012 کے تحت نوٹیفائی کیا گیا جس میں 2018 اور 2020 میں ترمیم کی گئی اور اس کے تحت ملک میں کلینیکل اسٹیبلشمنٹ کے رجسٹریشن اور ریگولیشن کے لئے (سرکاری اور پرائیویٹ دونوں) کی شرائط دی گئی ہیں۔ ایکٹ کے مطابق ریاستوں / یو ٹی  میں، جنہوں نے اس ایکٹ کو اپنایا ہے، مریضوں کے فائدے کیلئے فراہم کی جانے والی تمام سہولیات اور خدمات کی شرحوں کو انگریزی اور مقامی زبان میں آویزاں کیا جانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ قانون کے مطابق کلینیکل اسٹیبلشمنٹ کو تمام خدمات اور ضابطوں کیلئے وقتاً فوقتاً ریاستی حکومتوں اور مرکزی حکومت کے صلاح ومشورے سے مقرر کردہ شرحوں کے اندر اندر چارج وصول کرنے چاہئیں۔

اس کے لیے مرکزی حکومت نے طبی طریقوں اور خدمات کیلئے ایک معیاری فہرست اُن ریاستوں کو فراہم کی ہے جنہوں نے اس ایکٹ کو نافذ کررکھا ہے تاکہ ضروری کارروائی کی جاسکے۔ یہ قانون ہر ضلع میں رجسٹر کرنے والی اتھارٹی کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ایکٹ کی خلاف ورزی کے بارے میں چھان بین کرسکے اور اگر ضروری ہو تو اسپتال پر جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا رجسٹریشن بھی منسوخ کرسکتا ہے۔

اس کے علاوہ ایکٹ کے مطابق مرکزی / ریاستی حکومت وقتاً فوقتاً علاج سے متعلق معیاری رہنما خطوط (ایس ٹی جی) جاری کرتی ہے جو علاج کی لاگت کو معقول بنانے میں سہولت پیدا کرتے ہیں۔حکومت ہند کی صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کی جانب سے اب تک ایلوپیتھی میں کلینیکل اسپیشلٹی / سُپر اسپیشلٹی سے متعلق 227 امراض کیلئے ایس ٹی جی جاری کی گئی ہیں جبکہ آیوروید کیلئے 18 امراض کیلئے یہ ایس ٹی جی جاری کی گئی ہیں۔

سی ای ایکٹ کا نفاذ اور اس کی نگرانی کا اختیار متعلقہ ریاستی حکومت / یو ٹی انتظامیہ کے پاس ہوتا ہے۔ اب تک گیارہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام 6 علاقوں نے سی ای  ایکٹ کو نافذ کررکھا ہے جبکہ 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ایک علاقے کے پاس اپنا قانون ہے۔

صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ ڈاکٹر بھارتی پروین پوار نے یہ بات لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتائی۔

-----------------------

 

ش ح۔و ا۔ ع ن

U NO: 13800


(ریلیز آئی ڈی: 1778395) وزیٹر کاؤنٹر : 174
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , Bengali , Tamil