سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل (سی ایس آئی آر) India@75 میں شامل: 22 مارچ کو بھارت کی آزادی کے امرت سال کے جشن کے تناظر میں دو تقریبات


ساکا نئے سال کے پہلے دن کے موقع پر بھارتی کیلنڈر کے پس پردہ سائنس کو اجاگر کیا گیا

عالمی یوم آب منایا گیا، سی ایس آئی آر کے ٹی ای آئی آر ایف آئی ایل پر مبنی پانی کی صفائی کے نظام کی نمائش کی گئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 MAR 2021 7:50PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 23 مارچ: سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل (سی ایس آئی آر) نے 22 مارچ 2021 کو دو پروگراموں کے ساتھ انڈیا ایٹ 75 میں شمولیت اختیار کی۔ سی ایس آئی آر اور اس کی دہلی اکائی سی ایس آئی آر قومی فزیکل لیب (سی ایس آئی آر این پی ایل) نے وگیان بھارتی (وبھا) کے ساتھ مل کر 'متعددسے ایک: بھارتی کیلنڈر کی داستان' کے نام سے ایک پروگرام کا اہتمام کیا۔ یہ پروگرام سی ایس آئی آر این پی ایل آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا تھا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر بھی لائیو اسٹریمنگ کی گئی۔

ڈائریکٹر جنرل، سی ایس آئی آر، ڈاکٹر شیکھر سی منڈے نے استقبالیہ کلمات میں بتایا کہ 22 مارچ ایک خاص دن ہے جو ساکا کیلنڈر کے مطابق بھارتی نئے سال کا دن ہے۔ ڈاکٹر منڈے نے بھارت میں تمام کیلنڈر نظام کو مربوط کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی اور یہ کام 1950کی دہائی کے اوائل میں سی ایس آئی آر کو سونپا گیا تھا۔ سی ایس آئی آر نے میگھناد ساہا کی سربراہی میں ایک جائزہ کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی نے 1956 میں اپنی رپورٹ بھارتی پارلیمنٹ کو پیش کی اور 22 مارچ 1957 کو ملک نے نیا مربوط بھارتی کیلنڈر اختیار کرلیا۔

وبھا کی قومی تنظیم کے سکریٹری جناب جینت سہسربدھے نے یکم چیتر 1943 کے نئے سال کے موقع پر سب کو مبارکباد پیش  کی اور کہا کہ بھارت اپنی آزادی کا 75 واں سال منا رہا ہے اور تحریک آزادی کے دوران بھارتی سائنس اور سائنسدانوں کی حصہ داری کو جاننا ضروری ہے۔ جناب سہسر بدھے نے بتایا کہ آزادی سے پہلے کے سائنسدانوں اور سائنس قائدوں  کو کس طرح کے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا اور انھوں نے کس طرح اہم سائنسی ادارے قائم کرکے سائنس کو آگے بڑھانے پر توجہ دی۔ جناب سہسر بدھے نے کہا کہ بھارتی کیلنڈر آزادی سے پہلے کے دور کی بھارتی سائنس اور سائنسدانوں کی حصہ داری میں سے ایک ہے۔

وگیا پرسار کے سائنس دان ڈاکٹر اروند سی راناڈے نے مختلف کیلنڈر نظاموں کا تفصیلی تعارف پیش کیا اور ڈاکٹر ساہا کی سربراہی میں کیلنڈر بہتری کمیٹی کے تعاون کے بارے میں بتایا۔ ڈاکٹر  راناڈے نے بھارتی قومی کیلنڈر کے نفاذ پر موثر انداز میں عمل درآمد کرنے پر مطالبہ کیا۔ اگرچہ گریگوری کیلنڈر کو بین الاقوامی سیاق و سباق اور لین دین کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے تاہم بھارتی قومی کیلنڈر کو علاقائی انضمام اور قومی یکجہتی کی علامت کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے کیوں کہ اس کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہے۔

سی ایس آئی آر - این پی ایل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈاکٹر  ڈی  کے آسوال نے وقت اور کیلنڈر کی سائنس کا تفصیلی تعارف پیش کیا اور بھارتی معیاری وقت (آئی ایس ٹی)کو برقرار رکھنے میں قومی فزیکل لیب کے تعاون پر روشنی ڈالی۔ سی ایس آئی آر کی نیشنل فزیکل لیبارٹری جو ملک کا میٹرولوجی (پیمائش کی سائنس) کا ادارہ بھی ہے، پیمائش کے مختلف معیارات مثلا کلوگرام، میٹر، سیکنڈ وغیرہ کو برقرار رکھتی ہے۔ ڈاکٹر  آسوال نے بتایا کہ سی ایس آئی آر این پی ایل ایٹمی گھڑیوں کو 2.8 نینو سیکنڈ کی درستی تک برقرار رکھتا ہے جن کی درستی کی بنیاد پر بھارت کی ہر گھڑی کا وقت ہوتا ہے۔ بھارتی معیاری وقت تین نینو سیکنڈ سے بھی کم کی ایکوریسی کے ساتھ بین الاقوامی معیاری وقت سے میل کھاتا ہے۔

22 مارچ 2021 کو پانی کے عالمی دن کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ سی ایس آئی آر اور سی ایس آئی آر - انسٹی ٹیوٹ آف مائننگ اینڈ منرل ٹیکنالوجی (سی ایس آئی آر-آئی ایم ایم ٹی) نے 'ٹی ای آر اے ایف آئی ایل: واٹر پیوریفیکیشن سسٹم' ٹیکنالوجی پر ایک ویبینار کا اہتمام کیا۔ ٹی آر اے ایف آئی ایل ایک کم قیمت پانی کی صفائی کا نظام ہے جس کے لیے 120 چھوٹی بہت چھوٹی صنعتوں کو لائسنس دیا گیا ہے۔ آج ملک بھر میں ٹیرافل کی بنیاد پر 2,50,000 سے زائد واٹر فلٹر  نصب کیے گئے ہیں۔ ٹی آر اے ایف آئی ایل پانی کی صفائی کا نظام ان 80 ٹیکنالوجیوں میں شامل ہے جن کی تکمیل کے 80 سال مکمل ہونے کی خوشی میں سی ایس آئی آر نمائش کر رہا ہے۔

****

ش ح۔ ع ا۔ م ف

3345U. No.

 


(ریلیز آئی ڈی: 1709439) وزیٹر کاؤنٹر : 131
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी