نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت

سرینگر میں واقع کھیلو انڈیا اسٹیٹ سینٹر آف ایکسی لینس میں کیاکنگ اور کینوئنگ میں تربیتی سہولیات شامل کی گئیں

Posted On: 22 MAY 2021 2:15PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی۔ 22 مئی         کیاکنگ اور کینوئنگ  کھیلوں میں جموں و کشمیر کے ایتھلیٹوں کی پہلے کی قابل ستائش کارکردگی کو مزید تقویت دینے کے عزم کے تحت ، نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کی وزارت نے دونوں کھیلوں کو سرینگر میں واقع کھیلو انڈیا اسٹیٹ سینٹر آف ایکسی لینس (کے آئی ایس سی ای ) میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل اور ریاستی حکومت نے ان کھیلوں کو سینٹر سے وابستہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ ریاست میں موجودہ جموں و کشمیر واٹر اسپورٹس اکیڈمی  کی سہولیات میں بہتری لانے کے بعد اپریل 2021 میں کے آئی ایس سی ای کا آغاز کیا گیا تھا ، اس سے قبل اس میں صرف کشتی رانی  کے لئے تربیت کی سہولیات موجود تھیں۔

اس فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے مرکزی وزیر ، جناب کیرن رجیجو نے کہا ، “کیاکنگ اور کینوئنگ میں ریاست کے کھلاڑیوں کی کارکردگی عالمی چیمپیئن شپ اور ایشین چیمپیئن شپ جیسے بین الاقوامی مقابلوں میں متاثر کن رہی ہے۔ سرینگر میں کے آئی ایس سی ای کو دونوں شعبوں کی تربیت کی سہولیات سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ریاست سے زیادہ کھیلوں کی صلاحیتوں کو کھیل میں سبقت حاصل کرنے اور عالمی سطح کے مقابلے میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملے۔

اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا اور جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل ، ان دونوں شعبوں میں تربیت کے نفاذ کے لیے ضروریات کا جائزہ لے گی  اور اسی کے مطابق کوچنگ اورضروری  سامان  مہیا کرائے جائیں گے

کھیل کے شعبہ میں ترقی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ، "ہم سرینگر میں کھیلو انڈیا اسٹیٹ سینٹر آف ایکسی لینس کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تاکہ مزید کھلاڑیوں کو یہاں تربیت دی جاسکے۔ ان دونوں کھیلوں کو شامل کرنے سے زیادہ سے زیادہ شراکت داری  ہوگی اور دوسری ریاستوں سے کھیلوں کی صلاحیتوں کو بھی یہاں تربیت دینے کے لیے توجہ مبذول کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ وزارت کھیل اور ریاستی حکومت نے مل کر اس کو ممکن بنانے کے لئے کام کیا۔

سینئر کھلاڑیوں اور کھیلوں کے منتظمین نے بھی اس کوشش کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس فیصلے کی اہمیت کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ، انڈین کیاکنگ اینڈ کینوئنگ ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری ، پرشانت کشواہا  نے کہا کہ  "ہم اس فیصلے کے لئے مرکز کے شکر گزار ہیں۔ کیاکنگ ، کینوئنگ اور روئنگ نے مل کر اولمپکس میں مجموعی طور پر 63 تمغے جیتے ہیں۔انہوں نے کہ  اگر ہم ان کھیلوں میں نوجوانوں کو تربیت فراہم کرسکتے ہیں تو اولمپکس میں ہندوستان کے تمغوں کی فہرست میں  نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کھیلوں کے سازوسامان بہت مہنگے ہیں اور اس لیے کھیلو انڈیا سکیم کے ذریعہ مدد کرنا واقعی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ ، کشمیر اکیڈمی کے لئے ایک بہت ہی اسٹریٹجک مقام ہے چونکہ یہاں کا موسم یورپی ممالک  کی طرح ہے جہاں زیادہ تر مقابلوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ یہ ہندوستان میں آبی کھیلوں کو بہتر بنانے کی سمت ایک بہت بڑا قدم ہے۔

ریاست سے بین الاقوامی سطح کے کیاکنگ ایتھلیٹ بلقیس میر کا کہنا ہے کہ“سرینگر میں کھیلو انڈیا اسٹیٹ سینٹر آف ایکسی لینس کے اس فیصلے کی تاریخی اہمیت ہے۔  انہوں نےکہا کہ وہ 21 سالوں سے واٹر اسپورٹس سے منسلک ہیں اور یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ریاست میں تربیت کی مناسب سہولیات کی فراہمی کے لئے اتنا کچھ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  2009 میں انہوں نے عالمی کپ میں حصہ لیا تھا اور سیمی فائنل میں پہنچے تھے ۔ اگر اس وقت  ان کے پاس اس قسم کی سہولیات ہوتیں تو انہیں یقین ہے کہ  وہ فائنل میں بھی جگہ بنا سکتے تھے۔کے آئی ایس سی ای کا آغاز اور اب کیاکنگ اور کینوئنگ کی شمولیت سے ان  کھیلوں کے نوجوان ایتھلیٹوں کو ترغیب  ملے گی ۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا  ہے کہ آئندہ برسوں میں  وہ اولمپکس میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے اہل ہو جائیں گے۔ انہوں نے اس پہل کے لئے مرکز اور ریاست کا بھی شکریہ ادا کیا ۔   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔ رض  ۔ ج ا  (

U-4729



(Release ID: 1720976) Visitor Counter : 89


Read this release in: English , Hindi , Punjabi