سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
بلیک ہول سے ہواؤں کے امکانی اخراج کا انکشاف
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 MAR 2021 1:44PM by PIB Delhi
نئی دہلی،17؍ مارچ، جیسے ہی کسی بلیک ہول کی طرف گیس اور دھول گرتی ہے، وہ اس کے چاروں طرف ایک ڈِسک بنا لیتے ہیں۔ ڈسک میں ان اجزا کا ڈھیر لگنے پر یہ لاکھوں ڈگری سے زیادہ درجہ حرارت تک گرم ہوتا ہے۔ اندر کی طرف گرنے والی اِن اشیا کا ایک حصہ ہواؤں کی شکل میں باہر کی طرف نکال دیا جاتا ہے۔ سائنس دانوں نے ہوا کے اس اخراج اور اس کے بلیک ہول کے چاروں طرف پھیل کر گھومنے والی اشیا کے ڈسک جسے ایک ایکریشن ڈسک کہا جاتا ہے، کے ذریعے سرگرم ہونے کے بارے پتہ لگایا گیا ہے۔ ہوا کی وجہ سے باہر کی طرف بہنے والے مادے کوئین بلیک ہول کا ، پیدا کرنے والے علاقے کی تعمیر میں ایک اہم رول ادا کرنے والے پس منظر کو آلودہ کرنا چاہئے۔ لہذا اس طرح کے عمل کو شروع کئے جا سکنے کے بارے میں پتہ لگایا جانا چاہئے۔ حالانکہ یہ تمام عمل اب بھی نظریاتی اندازوں کی سطح پر ہی ہے، لیکن اس کے بارے میں اتفاق رائے نہیں بن پائی ہے۔
آکاش گنگا کے بطن سے بڑی مقدار میں ہوا کو بہا کر اور آکاش گنگا کے پورے دائرے کی طرف بہاؤ کو روک کر ہوائیں بلیک ہول کی میزبان آکاش گنگا کو وسعت دینے میں اہم کردار نبھاتی ہے۔ اس لئے اِن ہواؤں کو پیدا کرنے والا میکانزم اور انہیں سرگرم کرنے والے عناصر سے جڑا راز ایک طویل عرصے سے سائنس دانوں کے لئے ایک اسرار اور تجسس کا موضوع ہے، کیونکہ اس سے انہیں میزبان آکاش گنگاؤں کے بارے میں پتہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔
آریہ بھٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آبزرویشنل سائنس (اے آر آئی ای ایس)، جو کہ حکومت ہند کے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت ایک خودمختار ادارہ ہے، کے سائنس دانوں نے دوسرے اداروں کے سائنس دانوں کے اشتراک سے ہوا کے اخراج اس عمل اور بلیک ہول ایکریشن ڈِسک کہے جانے والے ایک ترقی یافتہ کثیر الافعال سے مطابقت رکھنے والی تکنیک کا استعمال کرکے ایک مقررہ میعاد کا مطالعہ کیا ہے۔
سائنس دانوں نے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی کہ کیا ریڈیئیشن فلَکس کے کے بہاؤ کے ذریعے چلنے والی ہوا کی رفتار پر ریڈیئیشن ڈریگ ایفیکٹ، جو کہ ایک سرگرم پتھر یا نیچے کی طرف اترتے ایک پیراشوٹ کے خلاف ہواکے ذریعے کی جانے والی مزاحمت پر حاوی ہو سکتی ہے۔ یہ اثر تب پیدا ہوتا ہے کہ جب ریڈیئیشن ایک رفتار کے ساتھ داخل ہوتاہے، ریڈیئیشن توانائی کے دباؤ کے مختلف عناصر اور ہوا کے رفتار سے متعلق تمام عناصر یکساں تناسب میں ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں نے یہ دکھایا ہے کہ چمکدار ڈِسک روشنی کی رفتار کے تقریباً 10 فیصد کے برابر کی رفتار والی ہوائیں پیدا کر سکتی ہے اور یہ بھی کہ یہ ہوائیں مرکزی بلیک ہول کے قریب کے علاقوں سے پیدا ہوئی ہیں۔ ریڈیئیشن ڈریگ روشنی کی رفتار کو کم کرنے میں ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔ کم چمکدار ڈسک کے مقابلے یہ پیدا شدہ ہواؤں کو پوری طرح سے خاموش کر دیتا ہے۔اس تحقیق کی قیادت کولکاتہ میں واقع بوس انسٹی ٹیوٹ کے سانندا رائے چودھری نے اسرائیل کی بار ایلان یونیورسٹی کے مکیش کے ویاس اور آریہ بھٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آبزرویشنل سائنس اے آر آئی ای ایس کے اندرا نیل چٹو پادھیائےکے ساتھ مل کر کیا ہے اور حال ہی میں اس تحقیق کو منتھلی نوٹیسیز آف رائل ایسٹرو نومیکل سوسائٹی (ایم این آر ایس)کے سائنی رسالے میں اشاعت کے لئے منظور کر لیا گیا ہے۔ محققین نے آکاش گنگا کے پس منظر کا مطالعہ کرنے کے مقصد سے بلیک ہول ایکریشن ڈسک سے بہنے والی ہوا کے رفتار کو عین مطابق کرنے کے لئے ڈاکٹر چٹو پادھیائے کے ذریعے اس سے پہلے تیار کئے گئے ایک عددی یکسانیت کوڈ کا استعمال اس میں مناسب ترمیم کرتے ہوئے کیا ہے۔

تصویر-1، ہوا کی لانچنگ، لاگ اسکیل اور رفتار( ویلیو سٹی ) ویکٹر ( تیر کی شکل کا اشارے والا نشان)، میں دباؤ دکھانے والے نشانات ، ہرا حصہ ڈِسک ہے اور ڈِسک پر جمے کچھ مادے ، ہراسنیپ شاٹ 0.0512 سکینڈ کی اکائیوں میں وقت =ٹی2(اے)، 6 (بی) اور 62 (سی) کے مطابق ہے۔ ایکریشن شرح 4.3X1018 گرام ؍ سکینڈ 10 سولر ماسک بلیک ہول کے آس پاس ہے۔

تصویر-2، دباؤ ظاہر کرنے والے نشانات (ڈنسٹی کنٹورس) اور رفتار (ویلیو سٹی)ویکٹر (تیر کی شکل کا اشاراتی نشان) کا مقابلہ ایک ایسے معاملے میں کیا جاتا ہے، جہاں ریڈیئیشن ریگ سے جڑے تمام پس منظر پر غور کیا جاتا ہے۔ (اے) اور سمولیشن میں ، جہاں ڈریگ سے جڑے پس منظر پر غور نہیں کیاجاتا (بی)ایکریشن شرح 18.1018 گرام ؍ سکینڈ ہے اور اسنیپ شاٹ ٹی =3.69ایس 10 سولر ماسک بلیک ہول کے آس پاس ہے۔
******
ش ح ۔ ج ق۔ک ا
U-NO. 2869
(ریلیز آئی ڈی: 1706573)
وزیٹر کاؤنٹر : 144