بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت

وزیراعظم  کی سالگرہ کے موقع  پر، کے وی آئی سی نے وارانسی میں کاریگروں کو بااختیار بنانے کے لئے کئی اسکیمیں شروع کیں

Posted On: 17 SEP 2021 4:06PM by PIB Delhi

کھادی اینڈ ویلج انڈسٹریز کمیشن (کے وی آئی سی) نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی سالگرہ، "سیوا دیوس" کے موقع پر اسپن (اسٹرینتھننگ دی پوٹینشیل آف انڈیا) کے نام سے ایک منفرد اسکیم شروع کی ہے اور حاشیہ پر رہنے والے  کمہار برادری کے 1100 سے زائد افراد کو بااختیار بنانے کے لئے ورانسی  میں اسپھورتی اسکیم کے تحت ایک پوٹری کلسٹر قائم کیا۔ اس موقع پر اسپن اسکیم کے شرکا کے لئے 780 الیکٹرک پوٹر وھیل (بجلی سے چلنے والے چاک)  منظور کئے گئے۔ اس کے علاوہ، کے وی آئی سی نے گجرات کے کیوڑیا میں خواتین کاریگروں کو خودروزگار اور پائیدار ذریعہ معاش کے ساتھ جوڑنے کے لئے 50 چرخے تقسیم کئے۔ اس موقع پر کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب ونے کمار سکسینہ موجود تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001BY3R.jpg

 

انتہائی چھوٹی ،  چھوٹی اوردرمیانہ  درجہ کی صنعتوں کے مرکزی  وزیرمملکت جناب بھانوپرتاپ سنگھ ورما نے اسپن اسکیم کا افتتاح کیا جس میں اترپردیش، بہار،  راجستھان  اور جھارکھنڈ کے 780 کمہاروں نے اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے بینک سے مالی مدد کے لئے رجسٹریشن کرایا ہے۔ ان میں سے 110 کاریگر ورانسی کے ہیں ۔ اتفاق سے، کمہار برداری کو بااختیار بنانا اور مٹی کے برتنوں کے معدوم ہوتے ہوئے فن کو محفوظ کرنا وزیراعظم کا خواب ہے۔

کمہار سشکتی کرن یوجنا، جو ایک سبسڈی پر مبنی پروگرام ہے، کے برعکس اسپن اسکیم رجسٹریشن کمہاروں کو وزیراعظم شیشو مدرا یوجنا کے تحت بینکوں  سے  راست  قرض حاصل کرنے  کا اہل بناتی ہے۔ اسپن اسکیم کے تحت ، کے وی آئی سی آر بی ایل بینک کے ذریعہ سے کمہاروں کو  مالی مدد کے لئے سہولت  کار کے طور پر کام کررہا ہے اور اس اسکیم کو منتخب کرنے والے کاریگروں کو تربیت  بھی فراہم کررہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت خزانے پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑے گا اور کمہار آسان قسطوں میں قرض واپس کرسکیں گے۔ اس طرح ، اسپن اسکیم کا مقصد  بھارت میں مٹی کے برتنوں کے شعبے میں خود انحصاری پیدا کرنا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002JXV9.jpg

 

جناب ورما نے ورانسی کے بھٹی گاوں میں ’’کاشی پوٹری کلسٹر‘‘ کا ابھی افتتاح کیا۔ اسپھورتی اسکیم کے تحت کے وی آئی سی کے ذریعہ قائم وارانسی ضلع میں یہ پہلا پوٹری کلسٹر ہے۔ 2.50 کروڑ روپئے کی لاگت سے 7100 مربع فٹ کےرقبہ میں قائم یہ کلسٹر مٹی کے برتنوں کے ان 340 کاریگروں کو براہ راست روزگار فراہم کرےگا جنہیں کے وی آئی سی کے ذریعہ تربیت دی گئی ہے۔ یہ کلسٹر مٹی کے برتنوں کے زیادہ پروڈکشن کے لئے فرنیس، الیکٹرک پوٹر وھیلز، بلنگر مشین، پگ مل اور دیگر جدید آلات  سے لیس ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003H5N5.jpg

 

وزیرموصوف  نے کہا، ’’اسپن کمہاروں کو خود کفیل بنانے کے لئے ایک خصوصی طور سے  تیار کیا گیا پروگرام ہے۔ اس منصوبے کے تحت ، کے وی آئی سی کمہاروں کو بینکوں سے آسان قرض حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرے گا جس سے کمہاروں کو  ان کی سرگرمیوں میں تنوع لانے ارو ان کی آمدنی بڑھانے میں مدد ملے گی۔ اس سے سرکاری سبسڈی پر ان  کا انحصار کم ہوگا اور اس طرح ہمارے کمہار خودکفیل بنیں گے۔‘‘ انہوں نے ساتھ ہی کہاکہ نیا کاشی پوٹری کلسٹر روایتی کمہاروں کو جدید آلات کی مدد سے اپنے ہنر کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا جو آخرکار انہیں بازار میں ایک بڑے حصے پر قبضہ کرنے اور بہتر آمدنی حاصل کرنے میں اہل بنائیں گے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004EPJL.jpg

 

کے وی آئی سی کے چیئرمین سکسینہ نے کہا کہ ادارے کا اہم مقصد مقامی خودروزگار پیداکرکے  پائیدار ترقی کرنا ہے جو ’’ ہر ہاتھ میں کام‘‘ کے وزیراعظم کے عزم کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا ،’’ اسپن اسکیم اور کاشی پوٹری کلسٹر کمہار کمیونٹی کو بااختیار بنانے میں اہم رول ادا کریں گے، جو کہ وزیراعظم کا خواب ہے۔ مٹی کے برتنوں کے علاوہ، کے وی آئی سی اسپن اسکیم کے تحت دیگر روایتی فنون کو مضبوط کرنے پر بھی غور کرے گا۔‘‘

 

ا س کے علاوہ کے وی آئی سی نے وارانسی میں 80 کارپینٹری کاریگروں کو ٹول (اوزار) سیٹ تقسیم کئے اور ورانسی کے سیواپوری آشرم میں بانس کے 2000 پودے  بھی لگائے۔

اسپن اسکیم کی اہم خصوصیات:

  •  یہ ایک بغیر سبسڈی والا پروگرام ہے
  • کے وی آئی سی  کمہاروں کو پردھان منتری شیشو مدرا یوجنا کے تحت بینک قرض حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے
  • اس سے سرکاری  خزانہ پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑے گا
  • فائدہ اٹھانے والےا فراد آسان قسطوں میں قرض ادا کرسکتے ہیں

 

 

******

 

 

ش ح۔ف ا ۔ م  ص

 (U: 9112)



(Release ID: 1755956) Visitor Counter : 178


Read this release in: English , Hindi , Bengali