جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت

چوتھے بین اقوامی شمسی اتحاد کے اجلاسِ عام  کی افتتاحی تقریب


وزیر اعظم مودی کے ’ون سن ون ورلڈ ون گرڈ‘ پہل اورایکٹریلین امریکی ڈالر کی شمسی سرمایہ کاری  کو عملی جامہ پہنانے پر غور و خوض کے لئے سالانہ اجلاس

Posted On: 18 OCT 2021 3:39PM by PIB Delhi

بین اقوامی شمسی اتحاد (دی انٹرنیشنل سولر الائنس) کا چوتھا عام اجلاس 18 اکتوبر اور 21 اکتوبر 2021 کے درمیان غیر روایتی طور پر منعقد کیا جائے گا۔ اجلاس کی صدارت توانائی اور نئی اور قابل تجدید توانائی کے وزیر جناب  آر کے سنگھ کریں گے جو آئی ایس اے اسمبلی کے صدر بھی ہیں۔ امریکی خصوصی صدارتی نمائندے برائے موسمیات جان کیری 20 اکتوبر کو کلیدی خطبہ پیش کریں گے اور یورپی گرین ڈیل کے یورپی کمیشن کے ایگزیکٹو نائب صدر  فرانز ٹمرمینز بھی 20 اکتوبر کو ہی اجتماع سے خطاب کریں گے۔

 

آئی ایس اے سیکریٹریٹ نے 18 اکتوبر 2021 کو آئی ایس اے کے مختلف تزویراتی اقدامات پر تکنیکی اجلاس کی ایک سیریز مرتب کی ہے۔ اور 20 اور 21 اکتوبر 2021 کو شراکت دار اور دیگر تنظیموں کے اشتراک سے شمسی اور صاف توانائی کے شعبے میں مختلف ہنگامی امور پر تکنیکی اجلاس ہوں گے۔

 

آئی ایس اے کے چوتھے اجلاس میں او ایس او ڈبلیو او جی پہل کو عملی شکل دینے، 2030 کے لئے ایک ٹریلین امریکی ڈالر کی شمسی سرمایہ کاری کے روڈ میپ اور مخلوط مالیاتی خطرہ  کم کرنے کی سہولت کی منظوری کے تعلق سے اہم اقدامات پر غور کیا جائے گا۔آئی ایس اے کے رکن ممالک کے عالمی رہنما اگلے پانچ برسوں کے لئے آئیایس اے کے تزویراتی منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کریں گے جو ملکی شراکت داری کے فریم ورک، نجی شعبے کی شمولیت کی حکمت عملی اور اس طرح کے اقدامات پر محیط ہوگا جیسے آئی ایس اے کے اراکین میں شمسی توانائی کے منصوبوں کے لئے کم لاگت والی سرمایہ کاری کی سہولت کے لئے وائیبلٹی گیپ فنانسنگ اسکیم۔ گلوبل انرجی الائنس (جی ای اے) کے ساتھ آئی ایس اے شراکت داری پر بھی تبادلہ خیال کرے گا تاکہ ایل ڈی سی اور ایس آئی ڈی ایس کو تکنیکی اور مالی مدد کا اندازہ لگایا جاسکے۔

 

او ایس او ڈبلیو او جی  کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ پر اجلاس میں بحث متوقع ہے۔شمسی توانائی کے لئے ایک واحد عالمی گرڈ کا تصور پہلی بار 2018 کے آخر میں آئی ایس اے کے پہلے اجلاس میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ دنیا بھر میں شمسی توانائی کے اشتراک  کے لئے بین علاقائی پاور گرڈز کے قیام اور اور پیمائش کا تصور کرتا ہے۔یہ ٹائم زون، موسم ، وسائل ، اور ممالک اور علاقوں کے درمیان قیمتوں میں فرق کا بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔ او ایس او او جی توانائی کی پیداوار کو ڈی کاربونائز کرنے میں بھی مدد کرے گا ، جو آج عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

 

او ایس او ڈبلیو او جی  پر ہندستان کی نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت کے ساتھ  ملکر ورلڈ بینک اور آئی ایس اے  سہ فریقی معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں،یہ اقدام دنیا کا سب سے اہم قابل تجدید قابل معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ توانائی کی پیداوار اور ترسیل میں بے مثال معیشتوں کے در وا کر سکتا ہے۔ سخت جائزوں اور ماڈلنگ نے اس اقدام کی تکنیکی اور معاشی استحکام کی تصدیق کی ہے  جس سے  کاروبارکا ایک مضبوط کیس قائم ہوا ہے۔ اس کے تجارتی امکانات کو کثیر الجہت ترقیاتی بینکوں جیسے ورلڈ بینک نے مزید بڑھایا ہے جس سے شمسی توانائی کے اخراجات کو کم کرکے مارکیٹ سامنے لانے میں مدد مل رہی ہے۔

 

اسمبلی آئی ایس اے کا اعلیٰ فیصلہ ساز ادارہ ہے جس میں ہر رکن ملک کو نمائندگی حاصل ہے۔ یہ ادارہ آئی ایس اے کے فریم ورک معاہدے کے نفاذ سے متعلق فیصلے کرتا ہے اور اس کے مقصد کے حصول کے لئے مربوط اقدامات کئے جاتے ہیں۔ وزارتی سطح پر اسمبلی کا سالانہ اجلاس آئی ایس اے کی نشست پر ہوتا ہے پروگراموں اور دیگر سرگرمیوں کے مجموعی اثر کا شمسی توانائی کی تعیناتی، کارکردگی، معتبریت، نیز لاگت اور سرمایہ کاری کے پیمانے کے لحاظ سے جائزہ لیا جاتا ہے۔

 

 

 

<><><><><>

 

 

 

ش ح،ع س، ج

U.No. : 11073

 



(Release ID: 1764831) Visitor Counter : 181


Read this release in: English , Hindi , Tamil , Malayalam