کانکنی کی وزارت

معدنیات کی تلاش

Posted On: 11 AUG 2021 3:37PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی 11 اگست2021:

نیشنل الیومینئم  کمپنی لمیٹیڈ (این اے ایل سی او)، ہندوستان کاپر لمیٹیڈ (ایچ سی ایل) اور منرل ایکسپلوریشن کارپوریشن لمیٹیڈ (ایم ای سی ایل)،  نام کی تین سی پی ایس ایز  نے کانکنی کی وزارت کے تحت ’’ کھنیج بدیش انڈیا لمیٹیڈ (کے اے بی آئی ایل) ‘‘، کے نام سے ایک جوائنٹ وینچر کمپنی قائم کی ہے۔ کے اے بی آئی ایل نے وزارت خارجہ اور ارجنٹینا اور آسٹریلیا جیسے ملکوں میں بھارتی سفارتخانوں کے توسط سے شارٹ لسٹ کئے گئے سورس ملکوں  کے کئی سرکاری ملکیت والے اداروں کےساتھ رابطہ کرنے شروع کیا ہے جس کا مقصد بیرون ملک معدنی اثاثوں کا حصول ہے۔ بنیادی طور پر کریٹکل اور اسٹریٹجک معدنیات جس میں لیتھیئم ، کوبالٹ اور دیگر اور ناٹ ریئر ارتھ الیمینٹ شامل ہیں۔

معدنیات سے متعلق قومی پالیسی کا اعلان  فروری 2019 میں کیا گیا تھا جس میں سائنٹفک طریقہ سے کانکنی ،کانکنی کی مشینری اور معدنیات کو الگ کرنے کے آلات اور خودکار آلات کے فروغ کے لئے التزامات  کئے گئے ہیں۔ تلاش اور کانکنی میں حکومت جدید ٹکنالوجی کے استعمال پر زیادہ زور دے رہی ہے اور اس کے لئے اقدامات کئے ہیں جیسے ریموٹ سینسنگ ، جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) ، مصنوعی ذہانت ، خلاسے متعلق  ٹیکنالوجی ، یو اے ویز ، ای وھیکلز وغیرہ ۔حالیہ برسوں میں ڈرون یا ان مینڈ ایریل سسٹم (یو اے ایس )نے کانکنی کی صنعت میں اپنا رول ادا کرنا شروع کیا ہے۔ کانکنی کی وزارت کے تحت  ایک ماتحت دفتر انڈین بیورو آف مائنز  نے کانکنی کے لئے پٹوں میں پائلٹ کی بنیاد پر ڈرون سروے  بھی شروع کیا ہے جو کہ مستقبل میں ورچوئل مانیٹرنگ اور ریگولیشن کے لئے راہ ہموار کرے گا۔

 

یہ اطلاع  کانوں ، کوئلہ اور پارلیمانی امور کے وزیر جناب پرلہاد جوشی نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

 

************

 

 

 

ش ح۔ ف ا ۔ م ص

 (U: 7730)



(Release ID: 1745032) Visitor Counter : 57


Read this release in: English , Punjabi , Tamil , Kannada