کامرس اور صنعت کی وزارتہ

برآمدات کے امکانات اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے ، اپیڈا نے آئی سی اے آر-ا جوارکی تحقیق کے ہندوستانی انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ مفاہمت نامہ پر دستخط کیے


مفاہمت نامہ کی کلیدی توجہ جوار کی قابل عمل اقسام کی تجارتی کاشت کو فروغ دینا ہے

مفاہمت نامہ میں کسانوں کے ساتھ ساتھ، کسانوں کی پیداوری تنظیموں کے ساتھ، مارکیٹ روابط پیدا کرنے کا بھی تصور ہے

مفاہمت نامہ ان بھولی ہوئی فصلوں کے لیے برآمدات مرکوز ایکو سسٹم اور اقداری سلسلہ بنائے گا۔

دونوں ادارے مشترکہ طور پر ایک برآمدی حکمت عملی اور جوار کی برآمدات بڑھانے کے لیے اسکیمیں تیار کریں گے

Posted On: 03 SEP 2021 6:02PM by PIB Delhi

نئی دہلی،3 ستمبر2021:   معیاری پیداوار اور پروسیسنگ کے ذریعے برآمدات بڑھانے کے لیے، زرعی اور ڈبہ بند خوراک کی مصنوعات کی برآمداتی ترقیاتی اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) نے آج آئی سی اے آر-جوارکی تحقیق کے ہندوستانی انسٹی ٹیوٹ (آئی سی اے آر-آئی آئی ایم آر) کے ساتھ مفاہمت نامہ پر دستخط کیے جس سے ویلیو ایڈیشن اور کسانوں کی آمدنی کو فروغ ملے گا۔

مفاہمت نامہ کی اہم توجہ پروسیسبل اقسام کی تجارتی کاشت کو فروغ دینا ہوگی جو آئی سی اے آر-آئی آئی ایم آر نے برآمدات کے لیے تیار کی ہے جس سے توقع کی جاتی ہے کہ جوار کے اقداری اضافےکو فروغ ملے گا جو کہ ایک اعلی تغذیائی اناج ہے۔

مفاہمت نامہ میں کسانوں کے ساتھ ساتھ کسانوں کی پیداوری تنظیموں کے ساتھ مارکیٹ روابط پیدا کرنے کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ اے پی ای ڈی اے اور آئی سی اے آر-آئی آئی ایم آر کے نمائندوں کے ساتھ ایک مشترکہ رابطہ کمیٹی قائم کی جائے گی تاکہ مفاہمت نامہ کے تحت مقرر کردہ اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔

مفاہمت نامہ کا مقصد برآمداتی مرکوز ماحولیاتی نظام کو مطلوبہ سپلائی چین لنکیجز ، تکنیکی ذخیرے ، کلینیکل مطالعے ، آگاہی پیدا کرنے ، پالیسی میں تبدیلی اور صنعت کاروں کی سلسلے کی تعمیرکرنا ہے۔

اے پی ای ڈی اے اور آئی سی اے آر-آئی آئی ایم آر، دونوں، مارکیٹوں ، صارفین کی ترجیحات، ابھرتے ہوئے طبقات کی تفہیم ، برآمدی مسابقت ، مارکیٹوں کی قیمت میں اتار چڑھاؤ اورمعیارات سے متعلق مارکیٹ کی ذہانت، قواعد و ضوابط اور تجارتی پالیسیوں کے بارے میں معلومات کے فروغ کے لیے کام کریں گے۔

برآمداتی کلسٹرس کو پیداوار کی بڑی مقدار کے ذریعہ اور ایف پی او کے ساتھ شراکت داروں کو جوڑنے کے لیے تمام کلیدی شراکت داروں کے ساتھ مل کر برامداتی فروغ کی فورم کا قیام دونوں نامور تنظیمیں مشترکہ طور پر کریں گی۔

مفاہمت نامہ باجرے کی برآمدات کے حق میں نئی ​​پالیسی تبدیلیاں اور تبدیلیاں لانے کے لیے سرکاری محکموں کو حساسیت ، فروغ اور پالیسی کی وکالت سے متعلق کام پر زور دیتا ہے۔

دونوں ادارے مشترکہ طور پر ایک برآمداتی حکمت عملی تیار کریں گے اور اس کے مطابق جوار کی موجودہ برآمدات بڑھانے کے لیے مختلف برآمداتی پالیسیوں اورا سکیموں پر موجودہ جوار کے پروسیسرز اور کاروباری افراد کے لیے تربیتی پروگرام منعقد کریں گے۔

باجرا کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے نئے فریم ورک جیسے پتہ لگانے کی اہلیت، مصنوعی ذہانت وغیرہ کی ترقی اور ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ مفاہمت نامے کے تحت برآمدی تعمیل کے لیے اسٹارٹ اپس کے لیے ہینڈ ہولڈنگ سرگرمیوں کا بھی تصور ہے۔

ملک کے تمام بڑے باجرا اگانے والے علاقوں میں باجرے کے کاشتکاروں یا کسانوں کی پروفائلنگ اور بیج کی فراہمی کے سلسلے کو مضبوط بنانے کا کام آئی سی اے آر-آئی آئی ایم آرکریں گے۔

باجرہ وغیرہ ایسے اناج کی فصلیں ہیں جن میں غذائیت بہت زیادہ ہوتی ہے اورانکی درجہ بندی چھوٹی بیج والی گھاسوں کے طور پر جاتی ہے۔ جوار کی اہم اقسام میں سورغم ، پرل جوار ، راگی ، چھوٹا باجرا ، فاکس ٹیل جوار ، بارن یارڈ جوار ، کوڈو باجرا اور دیگر شامل ہیں۔

حال ہی میں ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2023 میں ملیٹس کا بین الاقوامی سال (آئی وائی ایم) منانے کی قرارداد منظور کی ہے تاکہ عالمی سطح پر بدلتے ہوئے موسمی حالات میں جوار کے صحت کے فوائد اور ان کی مناسبیت کو فروغ دیا جا سکے۔ چونکہ آئی وائی ایم قریب ہے ، توقع ہے کہ کئی ممالک میں جوار کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔

آئی سی اے آر-آئی آئی ایم آر پوری جوار اقداری سلسلے کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ کئی منصوبوں کے ذریعے ، آئی سی اے آر-آئی آئی ایم آر نے ان بھولی ہوئی فصلوں کے لیے اقداری سلسلے کی تعمیر کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں اور اس طرح ملک میں غذائیت کی حفاظت کے لیے جوار کو زندہ کیا ہے۔

جوار اور جوار کی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کے امکانات اور حکومت کی جانب سے جوار کے شعبے کی ترقی کے لیے دی گئی توجہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ، اپیڈا، آئی سی اے آر-آئی آئی ایم آر اور دیگر شراکت داروں جیسے نیشنل انسٹی ٹیوٹ نیوٹریشن ، سی ایف ٹی آر آئی اور ایف پی اوز کے ساتھ جوار اور جوار کی مصنوعات کے فروغ کے لیے طویل مدتی حکمت عملی مرتب کر رہا ہے۔

مختلف زرعی پیداوار کی برآمدات کے امکانات کو بڑھانے کے لیے ، اے پی ای ڈی اے نے تمل ناڈو زرعی یونیورسٹی ، کوئمبٹور، یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز، بنگلوراور نیشنل زرعی کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ (این اے ایف ای ڈی) اور دیگرکے ساتھ بہت سے مفاہمت ناموں پر دستخط کیے ہیں۔

*****

U.No.8624

(ش ح - اع - ر ا)   



(Release ID: 1751906) Visitor Counter : 266


Read this release in: English , Hindi , Punjabi