پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 DEC 2021 2:12PM by PIB Delhi
ارضیاتی سائنس اورسائنس اور ٹکنالوجی کے مرکزی وزیرمملکت جناب ڈاکٹرجتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ارضیاتی سائنس کی وزارت (ایم او ای ایس )، ایم او ای ایس کے اداروں کے ساتھ مل کر احاطوں کے اندر سنگل پلاسٹک کے استعمال پر پابندی لگاکر پلاسٹک کے استعمال کو روکنے کے لئے کام کررہی ہے۔اس کے علاوہ ایم او ای ایس کے اداروں جیسے ساحلی تحقیق کا قومی مرکز ( این سی سی آر ) ، میرن لیونگ ریسورس اور ایکو لوجی کا مرکز ( سی ایم ایل آر ای )سمندری اطلاعاتی خدمات کا بھارتی قومی مرکز (آئی این سی او آئی ایس ) اور سمندری ٹکنالوجی کا ادارہ ( این آئی اوٹی)سمندری ساحل کی صاف صفائی کی سرگرمیوں کو انجام دے رہے ہیں۔مزید یہ کہ وزارت ،مہمات ، لیکچرز اور سلسلے وار ویبنار کا انعقاد کرکے پلاسٹک کے فضلے سے ہونے والی آلودگی کے بارے میں عوام کے درمیان بیداری پیدا کرنے میں بھی مصروف عمل ہے۔
این سی سی آر کے ذریعہ وزارت، سمندری ساحل میں گندگی (بنیادی طور پر میسو ، میکرو اور مائیکرو پلاسٹکس ) اور پانی میں مائیکرو پلاسٹک اورتلچھٹ اور تجارتی مچھلی ، بائیولس اور مولوسکا سمیت مختلف حیات ونباتا ت کی زندگی سے متعلق تحقیقاتی سرگرمیوں کو انجام دے رہی ہے۔ساحلی پانی ،ساحل اور سمندری کنارے پر موجود تلچھٹ اور بائٹا سے نمونے لے کر مائیکرو ،میسو اور مائکرو پلاسٹک سے ہونے والی آلودگی کے سلسلے میں تجزیہ کیا جارہا ہے۔ مانسون کے دوران مشرقی ساحل پر مائیکرو پلاسٹک کی کثرت دیکھی گئی ہے ۔ندی کے بالکل قریب اسٹیشنوںمیں بڑی تعداد میں مائیکرو پلاسٹک جمع ہوجاتی ہے۔بیچ لیٹر سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ تر کوڑا کرکٹ جوار بھاٹا کےدرمیان زون سے زیادہ سمندر کے پچھلے حصے میں جمع ہوتا ہے۔لہٰذا شہری ساحلوں پر دیہی ساحلوں سے زیادہ کوڑا کرکٹ ہوتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ساحلوں پر 50فیصد سے زیادہ فضلہ سنگل پلاسٹک کے استعمال کی وجہ سے جمع ہوتی ہے۔
*************
ش ح۔ع ح ۔رم
U-13676