عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت

کووڈ – 19 کے خلاف ہندوستان کی عالمی شمولیت والی لڑائی، اس وبا کا کامیابی کے ساتھ سامنا کرے گی-ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ڈاکٹر جتیندرسنگھ نے وبا کے دوران بہترین حکمرانی عمل کے موضوع پر منعقد دو روزہ ہند-مالدیپ ورکشاپ میں اختتامی خطاب کیا

ورکشاپ میں مستقل سکریٹریوں سمیت حصہ لینے والے 1350افراد نے شرکت کی

Posted On: 24 FEB 2021 5:15PM by PIB Delhi

نئی دلّی  ، 24، فروری  ، 2021 : شمال مشرقی خطے کی ترقی  کے وزیر مملکت  (آزادانہ چارج) ، وزیراعظم کے دفتر،  عوامی شکایات، عملہ، پنشن ، ایٹمی توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت  ڈاکٹر جتیندرسنگھ نے  آج کہا کہ  عالمی وبا نے  زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کیا ہے اور اس کی وجہ سے  حکمرانی میں  بنیادی ڈھانچے  کی تبدیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے  نئی دہلی میں  وبا کے دوران  بہترین حکمرانی ، عمل موضوع پر  منعقد  دو روزہ ہند-  مالدیپ ورکشاپ میں  اپنے  الوداعی خطاب میں کہا  کہ  سودیشی طریقے سے  تیار کئے گئے   دو ٹیکوں  -  کو ویکسین اور  کووڈ شیلڈ کے ساتھ ہندوستان کی  کووڈ – 19  ٹیکہ کاری پروگرام کے  کامیاب شروعات   سے آنے والے مہینوں میں  وبا کے خلاف  ایک فیصلہ  کن کامیابی کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ  کووڈ – 19  وبا کے خلاف  لڑائی  جیتنے میں  دونوں ملکوں کے لئے  آگے کی راہ  معیشت کو پھر سے شروع کرنے، زیادہ مضبوط اداروں ،  زیادہ مضبوط ای – گورننس  ماڈل، ڈیجیٹل  طور پر  با اختیار شہریوں اور  بہتر  صحت خدمات پر  زور دینے کے ساتھ  معاونت والے  وفاق  کو  مضبوط کرنے میں پوشیدہ ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی  نے  اس وبا  کا  کامیابی کے ساتھ سامنا کرنے کے مقصد سے  ہندوستان کے پڑوسی ملکوں  کو  ٹیکے کی تقسیم کے ساتھ  مدد کرنے کے لئے  حکومت ہند کے گہرے  اور مستقل  عہد  کو  دہرایا  ہے اور اس پر  زور دیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/PHOTO-1H1C5.JPG

جون 2019  میں وزیراعظم کے مالے دورے کے دوران  ہند – مالدیپ کے درمیان ہوئے مفاہمتی عرضداشت پر دستخط  کے حصے  کی شکل میں ہندوستان 5  سالوں کی مدت میں  نیشنل سینٹر فار گڈ گورننس (این سی جی جی)  میں مالدیپ کے ایک ہزار  سول سروس کے  افسران کی  صلاحیت سازی کے لئے عہد بند ہے۔ این  سی جی جی  مالدیپ میں واقع  ہندوستانی ہائی کمیشن اور  مالدیپ کے  سول سروس کمیشن  (سی ایس سی)  نے  اگست 2019   میں   متحدہ طور پر مفاہمتی عرض داشت کو نافذ کیا اور مارچ  2020  تک  این سی جی جی میں 6 د ور کے  صلاحیت سازی  کی تعمیر کے  پروگرام  چلائے اور مالدیپ کے  130 سول سروس کے افسران  نے  ہندوستان کا دورہ کیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ  وبا  میں  بہترین حکمرانی عمل پر  توجہ  مرکوز کرنے کے ساتھ  صلاحیت سازی کے موضوع پر منعقد  ہند – مالدیپ ورکشاپ  دونوں ملکوں کے  وبا سے نمٹنے  کے طریقے سے  جڑے  باہمی تجربات کو  دکھانے  اور ان سے  سیکھنے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ورکشاپ  میں  قیادت اور  حوصلہ افزائی پر  سیشن منعقد کئے گئے۔ خصوصی طور پر  دونوں ملکوں میں  اعلی  ترین  سول سروس افسران  وبا کے  چلتے  صحت اور  تعلیم کے شعبے میں  کام کے  مشکل ماحول پر  دھیان دیں گے۔ وبا کے دوران  نوکریوں ، ہنر مندی  و سیاحت ،  بین  ذاتی  ہنر مندی  اور  اطلاعاتی  ہنر مندی ،  ڈیجیٹل  عمل اور عوامی شکایات  و  مسائل کے تجزیئے  و  پالیسی سازی پر  توجہ مرکوز کی گئی۔ وزیر موصوف نے کہا کہ  مالدیپ کے  سول سروس افسران کو  ہندوستانی تجربے کی  وسیع سمجھ سے  واقف کرانے  اور  ہندوستانی اداروں کو  مالدیپ  کے سامنے آئے  چیلنجوں کی  معلومات  مہیا  کرانے کے لئے  یہ کوشش کی گئی، تاکہ  عوامی  اہمیت میں  اصلاح کے لئے تجربات  ساجھا کرنے کو  یقینی بنایا جاسکے۔

 مارچ 2020  میں  وزیراعظم جناب  نریندر مودی  خطے میں کووڈ – 19 کا مقابلہ کرنے کے لئے  ایک عام  حکمت عملی  بنانے کے مقصد سے  سارک ممالک  کے لیڈروں کے ساتھ بات چیت کی۔ ہندوستان کے ذریعے  اٹھائے گئے  پیش بندی کے طور پر  قدموں میں  ایک وسیع رد عمل  میکنزم،  ملک میں  داخل ہونے والوں کی اسکریننگ ،  ٹیلی ویژن، پرنٹ اور  سوشل میڈیا پر  عوامی بیداری مہم  اور  کمزور  گروپوں تک  پہنچنے کے لئے  خصوصی کوشش ، علاج کی  سہولیات  کی ترقی  اور  وبا سے نمٹنے کے لئے  ہر سطح کے لئے پروٹوکول  تیار کرنا شامل ہے۔ وزیراعظم نے  تمام ملکوں سے  از خود  تعاون کی بنیاد پر ایک کووڈ  - 19  ایمرجنسی فنڈ  وضع کرنے کی بھی پیش کش کی ہے، جس میں  ہندوستان  اس فنڈ کے لئے  ایک کروڑ  ڈالر  کی  ابتدائی  تجویز دے رہا ہے،  جس کا استعمال  کوئی بھی  شراکت دار ملک  فوری کارروائی کے لئے لاگت کو  پورا کرنے کے مقصد سے کرسکتا ہے۔ ہندوستان نے  تجرباتی کٹ  و  دوسرے آلات کے ساتھ  ڈاکٹروں اور  ماہرین کی  فوری  رد عمل والی  ٹیمیں  تشکیل کرنے کی بھی پیش کش کی، جنہیں ضرورت پڑنے پر  ملکوں کی مدد کے لئے  تیار رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ  وزیراعظم نے  پڑوسی ملکوں کی  ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کے لئے  آن لائن  تربیت  ماڈیول کا  نظم کرنے اور  امکانی  وائرس  کا شکار  لوگوں  اور ان کے  ربط میں آنے والے لوگوں کی  مدد  کرنے کے لئے  ہندوستان کے متحدہ  مرض نگرانی  پورٹلوں کی  تیاری کرنے والے صاف ستھرے  ساجھا کرنے کی بھی  پیش کش کی۔ ہماری حکومت نے  جنوب ایشیائی خطوں  میں وباؤں کو کنٹرول کرنے کے لئے  تحقیق  میں تال میل کی خاطر  ایک عام  تحقیقاتی پلیٹ فارم بنانے کا مشورہ  بھی دیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ  ترقی بحال کرنے کے لئے  ہندوستان نے  آتم نربھر مہم شروع کی ہے، جس کا مقصد ہندوستان کو  مستقبل کے  بحران سے نمٹنے کے لحاظ سے  خود کفیل اور مضبوط بنانا ہے۔ اس کے علاوہ  حکومت  ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘‘ کے راستے پر چلی ہے، جو  ترقی کا ایک شمولیاتی ماڈل ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ  وزیراعظم جناب نریندر مودی نے  آتم نربھر بھارت  کی تعمیر  اور  ہندوستان کی تیز ترقی  -  مقصد ، شمولیت ، سرمایہ کاری ، بنیادی ڈھانچہ اور اختراعات کی راہ پر  واپس لانے کی ضرورت کو  دکھا یا ہے۔

آتم نربھر بھارت مہم کے تحت  منظم ، منصوبہ بند ، متحدہ باہمی  تعلقات  اور  مستقبل کو ذہن میں رکھ کر اصلاحات کی گئی ہیں۔

مالدیپ کے وزیر  خارجہ جناب عبداللہ شاہد نے بھی  ورکشاپ سے خطاب کیا اور اس نیک مہم کے آغاز کے لئے ہند وستان کا شکریہ ادا کیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے  اس کامیاب دو روزہ صلاحیت سازی پروگرام  کے انعقاد  کے لئے  وزارت خارجہ،  مالدیپ میں واقع  ہندوستانی ہائی کمیشن ، انتظامی اصلاح اور عوامی شکایات  محکمہ ڈی اے آر  پی جی ،  نیشنل سینٹرل فار گڈ گورننس، این سی  جی جی،  مالدیپ کے سول سروس کمیشن  کو مبارک باد دی۔ انہوں نے  ورکشاپ کے کامیاب انعقاد کے لئے ڈی  اے آر پی جی کے سکریٹری  ڈاکٹر چھتر پتی شیوا جی،  ڈی اے آر پی جی  کے ایڈیشنل سکریٹری  جناب پی سرینواس اور  این سی جی جی  کے ڈائریکٹر  و  محکمہ کے  دوسرے  افسران کا بھی  شکریہ ادا کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

( ش ح۔   ج ق ۔  ق ر )

    (06-04-2021 )

U.NO. 3430

 



(Release ID: 1709820) Visitor Counter : 67


Read this release in: English , Hindi , Tamil