سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سائنس اور ٹیکنالوجی کا مستقبل وہی ہوگا، جو ذہن چاہتا ہے اور وہ زندگی کے سبھی پہلوؤں کو متاثر اور کنٹرول کرے گا: پروفیسر آشوتوش شرما

Posted On: 28 SEP 2021 5:31PM by PIB Delhi


سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمے کے سابق سکریٹری پروفیسر آشوتوش شرما نے کہا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی مستقبل میں ہر چیز کو متاثر اور کنٹرول کرے گی،  چاہے وہ تعلیم، صحت، معیشت، حکمرانی اور باقی کچھ بھی ہو۔  جناب شرما نے یہ باتیں 21 ستمبر 2021 کو شام کو دیئے گئے  ایک بیان میں کہی ہیں۔

پانچ  ایم- میکینکس (سمجھ)،  مٹیریئلس ، مشینیں، (آلات، سسٹم)، مینوفیکچرنگ اور او (مین)، سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیاد اور راستے ہیں۔ جو سائنس اور ٹیکنالوجی  کو چلائے گا، ایس این ٹی کا مستقبل وہی ہوگا، جو دل چاہتا ہے۔ پروفیسر آشوتوش شرما نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا مستقبل وہی ہوگا، جو دل چاہے گا۔ پروفیسر آشوتوش شرما نے یہ باتیں ڈی ایس ٹی اور بایو ٹیکنالوجی کے محکمے ڈی بی ٹی کے سکریٹری ڈاکٹر رینو سوروپ کی جانب سے منعقدہ اے بِریف ہسٹری آف دی فیوچر : ایس  اینڈ ٹی پرسپیکٹیو نامی لیکچر میں کہی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0013WX8.jpg

 سابق سکریٹری نے کہا کہ آج سائنس اور ٹیکنالوجی ہر شخص کی زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ بن گئی ہیں۔  ایسے میں مستقبل سائنس اور ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ انحصار ہونے والا ہے اور یہ سب چیزوں کو متاثر کرے گا۔ ہم نے  50 سال پہلے ٹیکنالوجی کے پوائنٹ آف ویو سے دیکھا تھا، لیکن آج ہم ٹیکنالوجی کو سماج کے چشمے سے دیکھ رہے ہیں اور عام لوگ اس کے مرکز میں ہیں۔ مستقبل  کا دارومدار ٹیکنالوجیز کی تبدیلیوں پر منحصر ہے۔ ٹیکنالوجی کی اختراعات  ہماری ضروریات، مطالبات، خواہشات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ لالچ کا بھی پرتو ہیں۔  پروفیسر شرما نے بتایا کہ اس طرح کی ضرورتوں  میں صحتمند رہنے کی خواہش زندگی کی بہتر کوالٹی  ، برابری سے جڑے رہنے، سیکھنے اور نافذ کرنے ، مشکل حالات میں فیصلہ لینے، تفریح کرنے، اپنی دنیا بنانے اور کنٹرول کرنے کے علاوہ جینے کی خواہش شامل ہیں۔   پروفیسر شرما نے ان باتوں کو تفصیل سے سمجھاتے ہوئے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی  کے مستقبل  کا عمل آلات پر مرتکز ہونے کے بجائے مسائل پر مرتکز ہو جائے گا، اس کے لئے ڈاٹس، داخلی صلاحیت اور عام سوجھ بوجھ کو استعمال کر  کے اور اسے مربوط کرکے خلاقیت پیدا کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی ساتھ  اجماع اور رونما ہونے والی تبدیلیوں کا بھی لحاظ رکھنا ہوگا اور اختراع و ایجاد پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔

اس موقع پر نیتی آیوگ کے ممبر پروفیسر وی کے پال، نیشنل ہیلتھ اتھارٹی آف انڈیا کے سی ای او جناب آر ایس شرما، ٹیکسٹائل کی وزارت کے سکریٹری جناب یوپی سنگھ، لوک پال آف انڈیا کے ممبر جناب دنیش جین، ایم او ای ایف اور سی سی کے سکریٹری جنا ب آر پی گپتا، زراعت کے سکریٹری جناب سنجے اگروال ، ڈی ایس آئی آر اور ایم او ای ایس  کے سکریٹری ڈاکٹر شیکھر  سی مانڈے، پرنسپل اقتصادی مشیر سندیپ سانیا ل بھی لیکچر کے لئے موجود تھے۔ ڈی ایس ٹی کے سینئر مشیر ڈاکٹر اکھلیش گپتا کی جانب سے اس پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا، جبکہ  سائنٹسٹ -جی، سنجیو وارشنے نے اس پروگرام کا اہتمام کیا تھا۔ ڈی ایس ٹی، ڈی بی ٹی اور ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

*****

 

ش ح – ح ا۔ ک ا

U. NO: 9505



(Release ID: 1759216) Visitor Counter : 124


Read this release in: English , Hindi , Tamil