وزارت اطلاعات ونشریات

میں ’’ایکٹ – 1978‘‘ کو ہندوستان کے ہر عام آدمی اور عورت کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں، جس کے پاس سرکاری افسران کے ہاتھوں کام کروانے کی نہ طاقت ہے اور نہ ہی آواز: افّی 52 انڈین پینورما فیچر فلم ڈائریکٹر منجوناتھ ایس۔


’مجھے عزت کی ضرورت ہے؛ مرکزی کردار گیتا کا پورے حکومتی نظام کے لیے یہی نعرہ ہے، جو اس نظام کے بنیادی حصے کو جھنجھویڑنے کے لئےہے جس نے اسےع پاس کوئی اختیار نہی چھوڑا ہے: ایکٹ- 1978 کے ڈائریکٹر

Posted On: 25 NOV 2021 6:36PM by PIB Delhi

نئی دہلی،25نومبر 2021:  حکومتیں عوام کی خدمت کے لیے ہوتی ہیں، لیکن اکثر عام شہری کو اس خدمت کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے، ایک کے بعد ایک دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے، جس کا وہ حقدار ہے۔ ایکٹ- 1978، ہدایت کار منجوناتھ ایس کی 2020 کی کنڑ فلم، اس طرح کی اذیت ناک اور سخت آزمائش سے بھرپور راحت دلاتی ہےکیونکہ یہ تجربہ بہت سے بے بس عام شہریوں کے لیے اجنبی نہیں ہے۔

’’میں اپنی فلم، ہندوستان کے ہر عام اس مرد اور عورت کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں، جس کے پاس سرکاری افسران کے ہاتھوں کام کروانے کی طاقت،استطاعت یا آواز نہیں ہے۔‘‘ ڈائرکٹر نے یہ بات 24 نومبر 2021 کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو کہ 20سے28 نومبر 2021 کے دوران گوا میں ہائبرڈ فارمیٹ میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا کے 52 ویں ایڈیشن کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/3-1KQ5L.jpg

فلم کو افّی میں فلم کے شائقین کے لیے، فیسٹیول کے انڈین پینورما سیکشن کی فیچر فلم کیٹیگری میں نمائش کے لئےپیش کیا گیا ہے۔

ڈائرکٹر نے افی کے مندوبین کو بتایا کہ فلم، ناظرین کو، حکمرانی کی مشینری اور افسر شاہی میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایک عام عورت کی مایوس کن جدوجہد میں، حصہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔ فلم کی مرکزی کردار گیتا، ایک حاملہ بیوہ ہے، جسے نظام کے ہاتھوں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ایک دفتر یا ایک جگہ سے دوسری جگہ کےچکر لگائے، تاکہ وہ اس رقم کوحاصل کر سکے جو حکومت کی طرف سے اسےر لے پہلے ہی منظور کر دی گئی تھی۔ جب اس کی بار بار کی جانے والی کوششیں بے سود رہتی ہیں، تو وہ اپنے حق کا دعویٰ کرنے کے لیے ایک بالکل ہی غیر روایتی راستہ اختیار کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتی۔

رشوت مانگے جانے سے تنگ آکر، گیتا ایک دن فیصلہ کرتی ہے کہ اب بہت کافی سے زیادہ ہو چکا ہے۔ وہ اپنا حق حاصل کرنے کے لیے پرتشدد راستہ اختیار کرتی ہے۔ وہ اپنے پیٹ پر بم باندھ کر سرکاری دفتر پہنچ جاتی ہے۔ منجوناتھ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’’یہ ایک عورت کی طرف سے نظام کے بنیادی حصے کو جھنجھورڑنے کے لیے ایک ہنگامہ خیز ہلچل ہے جس نے اسےو لئےکوئی اختیار ہی نہیں چھوڑا ہے‘‘۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/3-2X0VP.jpg

انتہائی موثر اور سوالیہ فلم سازی کے لیے ترغیب،شعلہ صفت ڈائرکٹر کے ذاتی تجربے سے روشن ہوئی۔ ’’ایکٹ- 1978 بنانے کے لیے میری تحریک قطعی ذاتی ہے۔ اس کا تعلق میرے مرحوم والد کی پنشن فائل سے ہے جسکے سلسلے میں جب میں نے ایک سرکاری دفتر سے رجوع کیا تو میں نے کیا تجربہ کیا؟‘‘

ڈائرکٹر نے یاد دہانی کرائی کہ کس طرح سسٹم، جان بوجھ کر اس عمل میں تاخیر کر رہا تھا اور اسے اس کے ہاتھوں کس طرح نقصان اٹھانا پڑاتھا۔ ’’جب مہینوں تک ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک بھاگنے کے بعد بھی، میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں رہا تھا، تومیں نے اپنا پرانا میڈیا کارڈ استعمال کیا اور انہیں دھمکی دی کہ اگر وہ فوری کارروائی نہیں کریں گے تو اس کی میڈیا کوریج ہوگی۔‘‘

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/3-34WOM.jpg

ایکٹ- 1978 کا عنوان کرناٹک شہری خدمات کے قانون 1978 کا براہ راست حوالہ ہے۔ منجوناتھ نے انکشاف کیا کہ کس طرح انہیں اپنے والد کے پنشن کیس کے سلسلے میں جس طرح کے تکلیف دہ تجربے سے گزرنا پڑا تھا،اس نے انہیں اس قانون کا بہت گہرائی سے مطالعہ کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ’’میں نے محسوس کیا کہ سرکاری افسران کی اکثریت کو، عام آدمی کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ غلط بھی کریں گے تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ یہاں تک کہ اگر کچھ تعزیراتی کارروائی شروع کی جاتی ہے، وہ اس سے نکلنے کے پیچیدہ طریقوں سے بخوبی واقف ہیں۔

یہ فلم، بیوروکریسی کی گھٹیا خود غرضی سے متعلق ایک سمجھوتہنہ کرنے والے اور غیر واضح تیز بیان کی ترجمانی کرتی ہے۔ ڈائرکٹر نے کہا، ’’میرا ماننا ہے کہ بیوروکریسی ان اصولوں اور ضوابط کا اپنےمقصد کے لئےغلط استعمال کرتی ہے، جو عام آدمی کے فائدے کے لیے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ فلم متعدد نظامی بیماریوں جیسے کہ بدعنوانی اور بیوروکریسی کی غفلت کو اجاگر کرنےی کوشش کرتی ہے۔

ہدایت کار کا کہناہے کہ مرکزی کردار گیتا ان سبھی غیر منصفانہ اور بدعنوان طور طریقوں پر سوال کھڑا کرتی ہے۔ ’’میرا مرکزی کردار سرکاری اہلکاروں کی بے حسی ، بدعنوانی اور نظر انداز کرنے کے برتاؤ پر سوال کرتا ہے۔ وہ ان سے کہتی ہے کہ وہ اسے انسان سمجھیں۔ فلم کا شعلہ بیان مشہور ڈائی لاگ ’مجھے عزت کی ضرورت ہے‘، پورے نظام کے لیے اس کی فریاد کی آواز ہے۔‘‘

ڈائرکٹر کو امید ہے کہ ایکٹ-1978 تبدیلی کی لہریں پیدا کرے گی جو ناظرین کو گہری عکاسی اور روشن خیال عمل کی طرف راغب کرے گا۔ ’’تبدیلی کی ضرورت ہے اور میں نے اس تبدیلی کے لیے اس سوچ کے بیج بونے کی کوشش کی ہے۔‘‘

منصور، عرف منجوناتھ سوماکشا ریڈی، کنڑ فلموں کے ڈائرکٹر ہیں۔ ان کی پہلی فلم ’ہری وو‘ (2014) نے قومی ایوارڈ حاصل کیا تھا جبکہ ان کی فلم ’نتھی چرامی‘ (2018) میں چار قومی فلمی ایوارڈ جیتے ہیں۔

*****

U.No.13296                                        

(ش ح - اع - ر ا)   

 



(Release ID: 1775191) Visitor Counter : 227


Read this release in: Hindi , English , Marathi