وزارت دفاع

اندرونِ ملک تیار کیے جانے والے ایئر کرافٹ کیرئیر (آئی اے سی (پی 71))’وکرانت‘ کی سمندری مشق کا آغاز

Posted On: 04 AUG 2021 3:46PM by PIB Delhi

بھارتی بحریہ کے بحری ڈیزائن کے ڈائرکٹوریٹ (ڈی این ڈی) کے ذریعہ ڈیزائن کیا گیا اندرونِ ملک تیار کردہ ایئر کرافٹ کیرئیر (آئی اے سی) ’وکرانت‘ جہازرانی کی وزارت (ایم او ایس) کے تحت پبلک سیکٹر شپ یارڈ کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ (سی ایس ایل) میں بنایا جا رہا ہے۔ آئی اے سی 76 فیصد سے زائد اندرونِ ملک تیار کردہ اشیاء کے ساتھ ’’آتم نربھر بھارت‘‘ کے لئے ملک کی کوششوں کی ایک اہم مثال ہے۔ یہ بھارتی بحریہ اور کوچین شپ یارڈ کی، اندرونِ ملک ایک ایئر کرافٹ کیرئیر ڈیزائن کرنے اور تیار کرنے کی پہلی کوشش ہے۔

اندرونِ ملک تیار ایئر کرافٹ کیرئیر 262 میٹر طویل، 62 میٹر چوڑا اور 59 میٹر بلند ہے، جس میں سوپر اسٹرکچر بھی شامل ہے۔ سوپر اسٹرکچر میں پانچ ڈیک کے علاوہ کیرئیر میں مجموعی طور پر 14 ڈیک ہیں۔ جہاز میں 2300 سے زائد کمپارٹمنٹس ہیں، جنہیں تقریباً 1700 افراد پر مشتمل عملے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں خواتین افسران کے لئے رہائشی کیبن بھی شامل ہیں۔ جہاز کو مشینری آپریشن، جہاز رانی اور مشکل حالات میں بچاؤ کے نقطہ نظر سے بہت ہی اعلیٰ درجے کے آٹومیشن کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے، ’وکرانت‘ کی  اعلیٰ رفتار تقریباً 28 سمندری میل  اور کروزنگ رفتار 18 سمندری میل کے بقدر ہے، جبکہ قوت برداشت تقریباً 7500 سمندری میل کے بقدر ہے۔ بحری جہاز فکسڈ ونگ روٹری ہوائی جہازوں کی درجہ بندی کو ایڈجسٹ کر سکتا ہے۔

بیشتر جہازوں کی تعمیراتی سرگرمیاں مکمل ہو چکی ہیں اور یہ مشق کے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ جہاز کو آگے بڑھانے اور بجلی پیداواری سازو سامان/نظام کی تیاری کی مشق مؤرخہ 20 نومبر کو بیسن مشقوں کے تحت بندرگاہ میں کی گئی تھی۔ جہاز کی تعمیرات کا جائزہ محترم وزیر دفاع کے ذریعہ مؤرخہ 25 جون 2021 کو جہاز کے دورے کے دوران لیا گیا تھا۔ حالانکہ اپنا دل اور روح جہاز کی تیاری کے لئے لگانے والی کارکنان کی بڑی تعداد، او ای ایم، انجینئروں، نگراں حضرات، معائنہ کرنے والوں، ڈیزائنروں اور جہاز چلانے والے عملے کی ارتکازی اور وقف کوششوں کے ساتھ، کووِڈ۔19کی دوسری لہر کے باعث سمندری مشق شروع ہونے میں تاخیر ہوئی۔ یہ ایک اہم میل کا پتھر اور تاریخی واقعہ ہے۔ اس میل کے پتھر تک پہنچنا اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسے جاری وبائی مرض کی چنوتیوں اور مشکل حالات کے درمیان حاصل کیا گیا ہے۔ پانی میں سب سے پہلے داخل ہونے کے دوران حل سمیت اہم پروپلژن، پی جی ڈی اور معاون سازوسامان  کی نمائش کو باریکی سے دیکھا جائے گا۔

آئی اے سی کی ڈلیوری کے ساتھ، بھارت اس منتخبہ ممالک کے گروپ میں شامل ہوگا جو اندرونِ ملک ایک ایئر کرافٹ کیرئیر ڈیزائن اور تیار کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیں، جو کہ حکومت ہند کی ’میک ان انڈیا‘مہم کا ایک حقیقی ثبوت ہوگا۔

اندرونِ ملک ایئر کرافٹ کیرئیر کی تعمیر ’آتم نربھر بھارت‘ اور ’میک ان انڈیا پہل قدمی‘ کی ملک کی کوشش کی ایک درخشاں مثال ہے۔ اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ذیلی صنعتوں کی ترقی  کے ساتھ ساتھ اندرونِ ملک ڈیزائن تیار کرنے اور تعمیراتی صلاحیتوں میں اضافہ رونما ہوا ہے اور ذیلی صنعتوں میں 2000 سی ایس ایل عملے اور تقریباً 12000 ملازمین کو روزگار حاصل ہوا ہے۔سازو سامان کی خریداری کے معاملے میں 76 فیصد سے زائد دیسی اشیاء، سی ایس ایل اور ان کے ذیلی ٹھیکے داروں کے ذریعہ کام کا فائدہ راست طور پر بھارتی معیشت کو ہونے جا رہا ہے۔ تقریباً 100 ایم ایس ایم ای سمیت تقریباً 550 بھارتی فرمیں سی ایس ایل کے ساتھ درج رجسٹر ہیں،جو آئی اے سی کی تعمیر کے لئے مختلف خدمات فراہم کر رہی ہیں۔

بھارتی بحریہ کا بحری جہاز پروگرام 44 جہازوں اور آبدوزوں  کی اندرونِ ملک تیاری کے سلسلے میں مطلوبہ ’’اقتصادی ترغیب‘‘ فراہم کرنے کے لئے مناسب طور پر تیار ہے۔

 

ش ح۔ ا ب ن

U. NO. 8173



(Release ID: 1748135) Visitor Counter : 105


Read this release in: English , Hindi , Malayalam