ٹیکسٹائلز کی وزارت

کسانوں کو براہ راست مدد فراہم کرنے کی غرض سے کپاس کے 15-2014 سے 21-2020


تک کے سیزن کے لئے سی سی آئی کو 17408 کروڑروپے کا ایم ایس پی فنڈ فراہم کیاگیا

ایم ایس پی سے متعلق اقدامات کی بدولت ملک میں کپاس پیداکرنے والے کسانوں کو ترغیب حاصل ہوتی ہے کہ وہ کپاس کی کاشتکاری میں اپنی جاری کوششوں کو برقراررکھیں اورمعیار ی کپاس کی پیداوار میں بھارت کو آتم نربھربنائیں

سی سی آئی کے پاس 143 اضلاع میں سرکاری خریداری کے 474مراکز کے ذریعہ کپاس پیداکرنے والی تمام 11بڑی ریاستوں میں بنیادی ڈھانچہ موجودہے

کپاس کے گذشتہ دوسیرن میں سی سی آئی نے ملک میں کپاس کی کل پیداوار کے لگ بھگ ایک تہائی حصے کی خریداری کی ہے اور کپاس پیداکرنے والے تقریبا 40لاکھ کسانوں کے بنک کھاتوں میں براہ راست 55000 کروڑروپے سے زیادہ جمع کرائے ہیں

عزت مآب وزیراعظم جناب نریندرمودی کی قیادت کے تحت حکومت نے ، آتم نربھر بھارت سے متعلق ہمارے اجتماعی نظریہ کو حقیقت کی شکل دینے کی جانب ایک اورقدم اٹھاتے ہوئے ، کپاس کی پیداوار

کے 15-2014سے 21-2020تک کےسیزن کے لئے آئی سی سی کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی ) کے تحت 17408کروڑروپے کا فنڈ فراہم کیاہے ، اس قدم سے کسانوں کو براہ ر

Posted On: 10 NOV 2021 5:13PM by PIB Delhi

نئی دہلی ،10نومبر:کپاس ، فروخت کی جانے والی سب سے اہم فصلوں  میں سے ایک فصل ہے اوریہ کپاس کی کاشتکاری کرنے والے تقریبا 85لاکھ کسانوں کو مسلسل ذریعہ معاش کی فراہمی میں ایک بڑا کرداراداکرتی ہے ۔ اس کے علاوہ 400تا500 لاکھ افراد ، کپاس کو پروسیز کرنے اورتجارت جیسی متعلقہ سرگرمیوں میں مصروف ہیں ۔ کپاس کے 21-2020کے سیزن کے دوران کپاس کی کاشتکاری کے تحت 133لاکھ ، ہیکٹیئرس آراضی پرفصل اگائی گئی۔ جس کے سبب اندازاً 360لاکھ گانٹھوں  کی پیداوار  ہوئی۔ یہ کپاس کی کل عالمی پیداوار کی لگ بھگ 25فیصد پیداوارہوتی  ہے ۔

حکومت نے ، زرعی لاگت  اورقیمتوں سے متعلق کمیشن (سی اے سی پی ) کی سفارشات کی بنیادپر کپاس کے بیج کے لئے کم از کم امدادی قیمت مقرر کی ہے ۔ حکومت نے اے سی سی  کو مرکزی نوڈل ایجنسی کے طورپرمقررکیاہے اور سی سی آئی  کو اختیاردیاہے کہ وہ جب بھی کپاس کی قیمتیں ایم ایس پی کی سطح سے نیچے گریں ، مقدار سے متعلق کسی بھی حدکے بغیر کسانوں سے تمام ایف اے کیو درجہ کی کپاس کی سرکاری خریداری کریں اور کپاس میں ایم ایس پی کو قائم رکھیں ۔ ایم ایس پی اقدامات  کی بدولت کپاس پیداکرنے والے کسانوں کو ، قیمتوں سے متعلق کسی بھی ناموافق  صورتحال کے دوران ، پریشان ہوکر کپاس  سے فروخت  کردینے سے تحفظ  فراہم ہوتاہے ۔ ایم ایس پی سے متعلق کارروائیوں  کی وجہ سے ملک کے کپاس  پیداکرنے والے کسانوں کو ترغیب حاصل ہوتی ہے کہ وہ کپاس کی کاشتکاری میں اپنی جاری دلچسپی کو برقرار رکھیں اوربھارت  کو معیاری  کپاس کی پیداوار  میں آتم نربھر یعنی خود کفیل بنائیں ۔ کپاس  ، سوت  یادھاگے بنانے والی صنعت کے لئے ایک خام مال  ہے ۔

عالمی وباء کے دوران کپاس کی پیداوار  کے گذشتہ  دوسیزنوں ( 21-2020 اور 20-2019) میں ، سی سی آئی  نے ملک میں کپاس کی کل پیداوار  کے لگ بھگ 40 لاکھ کسانوں کے بنک کھاتوں میں براہ راست 55000کروڑروپے سے زیادہ  جمع کردیئے ہیں ۔

کپاس کے رواں سیزن ( یعنی اکتوبر ، 2021-ستمبر 2022) کے لئے ، سی سی آئی نے ایم ایس پی کارروائی سے متعلق کسی بھی امکان سے نمٹنے کے مقصد سے پہلے ہی 143 اضلاع میں سرکاری خریداری کے 474مراکز کھول کر ، کپاس کی پیداوار  والی تمام 11بڑی ریاستوں میں خاطر خواہ انتظامات  کرلئے ہیں ۔ حکومت نے کپاس سے متعلق ایم ایس پی کارروائیوں  کو انجام دینے کی غرض سی سی آئی کے سلسلے میں مکمل مدد فراہم کی ہے۔

****************

 

ش ح۔ع م۔ ع آ 

U. NO. 12737



(Release ID: 1770914) Visitor Counter : 121


Read this release in: English , Hindi , Tamil