اقلیتی امور کی وزارتت

اقلیتی کمیشن کا از سر نو جائزہ

Posted On: 02 AUG 2021 5:32PM by PIB Delhi

قومی اقلیتی کمیشن (این سی ایم) نے بتایا ہے کہ سابقہ اقلیتی کمیشن نے 01.01.1981 سے 31.03.1982 تک اور 01.04.1982 سے 31.03.1983 تک کی اپنی سالانہ رپورٹوں میں سیکولر روایات اور قومی انضمام کے فروغ کے لیے ایک قومی انٹیگریشن-کم-انسانی حقوق کمیشن کی ضرورت پر غور کرنے اور اگر ضروری ہو تو اس کے قیام کی سفارش کی تھی۔

حکومت اقلیتوں کے لیے قومی کمیشن بنانے اور اس سے متعلق یا اس سے متعلقہ معاملات کی فراہمی کے لیے پہلے ہی قومی کمیشن برائے اقلیتی ایکٹ 1992 کو نافذ کر چکی ہے۔ اس کے مطابق، پہلا قانونی این سی ایم 17 مئی 1993 کو قائم کیا گیا تھا۔ این سی ایم ایکٹ، 1992 کے سیکشن 2 (سی) میں کہا گیا ہے کہ ایکٹ کے مقاصد کے لیے ’اقلیت‘ کا مطلب ہے مرکزی حکومت کی طرف سے نامزد کمیونٹی۔ ایکٹ کے سیکشن 9 (1) میں بیان کردہ کمیشن کے کام چھ نامزد اقلیتی برادریوں یعنی جین، پارسی، سکھ، عیسائی، بدھ اور مسلم سے متعلق ہیں۔ این سی ایم کے کاموں میں وسیع پیمانے پر شامل ہیں (a) مرکز زیر انتظام علاقوں اور ریاستوں کے تحت اقلیتوں کی ترقی کی پیش رفت کا جائزہ لینا (b) پارلیمنٹ اور ریاستی مقننہ کے بنائے گئے قوانین میں فراہم کردہ تحفظات کے کام کی نگرانی کرنا (c) مرکزی حکومت یا ریاستی حکومتوں کی طرف سے اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے حفاظتی انتظامات کے مؤثر نفاذ کی سفارشات کرنا (d) اقلیتوں کے حقوق اور تحفظات سے محرومی سے متعلق مخصوص شکایات کو دیکھنا اور متعلقہ حکام کے سامنے پیش کرنا؛ (e) اقلیتوں کے خلاف کسی بھی امتیازی سلوک سے پیدا ہونے والی پریشانیوں کا مطالعہ کرنا اور ان کے خاتمے کے لیے اقدامات کی سفارش کرنا؛ (f) اقلیتوں کی سماجی و اقتصادی اور تعلیمی ترقی سے متعلق مسائل کا مطالعہ، تحقیق اور تجزیہ کرنا (g) مرکزی حکومت یا ریاستی حکومتوں کی طرف سے کی جانے والی کسی بھی اقلیت کے حوالے سے مناسب اقدامات تجویز کرنا؛ (h) اقلیتوں سے متعلق کسی بھی معاملے اور خاص طور پر ان کو درپیش مشکلات پر مرکزی حکومت کو متواتر یا خصوصی رپورٹس دینا اور (i) کوئی دوسرا معاملہ جسے مرکزی حکومت کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں کمیشن کو موصول ہونے والی شکایات/ درخواستوں اور ان کا تصفیہ کرنے کی تفصیلات منسلک ہیں۔

 

ضمیمہ

دورانیہ

سال کے دوران موصول ہونے والی شکایات کی تعداد

شکایات کا تصفیہ کیے جانے کی تعداد

2016-17

1647

1647

2017-18

1498

1484

2018-19

1871

1788

2019-20

1670

1489

2020-21

1463

1043

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب مختار عباس نقوی نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔

                                               **************

ش ح۔ ف ش ع-ک ا   

U: 7373



(Release ID: 1741769) Visitor Counter : 438


Read this release in: English , Tamil