سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ’’انڈیگؤ‘‘ کا اجرا کیا، جو کہ دیسی مویشیوں کی خالص اقسام مثلاً گیر، کانکریج، ساہیوال، اونگول وغیرہ کے تحفظ کے لیے ہندوستان کی پہلی مویشی جینومک چپ ہے

انڈیگؤ ایک خالص دیسی چپ ہے اور 11،496 مارکر کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی مویشی چپ ہے

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس چپ کا مقصد ہماری اپنی نسلوں کو بہتر بنانے کے ہدف کو حاصل کرتے ہوئے 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے میں مدد کرنا ہے

Posted On: 13 AUG 2021 5:18PM by PIB Delhi

 

شمال مشرقی خطے کی ترقی کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، پی ایم او، اہلکار، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج گیر، کانکریج، ساہیوال، انگول وغیرہ دیسی مویشیوں کی خالص اقسام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہندوستان کی پہلی مویشی جینومک چپ ”انڈیگؤ“ کا اجرا کیا۔

یہ دیسی چپ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل بائیوٹیکنالوجی (این اے آئی بی) حیدرآباد کے سائنسدانوں کی انتھک کوششوں سے تیار کی گئی ہے، جو محکمہ بایو ٹکنالوجی کے تحت ایک خود مختار ادارہ ہے۔ اس موقع پر سکریٹری ڈی بی ٹی ڈاکٹر رینو سوروپ، این آئی اے بی کے سینیئر سائنسدان اور ڈی بی ٹی کے سینیئر افسران موجود تھے۔

 

 

اپنے خطاب میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ تین سطحوں پر منایا جانے والا جشن ہے- ہندوستان کے گائے اور مویشیوں کے لیے ایک جشن، ایک جشن جو ہندوستان کے سائنسدانوں کی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ایک خود انحصار ہندوستان کے وژن کو ظاہر کرنے کا جشن۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ انڈیگؤ مکمل طور پر دیسی اور دنیا کی سب سے بڑی مویشی چپ ہے۔ اس میں 11,496 مارکر (ایس این پی) ہیں جو کہ امریکہ اور برطانیہ کی نسلوں کے لیے رکھے گئے 777 ہزار الومینا چپ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ وزیر موصوف نے کہا کہ ہماری اپنی دیسی گایوں کے لیے تیار کردہ یہ چپ خود انحصار ہندوستان کی سمت کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ چپ حکومتی اسکیموں میں عملی طور پر کارآمد ثابت ہوگی جس سے 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دو گنا کرنے میں مدد ملے گی جبکہ بہتر کارکردگی کے ساتھ ہماری اپنی نسلوں کے تحفظ کے ہدف کو حاصل کیا جائے گا۔ انھوں نے فخر محسوس کیا کہ ڈی بی ٹی اور این آئی اے بی جیسے محکمے بھی کسانوں کی فلاح و بہبود اور آمدنی کو فروغ دینے میں حصہ لے رہے ہیں۔ وزیر موصوف نے اس موقع پر دو کتابچوں کا بھی اجرا کیا۔

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر رینو سوروپ، سکریٹری، ڈی بی ٹی نے انڈیگؤ چپ جاری کرنے پر مرکزی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور این اے آئی بی کو اس کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔ ڈاکٹر سوروپ نے یہ بھی بتایا کہ ڈی بی ٹی دیگر ایجنسیوں جیسے این ڈی ڈی بی، ڈی اے ایچ ڈی ایف، آئی سی اے آر وغیرہ کی مدد سے اس ٹیکنالوجی کو زمینی سطح پر نافذ کرنے کی منتظر ہے۔ فینوٹائپک اور جینو ٹائپک ارتباط پیدا کرنے میں اس چپ کے استعمال کو مزید بڑھانے کے لیے، این آئی اے بی نے نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (این ڈی ڈی بی) کے ساتھ باہمی تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔

این آئی اے بی کی جانب سے نجی صنعتوں کے ساتھ ایک ایم او یو پر دستخط کیے گئے ہیں تاکہ ایس این پی چپس کو ڈیزائن اور تیار کرنے کے لیے ہندوستان کے اندر صلاحیت کو فروغ دیا جا سکے۔ ابتدائی دنوں میں ہو سکتا ہے کہ بہت کم کثافت والے ایس این پی چپس ہی بن سکیں، لیکن آہستہ آہستہ اس ٹیکنالوجی کو بڑی چپس کے لیے اور بھی مضبوط کیا جا سکتا ہے جس کے ذریعے ہندوستان کو اس شعبے میں خود انحصار بنایا جا سکتا ہے۔

                                           

 

ش ح۔ ف ش ع-ک ا   

U: 7830



(Release ID: 1745665) Visitor Counter : 100


Read this release in: English , Hindi , Tamil