کامرس اور صنعت کی وزارتہ

تمل ناڈو سے آئی سرٹی فائڈ مدورئی ملّی اور دیگر پھول امریکہ اور دوبئی کو برآمد کئے گئے

Posted On: 08 JUL 2021 2:23PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،  8 جولائی 2021،   اس بات کو یقینی بانے کے لئے کہ بیرون ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں کو اپنے گھر اور مندروں میں دیوی دیوتاؤں  پر چڑھانے کے لئے تازہ پھولوں کی سپلائی ملتی رہے، آج تمل ناڈو سےجیوگرافیکل انڈیکیشنز ( جی آئی)  سرٹی فائڈ مدورئی ملّی اور دیگر  روایتی پھول  مثلاً بٹن ، للی، چمنتھی اور گیندےکے پھول امریکہ اور دوبئی کو  برآمد کئے گئے۔

کنسائنمنٹ کے لئے پھولوں کا انتطام اے پی ای ڈی اے رجسٹرڈ میسرز وینگارڈ ایسپورٹس، کوئمبٹور میں  نیلا  کوٹّائی، ڈنڈی گُل اور ستھیہ منگلم، تمل ناڈو سے کیا۔

کنسائنمنٹ برآمد کاروں کو  پھولوں کی شیلف لائف میں اضافے کے لئے  پیکیجنگ ٹکنالوجی اختیار کرنے کے سلسلے میں  تمل ناڈو ایگری کلچر یونیورسٹی، کوئمبٹور  کے  فلوری کلچر محکمے  کے پروفیسروں  نے مدد کی۔برآمد کاروں نے  معیاری پھولوں کی کاشت  کے لئے  کسانوں سے براہ راست رابطہ کیا اور  اس پہل سے  تقریباً 130 خاتون ورکرز اور تقریباً 30 ہنر مند ورکرز کو روزگار ملا۔

 

 

دوبئی اور امریکہ میں رہنے والی ہندوستانی برادری اب   مذہبی تقریبات کے دوران ثقافتی تہواروں میں بھارت سے وقفے وقفے پر مسلسل  پھولوں کی برآمد کے  بعد گھر پر اور مندروں میں  ہندو دیوی دیوتاؤں پر  تازہ پھول  چڑھا سکے گی۔

سال 21۔2020 کے دوران  فریش کٹ فلاور، چمیلی کے پھول اور  بُکے (چمیلی اور دیگر روایتی پھولوں پر مشتمل) جس کی مالیت 66.28 کروڑ روپے تھی، امریکہ اور یو اے ای ، سنگاپور جیسے ممالک کو برآمد کئے گئے۔ ان میں سے  11.54 کروڑ روپے مالیت  کے پھول  تمل ناڈو خطے سے  چنئی، کوئمبٹور اور مدورئی کے بڑے ہوائی اڈوں کے ذریعہ  برآمد کئے گئے۔

چمیلی (جیسمینم آفیشینیل) دنیا بھر  میں  پائے جانے والے  مقبول ترین  پھولوں میں سے ایک ہے۔ چمیلی کی خوشبو مدورئی کے  میکانشی مندر  کی شان ہے۔اسی وجہ سے مدورئی ، ملّی کے ایک بڑے بازار کے طور پر  ابھرا ہے جس کی کاشت اس کے آس پاس کے علاقوں میں کی جاتی ہے اور  اس کو بھارت  کی ’جیسمن کیپیٹل‘ بھی کہا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ا گ۔ن ا۔

U-6330

                          



(Release ID: 1733876) Visitor Counter : 301


Read this release in: English , Hindi , Tamil