کامرس اور صنعت کی وزارتہ

جناب پیوش گوئل نے کہا ’’بھارت یوروپی یونین کا سب سے زیادہ اچھا شراکت دار ثابت ہوسکتا ہے‘‘


بھارت یوروپی یونین تجارت کو متوازن اور تکمیلی قرار دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ تجارت کوفروغ دینے کے وسیع امکانات موجودہیں

حکومت زندگیوں کی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی وبا پر قابوپانے کے لئے بہت اقدامات کررہی ہے

انہوں نے کووڈ۔ 19 سےمتعلق مصنوعات پر کچھ ٹرپس ضابطوں میں عارضی نرمی کرنے کے لئے ڈبلیوٹی او میں بھارت کی تجویز پر یوروپی یونین سےحمایت کی اپیل کی

Posted On: 13 APR 2021 6:51PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  13   اپریل 2021،           ریلوے، کامرس و صنعت ، امور صارفین ، خوراک و عوامی نظام تقسیم کے وزیر جناب پیوش گوئل نے آج کہا کہ  بھارت یوروپی یونین (ای یو)  کا  سب سے زیادہ  اچھا  شراکت دار ثابت ہوسکتا ہے۔ آج ای یو رکن ممالک کے سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ای یواور بھارت کی شراکت داری اچھی حکمرانی،  ترقی  اور فروغ کے ایک ماڈل کے طور پر ابھرسکتی ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ بھارت اور ای یو کا ’گونا گونیت کا اتحاد‘ جمہوریت اور  قانون کی حکمرانی کی یکساں اقدار  ہیں۔ ان کے آپس میں  مضبوط  اقتصادی، سماجی و ثقافتی،  اسٹریٹجک اور  سیاسی تعلقات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور ای یو کا شمار  دنیا کے سب سے  بڑے بازاروں میں ہوتا ہے۔ ای یو ممالک  مجموعی طور پر بھارت کے لئے سب سے تجارتی شراکت دار ہیں۔ ساتھ ہی  بھارت میں  سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والوں میں بھی ان کا شکار ہوتا ہے۔ بھارت ۔ ای یو درآمدات۔ برآمدات  متوازن اور  تکمیلی ہیں۔ تحقیق اور اختراع کے میدان میں  بھارت۔ ای یو تعاون کو کافی وسعت ملی ہے اور  اس میں  مزید توسیع کا بہت زیادہ امکان موجود ہے۔

کووڈ ۔ 19 کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ سال 2020 نے   دنیا کے عزم و ارادے کا امتحان لیا ۔ انہوں نے کہا کہ  بھارت نے   سب سے زیادہ سخت لاک ڈاؤن نافذ  کیا تھا کیونکہ زندگی کی اہمیت پر  ہمارا پختہ یقین ہے۔  لاک ڈاؤن کے دوران  ہم نے اپنے آپ کو  اپنے بنیادی ڈھانچے مثلاً وینٹی لیٹر ، آئی سی یو بیڈ، پی پی ای کٹس وغیرہ کوتیار کیا۔ لاک ڈاؤن کے باوجود ہم نے اپنی بین الاقوامی عہد بندی کو پورا کیا، خصوصی طور پر  خدمات  کے شعبے میں اور  کسی ویلیو چین کو  متاثر نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے  اس بات کو یقینی بنایا کہ  ضروری اشیائے صارفین، مثلاً  اناج، سبزیاں، دودھ، ادویات وغیرہ ہر گھر تک پہنچیں۔

جناب گوئل نے کہا کہ آہستہ آہستہ ان لاکنگ کے بعد  حکومت کی کوششوں سےمعیشت واپس پٹری پر آئے ہے اور قریب قریب  معمول پر آگئی ہے۔ ان کوششوں کے دوران  زندگی اور روزگار کے درمیان  ایک نازک توازن برقرار رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس حقیقت سے واقف ہے کہ کووڈ۔ 19 کی دوسری لہر  پہلے سے زیادہ تشویش کن ہے۔ انہوں نے یہ یقین دلایا کہ  حکومت زندگیوں کی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ  عالمی وبا پر  قابو پانے کے لئے بہت سےاقدامات کررہی ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ کووڈ۔ 19 کے دوران دنیا بھر میں  سرمایہ کاری میں گراوٹ آئی ہےلیکن بھارت میں  اس میں اضافہ ہوا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ  دنیا بھی  بھارت  کےحقیقی امکانات   کا اعتراف کرتی ہے جو کہ  کووڈ۔ 19 کے سال میں بھی  ریکارڈ ایف ڈی آئی  اور پورٹ پولیوں  کی تعداد سے واضح ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ  بحران  کے بڑھنے   کے بعد وزیراعظم نے  ’’ بحران کو موقع پر تبدیل کرنے‘‘ کے جذبے سے  آتم نربھر بھارت یعنی  خود کفیل بھارت کےلئے  اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ  آتم نربھر بھارت کا مطلب  تحفظ پسندی نہیں بلکہ یہ بھارت اور  دنیا کے لئے  پروڈکشن  کے  ذریعہ پر  مرکوز ہے جس کا مقصد  بھارت کو  خصوصی طور پر ایسے شعبوں میں ، جہاں ہمارا ملک مسابقتی صلاحیت رکھتا ہے، عالمی مینوفیچرنگ ہب   بنانا ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ بھارت کی مینوفیکچرنگ اور ای یو کی اختراع کی صلاحیت  ایک گیم چینجر کا رول  کرتے ہیں۔  لکچدار بھارت ای یو تعلقات کی اپیل کرتے ہوئےانہوں نےکہا کہ  بھارت اور ای یو کو  تال میل کے وسیع شعبوں کو دیکھنا  چاہیے۔ انہوں نےکہا کہ  سرمایہ کاری کی سہولت اور  باہمی مفاد کےنتائج کے لئے تحفظ   کے سلسلے میں  بھارت اور ای یو کےدرمیان  اور معاہدے کےلئے  بات چیت کو آگےبڑھانے   کا بھارت خواہش مند ہے۔انہوں نےتجارت اور سرمایہ کاری دونوں پر   متناسب  اور ساتھ ساتھ  مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ  دونوں فریقوں کے لئے ہمیں  متوازن نتیجہ حاصل ہوسکے۔وزیر موصوف نے   ارلی ہارویسٹ معاہدوں کی اپیل کی جو ان کے مطابق  پوری طرح ڈبلیو ٹی او کی شرائط کےمطابق ہیں۔ انہوں نے  دونوں فریقوں کےلئے  نان ٹیرف پابندیوں کو دور کرنے کی اپیل  کی۔

جناب گوئل نے کہا کہ  وسودھیو کٹم بکم  کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے بھارت نے  دنیا بھر کے 80 سے زیادہ ممالک کو  65 ملین سے زیادہ کووڈ ۔ 19ویکسین بھیجی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے  ایک محدود مدت کےلئے ڈبلیو ٹی او میں ٹرپس  کی شرائط میں نرمی کی تجویز پیش کی ہے تاکہ  بڑے پیمانے پر نوع انسانی کی کووڈ۔ 19 سے متعلق مصنوعات تک رسائی ہوسکے اور  اس سلسلے میں انہوں نے ای یو سے حمایت کی اپیل کی ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ  ڈبلیو ٹی او کی اصلاحات  بھارت اور ای یو دونوں کا مشترکہ مقصد ہے۔ انہوں نےکہا کہ  وہ اس سال مئی میں  پورٹو میں ای یو بھارت سربراہ کانفرنس کے لئے  راہ ہموار کرنے کے مقصد سے اپنےیوروپی ہم منصبوں کے ساتھ  کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ا گ۔ن ا۔

U-3713                          



(Release ID: 1711832) Visitor Counter : 89


Read this release in: English , Marathi , Hindi