سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
ہاتھ سے انسانی فضلہ اٹھانے والوں کے اعداد وشمار
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 AUG 2021 5:42PM by PIB Delhi
نئی دہلی ، 10 اگست ، 2021 :
ریاست وار سروے کی بنیاد پر 2013 سے قبل گندے بیت الخلا کی صفائی کے کام میں مصروف لوگوں کی تعداد کے اعداد و شمار ضمیمہ میں پیش کئے گئے ہیں اڈیشہ ریاست میں 2013 سے قبل 230 افراد ہاتھ سے انسانی فضلہ اٹھانے کے کام میں لگے ہوئے تھے۔ ان افراد کی باز آباد کاری سے متعلق تفصیلات ضمیمہ میں درج کی گئی ہیں ۔
ہاتھ سے انسانی فضلہ اٹھانے والے افراد کی تعداد کی صحیح جانچ کی غرض سے معیّنہ وقفوں سے کئی سروے نہیں کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ہاتھ سے انسانی فضلہ اٹھانے سے متعلق 2013 کے قانون کی دفعات 5 اور 6 کے تحت 6دسمبر 2013 سے ایک ممنوعہ سرگرمی ہے ۔
ہاتھ سے انسانی فضلہ اٹھانے سے متعلق 2013 کے قانون کی دفعہ 12 کے مطابق کوئی بھی شخص جو ہاتھ سے انسانی فضلہ اٹھانے کا کام کرنے کا دعویٰ کرنا ہے وہ باز آباد کاری کے لئے درخواست دے سکتا ہے۔
ہاتھ سے انسانی فضلہ اٹھانے سے متعلق 2013 کے قانون کی دفعہ 2 ( 1 ) ( جی) کے تحت وضاحت کے مطابق ہاتھ سے انسانی فضلہ اٹھانے کے کام پر مذکورہ قانون کی دفعات 5 اور 6 کے تحت 6 دسمبر 2013 سے پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔ ریاستی سرکاروں نے مطلع کیا ہے کہ اب یہ طریق کار ان کی ریاستوں میں رائج نہیں ہے سووچھ بھارت مشن کے بعد اس سلسلے میں خاطرخواہ پیش رفت ہوئی ہے ۔ اس مشن کے تحت دیہی علاقوں میں 10.72کروڑ صاف ستھرے بیت الخلا اور شہری علاقوں میں 62.5 لاکھ بیت الخلا تعمیر کئے گئے ہیں جس کے نتیجے میں گندے بیت الخلا ؤں کو منہدم کر دیا گیا ہے ۔
ضمیمہ
ہاتھ سے انسانی فضلہ اٹھانے کا کام کرنے والے نشان زد افراد کی ریاست وار تفصیلات اور ہاتھ سے انسانی فضلہ اٹھانے والے افراد کی باز آباد کاری کے لئے خود کے روزگار سے متعلق اسکیم کے تحت باز آباد کاری سے متعلق دستیاب کرائے گئے فوائد کی ریاست وار تفصیلات۔
|
نمبر شمار
|
ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقہ
|
احاطہ
|
|
ہاتھ سے انسانی فضلہ اٹھانے والے افراد جن کی نشاندہی کی گئی اور یک مشت واحد مرتبہ نقد امداد فراہم کی گئی
|
ہنر مندی کے فروغ سے متعلق تربیت
|
ہاتھ سے انسانی فضلہ اٹھانے والے افراد اور صفائی ستھرائی کے کام سے متعلق کارکنان کے لئے خود کے روزگار سے متعلق پروجیکٹوں اور صفائی ستھرائی سے متعلق پروجیکٹوں کے لئے اہم رعایت
|
|
1
|
انڈمان و نکوبار جزائر
|
0
|
0
|
3
|
|
2
|
آندھر پردیش
|
1793
|
180
|
11
|
|
3
|
آسام
|
3921
|
460
|
0
|
|
4
|
بہار
|
131
|
18
|
0
|
|
5
|
چھتیس گڑھ
|
3
|
0
|
0
|
|
6
|
گجرات
|
105
|
19
|
0
|
|
7
|
جھارکھنڈ
|
192
|
34
|
0
|
|
8
|
کرناٹک
|
2927
|
251
|
294
|
|
9
|
کیرالہ
|
518
|
314
|
0
|
|
10
|
مدھیہ پردیش
|
510
|
98
|
3
|
|
11
|
مہاراشٹر
|
6325
|
1332
|
0
|
|
12
|
اڈیشہ
|
230
|
66
|
92
|
|
13
|
پنجاب
|
231
|
62
|
41
|
|
14
|
راجستھان
|
2673
|
824
|
0
|
|
15
|
تمل ناڈو
|
398
|
29
|
78
|
|
16
|
اتر پردیش
|
32473
|
10664
|
694
|
|
17
|
اتراکھنڈ
|
4988
|
1475
|
74
|
|
18
|
مغربی بنگال
|
680
|
231
|
97
|
|
کل
|
58098
|
16057
|
1387
|
سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر مملکت جناب رام داس اٹھاولے نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ جانکاری فراہم کی ۔
*************
( ش ح ۔ ع م۔ ر ب(
U. No.8059
(ریلیز آئی ڈی: 1748250)
وزیٹر کاؤنٹر : 210