بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت

راجستھان میں قبائلیوں کی آمدنی بڑھانے اور بانس پر مبنی معیشت کو فروغ دینے کے لئے کھادی اور دیہی صنعتوں کی کمیشن کا بے نظیر پروجیکٹ: بولڈ

Posted On: 04 JUL 2021 3:41PM by PIB Delhi

 

کھادی اور دیہی صنعتوں کی کمیشن (کے وی آئی سی) کے ذریعہ صحرا کو کم کرنے اور معاش کے ساتھ ساتھ  کثیر شعبہ جاتی دیہی صنعت کی مدد  کے مشترکہ قومی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے ایک بے نظیر سائنسی مشق کا آغاز کیا گیا ہے۔ "خشک سالی کی زمین پر بانس کا نخلستان" جس کا انگریزی مخفف (بولڈ) ہے۔ اس  نام سے شروع کیا جانے والا یہ منصوبہ ہندوستان میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے جس کا آغاز  آج راجستھان کے اُدے پور کے قبائلی گاؤں نچلا مانڈوا سے کیا گیا ۔

 

بانس کی خاص اقسام کے 5000 پودے بمبوسہ ٹولڈا اور بمبوسہ پولیمورفا کو جو خاص طور پر آسام سے لائے گئے تھے، گرام پنچایت کی خالی پڑی خشک زمین کے 25 بیگھہ (تقریبا 16 ایکڑ) احاطے میں لگائے گئے۔ اس طرح کے وی آئی سی نے ایک ہی دن میں ایک ہی مقام پر زیادہ سے زیادہ بانس کے پودے لگانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

 

پروجیکٹ بولڈ، جو بنجر اور نیم بنجر لینڈ زمینی احاطے میں بانس پر مبنی سر سبزخطے سامنے لانے کیلئے کوشاں ہے، وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی اس پکار سے وابستہ ہے کہ ملک میں زمین کے خشک اور صحرا ئی خطے کم کئے جائیں۔ یہ پہل کے وی آئی سی  کے "کھادی بانس فیسٹیول" کے حصے کے طور پر کی گئی ہے ہے تاکہ آزادی کے 75 سال کی تکمیل پر "آزادی کا امرت مہوتسو" منایا جاسکے۔ کے وی آئی سی رواں سال میں اگست تک گجرات میں  ضلع احمد آباد کے دھولیرا گاوں  اور لداخ کے لیہ خطے میں اس منصوبے کو دہرانے کا مصمم ارادہ رکھتا ہے۔ 21 اگست سے پہلے بانس کے کل 15,000 پودے لگائے جائیں گے۔

 

کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب  ونئے کمار سکسینہ نے کہا کہ ان 3 جگہوں پر بانس کے سبز حصوں سے ایک طرف جہاں ملک کے زمین کے انحطاط  کی شرح  کم کرنے میں مدد ملے گی وہیں دوسری طرف  وہ پائیدار ترقی اور غذائی سلامتی کی آماجگاہیں بن جائیں گی۔

 

ممبر پارلیمنٹ جناب ارجن لال مینا نے کہا کہ اُدے پور میں بانس کے شجرکاری پروگرام سے خطے میں اپنا روزگار آپ پیدا کرنے کے جذبے کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروجکٹوں سے خطے میں بڑی تعداد میں خواتین اور بے روزگار نوجوانوں کو ہنرمندی کے ترقیاتی پروگراموں سے جوڑا جا سکے گا۔

 

کے وی آئی سی نے سر سبز حصے تیار کرنے کے لئے  بانس کا مناسب انتخاب کیا ہے۔

بانس بہت تیزی سے اگتے ہیں اور تقریبا تین برسوں میں، انہیں کاٹا جاسکتا ہے۔ بانس پانی کے تحفظ اور زمین کی سطح سے پانی کے بخارات کو کم کرنے کے لئے بھی جانے جاتے ہیں جو خشک اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں اہمیت کے حامل ہیں۔

*******

ش ح،ع س، ج

U.No. : 6192

 



(Release ID: 1732669) Visitor Counter : 169


Read this release in: English , Hindi , Punjabi , Tamil