زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

مرکزی وزیر زراعت جناب نریندر سنگھ تومر نے ناگالینڈ میں کسان بھون اور شہد کی مکھی پالنے والوں کی کانفرنس کا ورچوئل طور سے افتتاح کیا


ہندوستان نے21-2020 میں 1.25 لاکھ میٹرک ٹن شہد پیدا کیا اور 60 ہزار میٹرک ٹن برآمد کیا: جناب نریندر سنگھ تومر

جناب تومر نے کہا کہ حکومت کا بنیادی ہدف چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانا ہے

Posted On: 11 NOV 2021 6:15PM by PIB Delhi

نئی دہلی:11؍نومبر،2021۔زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچر، ناگالینڈ میں کسان بھون اور شہد کی مکھیاں پالنے والوں کی کانفرنس کا ورچوئل طور پر افتتاح کیا۔ جناب تومر نے اپنی بات چیت میں کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانا وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت کا ایک بڑا ہدف ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0017O1N.jpg

@آزادی کے امرت مہوتسو کے تحت منعقدہ اس پروگرام میں جناب تومر نے کہا کہ شمال مشرقی خطے کی آب و ہوا زراعت کے لیے سازگار ہے۔ یہ علاقہ باغبانی فصلوں بالخصوص پھلوں اور سبزیوں، پھولوں اور مصالحوں کی کاشت کے لیے مثالی ہے۔ باغبانی میں شمال مشرقی خطے کے چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچر، ناگالینڈ کو مرکزی وزارت برائے زراعت اور کسانوں کی بہبود کی مرکزی سیکٹر کی اسکیم کے تحت قائم کیا گیا تھا اور یہ انسٹی ٹیوٹ باغبانی کی ترقی اور کسانوں کی بہبود کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ ریاست مرکزی حکومت، ایف پی او اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اچھی طرح کام کر رہی ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ کسانوں کے معیار زندگی میں اس مقصد کے ساتھ تبدیلی لائے گا کہ کسان ناگالینڈ کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

جناب تومر نے کہا کہ وزیر اعظم جناب مودی چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کسانوں کی مشکلات کو دور کرنے، انہیں بینکوں کے ذریعے آسان قرض فراہم کرنے، ان کے لیے زراعت میں منافع بڑھانے پر پورا زور دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پردھان منتری کسان سمان ندھییوجنا کے ذریعے کسانوں کو ہر سال چھ ہزار روپے آمدنی میں اضافہ کرنے کے لئے دیئے جارہے ہیں۔ حکومت چھوٹے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔

شہد کی مکھیوں کے پالنے کے عمل کو کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے ایک معاون وسیلہ بتاتے ہوئے جناب تومر نے کہا کہ شہد کا مشن میٹھا انقلاب لانے کے لیے شروع کیا گیا ہے اور مرکزی حکومت نے اس پر 500 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ یہ انتظام خود کفیل بھارت مہم کے تحت کیا گیا ہے۔ حکومت ہند کے 10 ہزار نئے فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی او) بنانے کے منصوبے کے تحت شہد پیدا کرنے والے کسانوں کے ایف پی او بھی بنائے جا رہے ہیں۔ شہد کو صحیح طریقے سے جانچنے کے لیے ملک میں کئی مقامات پر لیبز قائم کی گئی ہیں اور پروسیسنگ کی سہولتوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ شہد کی مکھی پالنے والوں اور حکومت کی اجتماعی کوششوں سے ملک میں شہد کی پیداوار سال 14-2013 میں 76150 میٹرک ٹن سے بڑھ کر سال21-2020 میں 1.25 لاکھ میٹرک ٹن ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہد کی مکھیوں کے پالنے کے شعبے سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کیمدد سے سال 21-2020 میں شہد کی برآمدات 14-2013 میں 28 ہزار میٹرک ٹن سے بڑھ کر تقریباً 60 ہزار میٹرک ٹن ہوگئی ہے۔ جناب تومر نے ریاستی حکومتوں سے توقع ظاہر کی کہ تمام سہولتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شہد کی مکھی پالنے والے کسانوں کو ان کی پیداوار کی اچھی قیمت فراہم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کا ایک ہی مقصد ہونا چاہیے کہ چھوٹے کسانوں کو ان کی پیداوار کی زیادہ سے زیادہ قیمت ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شہد پیدا کرنے والے کسانوں کو ریاستی حکومت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہیے، مرکزی حکومت ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔

پروگرام میں کسانوں کی مصنوعات کی نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ کسانوں کو کاشتکاری میں نئے تجربات کے لیے منی کٹس فراہم کی گئیں۔ تربیتیافتہ کسانوں کی تیار کردہ مصنوعات کی رونمائی کی گئی۔ سالانہ رپورٹ – تکنیکی بلیٹن جاری۔ زراعت اور کسانوں کی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت شوبھا کرندلاجے تقریب میں مہمان خصوصی تھیں۔ زراعت کے سکریٹری جناب سنجے اگروال، ایڈیشنل سکریٹری جناب ابھیلکش لکھی اور جناب وویک اگروال، زراعت اور باغبانی کے کمشنر ڈاکٹر ایس کے۔ ملہوترا، پودوں کی اقسام اور کسانوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر کے وی۔ پربھو، گورنر کے سکریٹری جناب ٹی مہابیموینتھن، کمشنر اور ناگالینڈ کی باغبانی سکریٹری محترمہ اننلا ٹی ساتو، حکومت کی باغبانی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ای لوتھا، بورڈ آف مینجمنٹ (بی او ایم) کے اراکین جناب شیو انجن ڈالمیا اور جناب دیواکر چاچڑی اور سینکڑوں شہد کی مکھیاں پالنے والے اور دیگر کسان موجود تھے۔ سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچر کے ڈائرکٹر ڈاکٹر این کے پاٹلے نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ ڈاکٹر ملہوترا نے کلمات تشکر پیش کئے۔

 

 

 

-----------------------

ش ح۔م ع۔ ع ن

U NO:12759



(Release ID: 1771146) Visitor Counter : 173


Read this release in: English , Hindi , Manipuri