جل شکتی وزارت

پانی میں آلودگی

प्रविष्टि तिथि: 18 MAR 2021 4:00PM by PIB Delhi

جل شکتی اور سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے مرکزی وزیر مملکت جناب رتن لال کٹاریا نے آج لوک سبھا میں بتایا کہ سینٹرل پالیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) اسٹیٹ پالیوشن کنٹرول بورڈس (ایس پی سی بی ایس) پالیوشن کنٹرول کمیٹیاں (پی سی سی) اور سینٹرل واٹر کمیشن جیسی ایجنسیوں کے ذریعے مستقل طور پر ملک میں مختلف دریاؤں کے پانی کی کوالٹی کی نگرانی کی جارہی ہے۔ ملک کے دریاؤں میں جو گندگی اور آلودگی بڑھتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ صنعتی فیکٹریوں، شہروں اور قصبوں کے گندے پانی کو ان دریاؤں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ پانی صاف نہیں ہوتا اور نہ اس کو جزوی طور پر صاف کیا جاتا ہے۔ زرعی رن آف، کھلے میں رفع حاجت، ٹھوس کچرے کو ڈمپ کرنے کے مقامات کو صاف نہ کرنے سے بھی دریاؤں میں آلودگی بڑھ رہی ہے اور ان سب کا بھی دریاؤں کی آلودگی میں حصہ ہے۔ پانی کی کوالٹی کے اندازے کی بنیاد پر مرکز اور ریاستی سرکار کی تنظیموں کی طرف سے مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں، تاکہ دریاؤں کو آلودہ ہونے سے بچایا جاسکے۔ دریاؤں کو صاف ستھرا رکھنا ایک مسلسل عمل ہے اور مرکزی حکومت، ریاستی سرکاروں اور شہری مقامی اداروں کی نمامی گنگا، جل شکتی کی وزارت کے نیشنل ریور کنزرویشن پلان کے ساتھ ساتھ امروت اور شہری امور ومکانات کی وزارت کے اسمارٹ سٹیزیز مشن جیسی اسکیموں کے ذریعے مدد کرتی ہے۔نیشنل ریور کنزرویشن پلان (این آر سی پی) نے اب تک 5965.50 کروڑ روپے کی منظور شدہ لاگت کے ساتھ ملک کی 16 ریاستوں میں پھیلے 77 قصبوں میں 34 دریاؤں کا جو آلودہ تھے، احاطہ کیا ہے اور یومیہ 2522.03 ملین لیٹر کے سیویج ٹریٹمنٹ کی صلاحیت تشکیل دی گئی ہے۔ نمامی گنگا پروگرام کے تحت کل 335 پروجیکٹس منظور کیے گئے، جن پر اب تک 29578 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ ان میں سے 142 پروجیکٹس مکمل کرلیے گئے ہیں اور انہیں آپریشنل بنایاگیا ہے۔

...................

 

 

                                                                                                        ش ح، ح ا، ع ر

18-03-2021

                                                                                                                U-2751


(रिलीज़ आईडी: 1705943) आगंतुक पटल : 134
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Punjabi