کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے برآمدات کو فروغ دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے برآمد کنندگان کے ساتھ میٹنگ کی


مرکزی وزیر نے 2021-22 کے لیے 400 ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کو پورا کرنے اور 2030 تک 2 ٹریلین ڈالر کی برآمدات کے ہدف پر کام کرنے پر زور دیا

"اگر ایسے علاقوں کی نشان دہی کی جائے جہاں ہم بین الاقوامی سطح پر مسابقت کے اہل ہوں تو ایف ٹی اے سے تیزی سے نمٹا جاسکتا ہے"

بھارت، برطانیہ اور آسٹریلیا کے ساتھ ارلی ہارویسٹ معاہدوں کی سمت کام کر رہا ہے: وزیر تجارت

Posted On: 19 AUG 2021 5:09PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 19 اگست 2021: تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے کہا کہ قوم تجارتی اشیا کی برآمد میں بڑے پیمانے پر اضافے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں سے ممکن ہوا ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے "لوکل گوز گلوبل: میک ان انڈیا فار دی ورلڈ" کی اپیل نے سال 2021-22 کے لیے تجارتی برآمدات میں 400 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ بات جناب پیوش گوئل نے آج ممبئی میں برآمدات بڑھانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایکسپورٹ پروموشن کونسلوں (ای پی سی)، کموڈٹی بورڈوں اور حکام اور دیگر اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ میٹنگ کے دوران کہی۔

انھوں نے کہا کہ یہ ہدف چھوٹے اہداف اور مشاورتی حکمت عملی کے ذریعے مقرر کیا گیا ہے جہاں ہر ملک، مصنوعات، برآمدی فروغ کونسل اور غیر ملکی مشن کے لیے خصوصی اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ "

"400 ارب ڈالر کے اہم برآمدی ہدف کو چیلنج کرنے کے لیے فوری طور پر اقدام کریں"

مرکزی وزیر نے تمام ایکسپورٹ پروموشن کونسلوں سے مطالبہ کیا کہ وہ 2021-22 کے لیے 400 ارب ڈالر کی تجارتی برآمدات کے حصول کے چیلنج پر قابو پانے کے لیے فوری اقدام کریں۔ جناب گوئل نے کہا کہ ہمیں اگلے 8 ماہ تک برآمدات کی رفتار برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے 34 ارب ڈالر ماہانہ کی برآمدات ہوں گی۔ یہ مقصد حوصلہ مندانہ ہے، لیکن ممکن ہے اگر تمام ای پی سی اور ان کے ارکان مل کر کام کریں۔"

2030 تک 2 ٹریلین ڈالر کا برآمدی ہدف

مرکزی وزیر نے برآمد کنندہ برادری سے کہا کہ وہ 2030 تک مجموعی طور پر 2 ٹریلین ڈالر کے برآمدی ہدف پر کام کرے جس میں ایک ٹریلین ڈالر کی تجارتی برآمدات اور 1 ٹریلین ڈالر کی سروس برآمدات شامل ہیں۔

مرکزی وزیر نے اعلان کیا کہ وزارت تجارت میں خدمات کے شعبہ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دو الگ الگ محکمے قائم کیے جارہے ہیں تاکہ ایک ٹریلین ڈالر کی سروسز برآمد کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔

جلد نتائج کے لیے نئے ایف ٹی اے

مرکزی وزیر نے کہا کہ آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کی حکمت عملی پر دوبارہ عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک زیادہ انٹیکٹیو طریقے سے آزادانہ تجارتی معاہدوں کی تیاری کی جارہی ہے، ہم صنعت کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ایف ٹی اے منصفانہ اور مساوی طور پر تیار ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایف ٹی اے یک طرفہ نہیں ہو سکتے، اگر ہم غیر ملکی منڈیوں میں بڑا حصہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی منڈیاں بھی کھولنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے ہمیں ان شعبوں کی نشان دہی کرنے کی ضرورت ہے جہاں ہم مسابقت میں کھڑے ہو سکیں۔ اگر ہم اجتماعی کوشش کے طور پر ان شعبوں کی نشان دہی کر سکیں جہاں ہم بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل ہیں تو ہم تیزی سے انصاف کے ساتھ ایف ٹی اے قائم کر سکتے ہیں۔ "

مختلف ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ایف ٹی اے کی پیش رفت کی وضاحت کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ ہم نے برطانیہ، یورپی یونین، آسٹریلیا، کینیڈا، متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور جی سی سی ممالک کے ساتھ ایف ٹی اے کے معاملے میں بہت مثبت پیش رفت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ان ممالک پر توجہ مرکوز کرنا ہے جہاں ہمارے پاس مناسب صلاحیتیں ہیں، جہاں ہم بہتر مسابقت کر سکتے ہیں اور جہاں مارکیٹ کا حجم کافی بڑا ہے۔ "

برطانیہ اور آسٹریلیا کے ساتھ ارلی ہارویسٹ معاہدوں پر کام جاری ہے

جناب گوئل نے کہا کہ بھارت اور برطانیہ کے فوری مفاد کے شعبوں کی نشان دہی کرنے اور برطانیہ کے ساتھ ارلی ہارویسٹ معاہدے کرنے پر غور کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آسٹریلیا نے ارلی ہارویسٹ معاہدے میں گہری دل چسپی ظاہر کی ہے جس سے ہمیں انھی خطوط پر دوسروں کے ساتھ رابطے میں مدد ملے گی۔

یورپی یونین کے ساتھ بات چیت کے بارے میں مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کے اچھے امیج اور ساکھ کی وجہ ہی سے یورپی یونین نے ایک بار پھر ایف ٹی اے کے لیے مذاکرات پر اتفاق کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت اس میں تیزی لانے کے لیے سخت محنت کرے گا۔

انھوں نے کہا: "اگر ایف ڈی اے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہے تو جی سی سی ممالک کے ساتھ ایف ٹی اے بھی بڑھے گا۔ امریکہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ نئے تجارتی معاہدوں پر غور نہیں کر رہے ہیں، اگرچہ ہم دونوں اطراف سے مارکیٹ تک رسائی سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ یہ ہمارے برآمدی شعبے کے لیے ایک بہترین موقع ہوگا۔ "

مرکزی وزیر نے صنعت سے اپیل کی: معیار کو اپنا منتر بنائیں

مرکزی وزیر نے صنعت سے درخواست کی کہ وہ گھریلو اور بین الاقوامی معیار کے دونوں اصولوں کا مطالعہ کرے اور اصولوں کی بنیاد پر تبدیلیاں کرے۔ "رضاکارانہ اور بخوشی معیار کو قبول کریں اور اپنائیں۔ ہماری صنعتوں کو عالمی معیار کے اصولوں کے مطابق بنائیں۔ "

شپنگ اور سیمی کنڈکٹر صنعتوں پر توجہ مرکوز کریں

وزیر موصوف نے دو شعبوں کے بارے میں بات کی۔ انھوں نے کہا کہ صنعتی منظر نامے میں شپنگ اور سیمی کنڈکٹر کے شعبوں کو زیادہ اہمیت ملنی چاہیے۔

"ورلڈایکسپو، دبئی میں شرکت کریں "

مرکزی وزیر نے کہا کہ ورلڈ ایکسپو بھارتی صنعت کے لیے ایک بڑا موقع بننے جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ورلڈ ایکسپو میں بھارتی پویلین بہت اچھا ہونے والا ہے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس پر آپ کو ناز ہوگا۔ "

"اب برآمدات کو اگلے مرحلے پر منتقل کرنے کا وقت آ گیا ہے"

مرکزی وزیر نے برآمد کنندہ برادری کو آگاہ کیا کہ وہ ایکسپورٹ پروموشن کونسل اور کموڈٹی بورڈ برآمدات بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ "وہ مارکیٹ کی سمجھ فراہم کر سکتے ہیں، نئی منڈیوں اور مقامات کی تلاش کر سکتے ہیں، تجارتی میلوں اور خریدارفروخت کنندگان کے اجلاسوں کا انتظام کر سکتے ہیں، برآمد کنندگان اور محکموں / وزارتوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ آپ محکموں کے ساتھ مل کر کام کرسکتے ہیں۔

جناب گوئل نے برآمد کنندہ برادری سے کہا کہ بھارت کو ایک بار پھر ایک عظیم تجارتی ملک "عالمی منڈی" اور "دنیا کی فیکٹری" کے طور پر اپنی تاریخی حیثیت کا دعوی کرنے کی ضرورت ہے۔

برآمدات کو فروغ دینے کے لیے پالیسی اقدامات

برآمدات کو فروغ دینے کے لیے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ قومی لاجسٹک پالیسی کا مسودہ متعارف کرایا گیا ہے۔ اضلاع کو برآمدی مراکز کے طور پر تیار کیا جارہا ہے اور آزاد تجارتی معاہدوں میں تیزی لائی جارہی ہے۔ تعمیل کی ضروریات میں کمی کی گئی ہے، 13 شعبوں کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم متعارف کرائی گئی ہے اور ایس ای زیڈ اصلاحات کی گئی ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارموں پر تجارت کو آسان بنایا جارہا ہے اور ایک مجموعی زرعی برآمدی پالیسی تشکیل دی گئی ہے۔

نئی خارجہ تجارت پالیسی کا اعلان یکم اکتوبر 2021 کو کیا جائے گا اور بیرون ملک بھارتی سفارت خانے اس کے نفاذ میں فعال کردار ادا کریں گے۔ برآمد کنندگان کے لیے سنگل ونڈو کسٹم کلیئرنس کی سہولت متعارف کرائی گئی ہے۔

وزیر تجارت و صنعت نے کوویڈ-19 کے مشکل وقت میں بے لوث خدمات انجام دینے پر تمام ای پی سیز کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ بھارت دنیا کی فارمیسی بن گیا ہے، اعلی معیار اور اہم صحت کی مصنوعات فراہم کی ہیں اور ویکسین کی لاکھوں خوراکیں بھیجی ہیں۔ بھارت اس وبا کے دوران خوراک کا قابل اعتماد سپلائر بھی بن گیا ہے اور لاک ڈاؤن کے دوران ہمارے تمام بین الاقوامی خدمات کے وعدوں کو پورا کیا ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ اس سے بھارت کو دنیا کا اعتماد حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے برآمد کنندگان نے اپریل جولائی 2021 میں ریکارڈ برآمد کرکے ہمارا سر فخر سے اونچا کیا ہے۔ جولائی 2021 میں 35 ارب ڈالر کی برآمدات کی گئیں جو بھارت کی تاریخ کی سب سے زیادہ ماہانہ برآمدات ہیں اور جولائی 2019 کے مقابلے میں 35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اپریل تا جولائی 2021ء میں 130 ارب ڈالر کی تجارتی برآمدات اپریل تا جولائی 2019ء کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ تھیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کامرس سکریٹری جناب بی وی آر سبرامنیم نے کہا، "بھارت سرکار نے 2021-22 کے لیے 400 ارب ڈالر کی برآمدات کا بڑا ہدف مقرر کیا ہے۔ ہدف صرف برآمدی صلاحیت کی منظم تشخیص کے ذریعے طے کیا گیا ہے۔ جناب سبرامنیم نے کہا کہ ہمارے سفارت کاروں کو تجارت میں اولین ترجیح دی گئی ہے، غیر ملکی مشن برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے میں مدد گار ہوں گے۔ ہم برآمدات کو آسان بنانے کے لیے ریاستی سطح کے ایکسپورٹ کمشنر کے عہدے کی تیاری، ضلعی برآمدی مراکز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر کام کر رہے ہیں۔ "

ریاستوں اور اضلاع کے ساتھ رابطہ ایک اہم علاقہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ضلعی برآمدی فروغ کونسلوں میں اپنے کردار کے ذریعے ای پی سی سے کہا گیا ہے کہ وہ اضلاع کے ساتھ نشان زد مصنوعات فراہم کرے۔

شرکاء

اجلاس میں آئی او پی ای پی سی (بھارتی آئل سیڈز اینڈ پروڈیوس ایکسپورٹ پروموشن کونسل)، ای ای پی سی انڈیا، پلیکس کونسل (پلاسٹک ایکسپورٹ پروموشن کونسل)، سروسز ایکسپورٹ پروموشن کونسل، نے شرکت کی۔ متعدد ایکسپورٹ پروموشن کونسلیں (ای پی سی)، کموڈٹی بورڈ اور عہدیدار بشمول ایس آر ٹی ای پی سی (سنتھیٹک اینڈ ریون ٹیکسٹائل ایکسپورٹ پروموشن کونسل)، ایکسپورٹ پروموشن کونسل فار ای او یو اینڈ ایس ای زیڈ، پاورلوم ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پروموشن کونسل، ٹیکسپروسل، جی جے ای پی سی (جیمز اینڈ جیولری ایکسپورٹ پروموشن کونسل)، اے ای پی سی (ملبوسات ایکسپورٹ پروموشن کونسل)، سی آئی آئی، فیو (فیڈریشن آف انڈیا ایکسپورٹ آرگنائزیشن)، پروجیکٹ ایکسپورٹ پروموشن کونسل آف انڈیا موجود تھے۔ ای پی سی اور دیگر شرکاء نے ممبئی میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی اور ساتھ ہی دیگر مقامات کے لوگوں نے آن لائن شرکت کی۔

وزیر اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے صنعت سے موصول ہونے والے مسائل اور تجاویز پر غور کیا اورمعیشت کی برآمد اور فروغ کے حکومتی مقصد کی طرز پر ان کے حل کی یقین دہانی کرائی۔

***

U. No. 8043

(ش ح۔ ع ا۔ ع ر)

 



(Release ID: 1747797) Visitor Counter : 150


Read this release in: English , Hindi , Punjabi , Tamil