کامرس اور صنعت کی وزارتہ

پیداوار سے جڑی انسینٹو اسکیموں کی حالت

پی ایل آئی اسکیموں کے نتیجہ میں بھارت میں 5 سالوں میں کم از کم پیداوار 500 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہونے کی امید

کابینہ نے اب تک نو پی ایل آئی اسکیموں کو منظوری دی

Posted On: 07 APR 2021 4:39PM by PIB Delhi

یکم فروری 2020 کو پیش مرکزی بجٹ 22-2021 میں، وزیر خزانہ نے 13 بنیادی شعبوں کے لیے پیداوار سے جڑی انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیموں کے لیے نیشنل مینوفیکچرنگ چمپئن بنانے اور ملک کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے 1.97 لاکھ کروڑ روپے کے بجٹ کا اعلان کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ پی ایل آئی اسکیموں کے نتیجہ میں بھارت میں 5 سالوں میں کم از کم پیداوار 500 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہونے کی امید ہے۔

پی ایل آئی اسکیمیں آتم نربھر بھارت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے حکومت کی سخت کوششوں کی بنیاد ہے۔ اس کا مقصد گھریلو مینوفیکچرنگ کو عالمی سطح پر مقابلہ جاتی بنانا اور مینوفیکچرنگ میں عالمی چمپئن بنانا ہے۔ اسکیموں کے پیچھے کی حکمت عملی بنیادی سال کے دوران بھارت میں تیار کردہ مصنوعات سے ترقی پذیر فروخت پر کمپنیوں کو انسینٹو دینے کی پیشکش کرنا ہے۔ انہیں خاص طور سے نئے اور بڑھ رہے اور اسٹریٹجک شعبوں میں گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے، سستی درآمد پر پابندی لگانے اور درآمداتی بلوں کو کم کرنے، گھریلو سطح پر تیار اشیاء کی لاگت کی مقابلہ آرائی میں اصلاح اور گھریلو صلاحیت اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

پہلی تین پی ایل آئی اسکیموں کو مارچ 2020 میں منظوری دی گئی تھی اور اس کے بعد نومبر 2020 میں 10 دیگر نئی پی ایل آئی اسکیمیں شروع کی گئی تھیں۔ ان میں سے، پچھلی تین اسکیموں کو نوٹیفائی کیا گیا تھا، اور نیچے دی گئی ترتیب میں دس نئی اسکیموں میں سے چھ کو کابینہ نے منظوری دی تھی:

  1. الیکٹرانک / ٹیکنالوجی مصنوعات – ایم ای آئی ٹی وائی (3 مارچ 2021 کو نوٹیفائیڈ)
  2. فارماسیوٹیکلس دوائیں – فارماسیوٹیکلس محکمہ (3 مارچ 2021 کو نوٹیفائیڈ)
  3. مواصلات اور نیٹ ورکنگ مصنوعات – محکمہ مواصلات (24 فروری 2021 کو نوٹیفائیڈ)
  4. غذائی مصنوعات – خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعت کی وزارت
  5. بجلی کا بڑا سامان (اے سی اور ایل ای ڈی) – ڈی پی آئی آئی ٹی
  6. انتہائی اثردار شمسی پی وی ماڈیول – ایم این آر ای

جیسا کہ نیچے دیا گیا ہے، دیگر چار اسکیمیں کابینہ کی منظوری ملنے کے عمل میں ہیں:

  1. موٹر گاڑیاں اور ان کے کل پرزے – بھاری صنعت کا محکمہ
  2. ایڈوانس کیمسٹری سیل (اے سی سی) بیٹری – بھاری صنعت کا محکمہ
  3. کپڑے کی مصنوعات: ایم ایم ایف گوشہ اور تکنیکی لباس – کپڑے کی وزارت
  4. اسپیشلٹی اسٹیل – اسٹیل کی وزارت

یہ دھیان دیا جانا چاہیے کہ پہلے نوٹیفائیڈ 3 پی ایل آئی اسکیمیں، ان کے نفاذ کے بارے میں اپڈیٹ نیچے دیا گیا ہے:

  • ایم ای آئی ٹی وائی: موبائل مصنوعات اور مخصوص الیکٹرانک پرزے

اس اسکیم کے تحت 35541 کروڑ روپے کی 16 درخواستیں منظور کی گئی ہیں۔

  • فارماسیوٹیکلس محکمہ: اہم بنیادی ابتدائی اشیاء/دوا کے درمیانی ادارے اور سرگرم دوا کے میٹیریل- 5400 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے عزم کے ساتھ 47 درخواستوں- کو آخرکار منظوری مل گئی ہے۔
  • فارماسیوٹیکلس محکمہ: 873.93 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے عزم کے ساتھ طبی آلات کی تعمیر کے لیے – 14 درخواستوں کو منظوری دی جاتی ہے۔
  1. پہلے نوٹیفائی کی گئی پی ایل آئی اسکیموں (3) کی حالت نیچے دی گئی ہے:
  1. ایم ای آئی ٹی وائی- موبائل مصنوعات اور مخصوص الیکٹرانک
  1. پی ایل آئی میں اہم حصولیابیاں نافذ کی جا رہی ہیں: یہ اسکیم بنیادی سال کے بعد پانچ سال کی مدت کے لیے ترقی پذیر فروخت پر 4 فیصد سے 6 فیصد کا انسینٹو فراہم کرتی ہے۔ اسکیم کو یکم اپریل 2020 کو نوٹیفائی کیا گیا تھا؛ درخواست دینے کی آخری تاریخ 31 جولائی 2020 تھی اور یہ اسکیم یکم اگست 2020 کو شروع ہوئی۔ اس اسکیم کو پہلے دور کے تحت انتہائی حوصلہ افزا رد عمل ملا ہے۔ اس اسکیم کے پہلے دور کے تحت ہندوستانی روپے میں 36440 کروڑ روپے کے انسینٹو بجٹ کے ساتھ 16 درخواستوں کو منظوری ملی (گلوبل چمپئنس زمرہ کے تحت 5 کمپنیاں، گھریلو چمپئنس مرحلہ کے تحت 5 کمپنیاں اور الیکٹرانک کمپونینٹ زمرہ کے تحت 6 کمپنیاں)۔ دسمبر 2020 میں اختتام پذیر سہ ماہی کے لیے تین مہینے پر مبنی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، اسکیم کے نفاذ کے ابتدائی 5 مہینوں میں اور چیلنج بھرے وقت کے باوجود، درخواست گزار کمپنیوں نے اسکیم کے تحت ~ 35000 کروڑ روپے کا مال تیار کیا اور ~ 1300 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی۔ اس مدت کے دوران اضافی روزگار کی تخلیق تقریباً 22000 نوکریاں ہیں۔

پی ایل آئی اسکیم کے پہلے دور کی کامیابی کے بعد، پی ایل آئی اسکیم کا دوسرا دور 11 مارچ 2021 کو شروع کیا گیا، جو ایک تازہ اور مضبوط الیکٹرانک کل پرزوں کی تعمیر ایکو سسٹم بنانے پر مرکوز ہے۔ درخواست دینے کی آخری تاریخ 31 مارچ 2021 تھی۔ دوسرے دور کے تحت، 5 فیصد سے 3 فیصد تک کی انسینٹو رقم کی توسیع بھارت میں تیار کردہ سامانوں کی ترقی پذیر فروخت (بنیادی سال، 20-2019) تک کی جا سکتی ہے اور اس میں چار سالوں کی مدت کے لیے اہل کمپنیوں کو متعینہ حصہ کے تحت شامل کیا جائے گا۔ دوسرے دور کے تحت بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے پی ایل آئی اسکیم کی موصول ہونے والی درخواستیں تجزیہ کے عمل میں ہیں۔

  1. مصنوعات کے لیے اہم صنعت کاروں کا رد عمل: بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے پی ایل آئی اسکیم کے تحت منظور شدہ کمپنیوں میں سیم سنگ، فاکس کان ہان ہائی، رائزنگ اسٹار، وسٹران اور پیگاٹران شامل ہیں۔ ان میں سے 3 کمپنیاں، جیسے فاکس کان ہان ہائی، وسٹران اور پیگاٹران، ایپل آئی فون کے لیے کانٹریکٹ مینوفیکچررز ہیں۔ ایپل (37 فیصد) اور سیم سنگ (22 فیصد) کے پاس موبائل فون کی عالمی فروخت مالیت کا تقریباً 60 فیصد حصہ ہے اور اس اسکیم سے ملک میں ان کی مینوفیکچرنگ بنیاد میں کئی گنا اضافہ ہونے کی امید ہے۔ اس اسکیم کے تحت لاوا، بھگوتی (مائکرومیکس)، پڈگیٹ الیکٹرانکس، یو ٹی ایل نیو لنک اور آپٹیمس الیکٹرانکس سمیت ہندوستانی کمپنیوں کو منظوری دی گئی۔ ان کمپنیوں سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنی مینوفیکچرنگ سرگرمیوں کی اہم طریقے سے توسیع کریں اور موبائل فون کی پیداوار میں نیشنل چمپئن کمپنیوں کے طور پر تیار ہوں۔
  2. پی ایل آئی کے ذریعے کس قسم کا ویلیو ایڈیشن لگایا جائے گا- نئی قسم کی صنعتوں، ایم ایس ایم ای/ماتحت کو انسینٹو وغیرہ: بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے پی ایل آئی اسکیم بھی ایک تازہ اور مضبوط الیکٹرانک آلات کی تعمیر کرنے پر خاص دھیان دیتی ہے۔ یہ قدم بھارت میں آئی ٹی ہارڈ ویئر، ایل ای ڈی مصنوعات، موٹر گاڑی، طبی آلات، شمسی سیل، توانائی کا ذخیرہ وغیرہ جیسے کئی شعبوں کے لیے مصنوعات کی پیداوار کو مزید مضبوط کرے گا، جس کے لیے دیگر پی ایل آئی اسکیمیں نافذ ہونے جا رہی ہیں۔
  3. سرمایہ کاری، پیداوار، برآمدات اور روزگار میں اضافہ کے سلسلے میں ممکنہ نتائج: اگلے پانچ سالوں میں، اس اسکیم سے کل 10.5 لاکھ کروڑ روپے کی پیداوار ہونے کی امید ہے۔ پیداوار کا 60 فیصد سے زیادہ برآمد ہونے کی امید ہے۔ اس اسکیم سے 11000 کروڑ روپے کی اضافی سرمایہ کاری کی امید ہے۔ ویلیو ایڈیشن موجودہ کے 25-20 فیصد سے بڑھ کر 2025 تک 40-35 فیصد ہونے کی امید ہے۔ یہ اسکیم اگلے 5 سالوں میں بالواسطہ روزگار کے تقریباً 2 لاکھ مواقع پیدا کرے گی اور ساتھ ہی بالواسطہ روزگار سے تقریباً 3 گنا اضافی بلا واسطہ روزگار پیدا کرے گی۔
  1. فارماسیوٹیکلس محکمہ – اہم بنیادی ابتدائی میٹریل (کے ایس ایم) / دوا کے درمیانی ادارے اور سرگرم دوا میٹریل (اے پی آئی)
  1. پی ایل آئی میں اہم حصولیابیاں نافذ کی جا رہی ہیں: خود انحصاریت حاصل کرنے اور بڑی تعداد میں ان اہم دواؤں میں درآمداتی انحصاریت کو کم کرنے کے مقصد سے – ملک میں بنیادی شروعاتی میٹریل /  دوا کے درمیانی ادارے اور سرگرم دوا میٹریل، فارماسیوٹیکلس محکمہ نے پیداوار سے جڑی ایک انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم شروع کی تاکہ 21-2020 سے 30-2029 کی مدت کے لیے 6940 کروڑ روپے کے کل بجٹ کے ساتھ کل 41 پیداوار کے چار الگ الگ متعینہ حصوں میں کم از کم گھریلو ویلیو ایڈیشن کے ساتھ (دو فرمنٹیشن پر مبنی – کم از کم 90 فیصد اور دو کیمیکل سنتھیسس پر مبنی – کم از کم 70 فیصد) گرین فیلڈ پلانٹس لگاکر کر گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جا سکے۔
  2. صنعتی دنیا کا رد عمل: پی ایل آئی اسکیم میں بڑی تعداد میں دواؤں کے لیے، اہم کامیاب صنعتوں/شراکت داروں میں میسرز اربندو فارما گروپ، میسرز ہیٹیری گروپ، میسرز کرناٹک اینٹی بائیوٹکس اینڈ فارماسیوٹیکلس لمیٹڈ، میسرز کنوان پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز نیچرل بائیوجینیکس پرائیویٹ لمیٹڈ وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں ترقی یافتہ بازاروں میں مضبوط موجودگی کے ساتھ عالمی کھلاڑی شامل ہیں۔
  3. سرمایہ کاری، پیداوار، برآمدات اور روزگار میں اضافہ کے سلسلے میں ممکنہ نتائج: پورے ملک سے بڑی تعداد میں دواؤں کے لیے پی ایل آئی اسکیموں کے لیے 4 متعینہ حصوں میں پھیلی 36 مصنوعات کے لیے کل 215 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے 47 درخواستوں کو حکومت کے ذریعہ منظوری دے دی گئی ہے، جس میں 5366.35 روپے کی کل سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ تقسیم کے لیے زیادہ سے زیادہ انسینٹو کی تجویز 6000 کروڑ روپے اور امکانی روزگار کی تخلیق تقریباً 12140 ہے۔
  1. فارماسیوٹیکلس محکمہ – طبی آلات کی مینوفیکچرنگ
  1. پی ایل آئی میں بنیادی حصولیابیوں کو نافذ کیا جا رہا ہے: گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے مقصد سے، طبی آلات کے شعبہ میں بڑی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لیے، فارماسیوٹیکل محکمہ نے پیداوار سے جڑی انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم شروع کی تاکہ طبی آلات کے گھریلو مینوفیکچررز کے لیے 21-2020 سے 28-2027 کی مدت میں کل 3420 کروڑ روپے کے مالی بجٹ کے ساتھ برابری کو یقینی بنانے کے لیے طبی آلات کی گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جا سکے۔
  2. صنعتی دنیا کا رد عمل: طبی آلات کے لیے پی ایل آئی اسکیم میں، اہم کامیاب کھلاڑیوں/شراکت داروں میں میسرز سیمنس ہیلتھ کیئر پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز وپرو جی ای ہیلتھ کیئر پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز بی پی ایل میڈیکل ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز نپرو انڈیا کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز سہجانند میڈیکل ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز انٹیگریس ہیلتھ پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز پالی میڈی کیور لمیٹڈ وغیرہ شامل ہیں۔
  3. سرمایہ کاری، پیداوار، برآمدات اور روزگار میں اضافہ کے سلسلے میں امکانی نتائج: طبی آلات کے لیے پی ایل آئی اسکیموں کے لیے 4 متعینہ حصوں میں پھیلی کل 28 درخواستیں ملک بھر سے موصول ہوئی ہیں۔ ان میں سے 14 درخواستوں کو حکومت کے ذریعہ منظوری دے دی گئی ہے، جن میں سرمایہ کاری کی کل استعداد 873.93 کروڑ روپے ہے؛ تقسیم کے لیے زیادہ سے زیادہ انسینٹو تجویز 1694 کروڑ اور ممکنہ روزگار کی تخلیق تقریباً 4212 ہے۔
  1. حال ہی میں منظور پی ایل آئی اسکیموں کی حالت نیچے دی گئی ہے:
  1. ڈی پی آئی آئی ٹی- بجلی کا بڑا سامان (اے سی اور ایل ای ڈی)
  1. پی ایل آئی میں اہم حصولیابیاں نافذ کی جا رہی ہیں: بجلی کے بڑے سامان کے لیے پی ایل آئی اسکیم ایئر کنڈیشنر اور ایل ای ڈی لائٹس کی تعمیر میں لگی کمپنیوں کو پانچ سال کی مدت کے لیے بھارت میں تیار کردہ سامانوں کی ترقی پذیر فروخت پر 4 فیصد سے 6 فیصد کی انسینٹو رقم دے گی۔ پی ایل آئی اسکیم بھارت میں مکمل ایکو سسٹم بنانے اور بھارت کو عالمی سپلائی سیریز کا ایک اٹوٹ حصہ بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ یہ اسکیم علاقائی نا اہلی کو ہٹا کر، پیداوار بڑھانے پر لاگت میں بچت کر اقتصادیات کو بنانے اور صلاحیت کو یقینی بنانے کے لیے بھارت میں مینوفیکچرنگ کو عالمی سطح پر مقابلہ آرا بنانے میں اہم رول نبھائے گا۔ اس اسکیم سے عالمی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے، بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں کافی اضافہ ہونے کی امید ہے۔ یہ اختراع اور تحقیق و ترقی اور ٹیکنالوجی کی جدیدکاری میں سرمایہ کاری کو فروغ دے گا۔ اس اسکیم سے اے سی اور ایل ای ڈی صنعتوں کے لیے موجودہ قیمتوں کے مقابلے شرح ترقی حاصل کرنے، بھارت میں مکمل ایکو سسٹم تیار کرنے اور بھارت میں گلوبل چمپئن مینوفیکچر کرنے، کئی ایم ایس ایم ای سمیت کئی عالمی اور گھریلو کمپنیوں کو فائدہ ہونے کا امکان ہے۔
  2. پی ایل آئی کے تحت مصنوعات کے لیے اہم صنعتوں کا رد عمل: یہ اسکیم مناسب وابستگان جیسے ایئر کنڈیشنر اور ایل ای ڈی لائٹس مینوفیکچررز اور متعلقہ صنعتی یونینوں کے مینوفیکچررز کے صلاح و مشورہ سے تیار کی گئی ہے اور وہ اس اسکیم کی شروعات کے لیے منتظر ہیں۔
  3. عالمی رسائی کا بیڑہ کیسے اٹھائیں: انویسٹ انڈیا کے ساتھ تال میل میں، بیرونی ممالک میں اسکیم کو فروغ دینے کا کام خاص طور سے ڈی پی آئی آئی ٹی کے پروجیکٹ ڈیولپمنٹ سیل (پی ڈی سی) کے ذریعہ مناسب شعبوں میں پہچانی گئی بڑی عالمی کمپنیوں پر مرکوز کیا گیا ہے۔ اس میں اے سی اور ایل ای ڈی لائٹس صنعت میں عالمی سطح پر پہچانے جانے والے عالمی ممالک میں بھارت کے سفارت خانوں کے مبلغین بھی شامل ہوں گے۔ اس کے بعد اسکیم کے بارے میں بیداری کو بڑھانے کے لیے سی آئی آئی، فکی، ایسوچیم، آر اے ایم، سی ای اے ایم اے اور ای ایل سی او ایم اے کے ذریعہ ورکشاپ / ویبنار منعقد کیے جائیں گے۔
  4. پی ایل آئی کے ذریعہ لایا گیا ویلیو ایڈیشن: صنعت کے مطابق، اے سی صنعت کے لیے ویلیو ایڈیشن 25-20 فیصد کی موجودہ سطح سے بڑھ کر 75 فیصد اور ایل ای ڈی لائٹس صنعت کے لیے 40 فیصد سے 75-70 فیصد تک بڑھ جائے گا؛ اس کے نتیجہ میں ان کل پرزوں یا سب-اسمبلی کی تعمیر شروع ہو جائے گی جو فی الحال بھارت میں نہیں بنائی جا رہی ہیں۔
  5. اسکیم کا نتیجہ: یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ پانچ سالوں کی مدت میں، پی ایل آئی اسکیم سے 7920 کروڑ روپے کی ترقی پذیر سرمایہ کاری؛ 168000 کروڑ روپے کی ترقی پذیر پیداوار؛ 64400 کروڑ روپے کی برآمدات؛ 49300 کروڑ روپے کا بالواسطہ اور بلا واسطہ ریونیو ہوگا؛ اس سے اضافی چار لاکھ بالواسطہ اور بلا واسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
  1. ایم این آر آئی – اعلی صلاحیت کے شمسی پی وی ماڈیول
  1. محکمہ / وزارت کے ذریعہ نافذ پی ایل آئی میں اہم حصولیابیاں: فی الحال ملک میں شمسی صلاحیت میں اضافہ درآمد شدہ شمسی پی وی سیل اور ماڈیول پر کافی حد تک منحصر ہے کیوں کہ گھریلو مینوفیکچرنگ صنعت میں شمسی پی وی سیل اور ماڈیول کی آپریشن صلاحیت محدود ہے۔ اس پی ایل آئی اسکیم کے اعلی صلاحیت والے شمسی پی وی ماڈیول کی اہم حصولیابی سے بجلی جیسے اسٹریٹجک شعبے میں درآمد پر انحصار کے امکان میں کمی آنے کی امید ہے۔
  2. پی ایل آئی کے تحت مصنوعات کے لیے اہم صنعتوں کا رد عمل: اس اسکیم کی تیاری کے مرحلہ میں صنعت کے جن وابستگان سے صلاح و مشورہ کیا گیا، انہوں نے زبردست رد عمل دکھایا ہے، اور وہ بڑی، متحد مینوفیکچرنگ صلاحت کے لیے تیار ہیں، جس سے منافع کی اقتصادیات کو حاصل کرنے، عالمی سطح پر مقابلہ آرا بننے میں مدد ملے گی۔
  3. اس اسکیم کی عالمی پہنچ بنانے کے لیے، ایم این آر ای پھر سے عالمی صنعتی دنیا کے ساتھ بات چیت کرے گی، مختلف سولر مینوفیکچرنگ تنظیموں کو لکھے گی، ساتھ ہی بیرونی ممالک میں مختلف ہندوستانی سفارت خانوں سے درخواست کرے گی کہ وہ اپنے متعلقہ ممالک میں امکانی سرمایہ کاروں کو مطلع کریں۔
  4. پی ایل آئی کے ذریعہ کس طرح کا ویلیو ایڈیشن لایا جائے گا – نئی قسم کی صنعت، ایم ایس ایم ای/ماتحت کو انسینٹو وغیرہ: ڈیولپرس کو اعلی صلاحیت کے شمسی پی وی ماڈیول اور گھریلو بازار سے اپنا سامان لینے کے لیے بھی آمادہ کیا جائے گا۔ اس طرح، پی ایل آئی اسکیم نہ صرف پالی سلیکان اور ویفرس جیسے شمسی پی وی مینوفیکچرنگ کے اوپری مراحل میں گھریلو مینوفیکچرنگ صلاحیت کے قیام میں مدد کرے گی، جو حال میں ملک میں موجود نہیں ہیں، بلکہ پورے شمسی پی وی ڈیولپمنٹ ایکو سسٹم کو بڑھائے گی، جس میں ماتحت اکائیوں اور ایم ایس ایم ای کو فروغ دینا بھی شامل ہے۔
  5. سرمایہ کاری، پیداوار، برآمدات اور روزگار میں اضافہ کے سلسلے میں امکانی نتائج: اسکیم سے متوقع نتائج/فوائد ہیں – متحدہ شمسی پی وی مینوفیکچرنگ پلانٹوں کی اضافی 10000 میگاواٹ صلاحیت؛ شمسی پی وی مینوفیکچرنگ پروجیکٹوں کے قیام میں تقریباً 17200 کروڑ کی بلاواسطہ سرمایہ کاری؛ تقریباً 30000 کا بلا واسطہ روزگار اور تقریباً 120000 افراد کا بالواسطہ روزگار؛ ہر سال تقریباً 17500 کروڑ کی درآمداتی منتقلی؛ ’بیلینس آف میٹریلس‘ جیسے سولر گلاس، ایوا، بیک شیٹ، جنکشن باکس، ربن وغیرہ کے لیے 5 سالوں میں 17500 کروڑ کی مانگ سے نئی قسم کی صنعتوں کی ترقی ہوگی، جہاں ایم ایس ایم ای اہم رول نبھائیں گے؛ شمسی پی وی ماڈیول میں اعلی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے تحقیق و ترقی کو رفتار عطا کرتے ہیں۔

*****

ش ح – ق ت – ت ع

U No. 3819



(Release ID: 1712625) Visitor Counter : 1


Read this release in: English , Hindi