خلا ء کا محکمہ

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت مشترکہ تجربات اور مہارت حاصل کرنے کے لیے پلیٹ فارم تشکیل دے کر مزید ملکوں کے ساتھ خلائی تحقیق کے شعبے میں اشتراک اور تعاون سے متعلق تجاویز پر غور و خوض کر رہا ہے

Posted On: 02 DEC 2021 5:04PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،02 دسمبر، 2021/سائنس و ٹکنالوجی کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)؛ ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج ) وزیر اعظم کے دفتر ، عملے ، عوامی شکایات، پنشن ، ایٹمی  توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہبھارت مشترکہ تجربات اور مہارت حاصل کرنے کے لیے پلیٹ فارم تشکیل دے کر مزید ملکوں کے ساتھ خلائی تحقیق کے شعبے میں اشتراک اور تعاون سے متعلق تجاویز پر غور و خوض کر رہا ہے۔

راجیہ سبھا میں آج ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیر موصوف نے بتایا کہ سیٹلائٹ کی تعمیر ارضیاتی مشاہدے کے لیے سائنسی آلات کی تیاری خلائی سائنس اورسیاروں کی تلاش ، خلا ء میں اور آگے جانے والی ٹکنالوجی، سیٹیلائٹ کے اعداد و شمار کے لین دین ، انسان والی خلائی پرواز کی مدد ، خلاء کی صورتحال کے بارے میں جانکاری ، خلائی ٹکنالوجی کے استعمال میں صلاحیت سازی  یہ کچھ خصوصی میدان  ہیں جن میں  مستقبل میں اشتراک  اور تعاون ممکن ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ خلاء کے شعبے کی اصلاحات کے حصے کے طور پر بھارت کا نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھورائزیشن سینٹر کی تشکیل کی گئی ہے تاکہ خلائی سرگرمیوں میں پرائیویٹ شعبے میں مزید  شراکت کو یقینی بنایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اسرو جدید ٹکنالوجی تیار کرنے پر خاص طور پر غور کرے گی  جس کے لیے وہ ٹکنالوجی کے تجرباتی مشن شروع کرے گی جو سیارچوں ، خلائی سائنس سے متعلق مشن ، انسان والی خلائی پروازوں کی اپنی نوعیت کے پہلے مشن ہیں۔ قومی مقاصد کو حاصل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (این ایس آئی ایل) کو سیٹیلائٹ، سیارچوں کو خلاء میں بھیجنے والے راکٹوں اور خدمات کو شروع کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔

۔۔۔

                  

ش ح ۔ اس۔ ت ح ۔                                             

U –13663

 



(Release ID: 1777492) Visitor Counter : 107


Read this release in: English , Hindi