بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت

ایم ایس ایم ای کی حوصلہ افزائی

Posted On: 19 JUL 2021 4:26PM by PIB Delhi

ایم ایس ایم ای کی وزارت ملک میں ایم ایس ایم ای سیکٹر کے نمو اور ترقی کے لیے مختلف اسکیموں اور پروگراموں کو نافذ کرتی ہے۔ ان اسکیموں اور پروگراموں میں وزیر اعظم کے امپلائمنٹ جنریشن پروگرام (پی ایم ای جی پی)، روایتی صنعتوں کی بحالی کے لیے فنڈ کی اسکیم (ایس ایف آر ٹی آئی)، اختراعات کو فروغ دینے کے لیے ایک اسکیم، دیہی صنعت و کاروباری ادارہ (اے ایس پی آر ای)، ایم ایس ایم ای کو بڑھتی کریڈٹ کے لیے انٹرسٹ سبونشن اسکیم، بہت چھوٹی اور چھوٹی صنعتوں کے لیے کریڈٹ گارنٹی، مائیکرو اور اسمال انٹرپرائزز کلسٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (ایم ایس ای - سی ڈی پی)، کریڈٹ لنکڈ کیپیٹل سبسڈی اور ٹکنالوجی اپ گریڈیشن اسکیم (سی ایل سی ایس-ٹی یو ایس) شامل ہیں۔

کووڈ-19 کے بعد، حکومت نے آتم نربھر بھارت مہم کے تحت متعدد اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ ملک میں ایم ایس ایم ای سیکٹر کی مدد کی جا سکے۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:

  1. ایم ایس ایم ای کے لیے 20,000 کروڑ روپے کا قرض۔
  2. ایم ایس ایم ای سمیت، کاروبار کے لیے 3 لاکھ کروڑ خودکار قرض۔
  • iii. ایم ایس ایم ای فنڈز کے ذریعے 50,000 کروڑ ایکویٹی انفیوژن۔
  • iv. ایم ایس ایم ای کی درجہ بندی کے لیے نئے نظر ثانی شدہ معیارات۔
  1. کاروبار میں آسانی کے لیے ’ادیم رجسٹریشن‘ کے ذریعہ ایم ایس ایم ای کے نئے رجسٹریشن
  • vi. روپے 200 کروڑ تک کی خریداری کے لیے کوئی عالمی ٹینڈر نہیں، اس سے ایم ایس ایم ای کو مدد ملے گی۔

 

وزیر اعظم کے ذریعہ 01.06.2020 کو ایک آن لائن پورٹل ”چیمپیئنز“ شروع کیا گیا ہے۔ اس میں ای گورننس کے بہت سارے پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے جس میں شکایت کا ازالہ اور ایم ایس ایم ای کی ہینڈ ہولڈنگ شامل ہیں۔

نیشنل اسمال انڈسٹریز کارپوریشن (این ایس آئی سی) اور کھادی اینڈ ویلج انڈسٹریز کمیشن (کے سی سی) کی طرف سے وزیر اعظم کے روزگار جنریشن پروگرام (پی ایم ای جی پی) کے تحت قائم کردہ یونٹوں سمیت ایم ایس ایم ای پر کووڈ-19 کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے مطالعے کیے گئے جس کے اہم نتائج درج ذیل ہیں:

اس میں 91 فیصد ایم ایس ایم ای کو فعال پایا گیا۔

ایم ایس ایم ای کو درپیش پانچ اہم دشواریوں کی نشاندہی کی گئی جن میں لکویڈٹی (55 فیصد یونٹ)، نئے آرڈر (17 فیصد یونٹ)، لیبر (9 فیصد یونٹ)، لاجسٹکس (12 فیصد یونٹ) اور خام مال کی دستیابی (8 فیصد یونٹ) شامل ہیں۔

کے وی آئی سی کے ذریعہ انجام دیے گئے مطالعے کے نتائج اس طرح ہیں:

پی ایم ای جی پی اسکیم سے استفادہ کرنے والوں میں سے 88 فیصد نے بتایا کہ وہ کوڈ 19 کے باعث منفی طور پر متاثر ہوئے ہیں جبکہ بقیہ 12 فیصد نے بتایا کہ کووڈ 19 کے دوران انھیں فائدہ ہوا۔

متاثرہ 88 فیصد میں سے 57 فیصد نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران ان کے یونٹ کچھ عرصے کے لیے بند کر دیے گئے تھے جبکہ 30 فیصد نے پیداوار اور محصول میں کمی کی اطلاع دی۔

فائدہ اٹھانے والے 12 فیصد یونٹ میں سے، 65 فیصد نے بتایا کہ ان کے کاروبار میں اضافہ ہوا۔

ملازمین کو تنخواہوں کی مستقل ادائیگی کے سوال پر ، تقریباً 46.60 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ انھوں نے تنخواہوں کی مکمل ادائیگی کی ، 42.54 فیصد نے جزوی ادائیگی کی اور 10.86 فیصد نے بتایا کہ اس عرصے میں کچھ عرصے کے لیے تنخواہ ادا نہیں کی گئی تھی۔

اکثر مستفید ہونے والوں نے اضافی مالی اعانت، سود میں چھوٹ اور اپنی مصنوعات کے لیے مارکیٹنگ کی معاونت کی ضرورت کا اظہار کیا۔

بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کے وزیر جناب نارائن رانے نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔

                                               **************

ش ح۔ ف ش ع-ک ا   

U: 6820



(Release ID: 1737993) Visitor Counter : 220


Read this release in: English