نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدر نے آندھر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ مرحوم شری این ٹی راما راؤ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا
این ٹی آر سیاسی بساط پر دیو قامت مجسمے کی طرح تھے
این ٹی آر کے علاقائیت کے برانڈ نے ہندستان کے تکثیری خیال کا جشن منایا: وی پی
این ٹی آر وفاقیت کے ایک مؤثر محافظ تھے
این ٹی آر نے بنیاد پرست قانون سازی اور انتظامی اقدامات کا آغاز کیا تھا: وی پی
حکومت کے فلاحی کردار پر این ٹی آر کی تاکید آج بھی موزوں ہے: وی پی
رفاہ پسندی پاپولزم تک محدود نہیں ہونی چاہیے: وی پی
وی پی نے این ٹی آر کے ساتھ اپنی قریبی وابستگی کو یاد کیا
این ٹی آر پر ایک سیاسی سوانح حیات ’ماورکمسیحا‘ کا اجرا کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 FEB 2021 7:27PM by PIB Delhi
نائب صدر ، شری ایموینکیانائیڈو نے آج آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلی ، مرحوم شریاین ٹیراما راؤ کو شاندار خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اداکار سیاستدان ایکمظہر تھا ، جس نے سیاسی بساط پر ایک دیو پیکر مجسمے کی طرح قدم جمائے رکھا۔
سینیر صحافیرمیشکنڈولا کی تصنیف کردہ ایک سیاسی سوانح عمری ، ”ماورکمسیحا“کا اجرا کرتے ہوئے ، نائب صدر نے کہا کہ این ٹی آر کے منظرعام پر آنے کے بعد سیاسی منظر نامے میں گہری تبدیلی آئیتھی۔ انھوں نے مزید کہا ”این ٹی آر کے معاملے میں، طاقت واقعی میں عوام سے حاصل کی گئی تھی۔“
انھوں نے کہا کہ مصنف نے بجا طور پر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ این ٹی آر نے اس وقت کے متحدہ آندھر پردیش میں سیاسی کلچر کی نئی تعریف کی اور ایک نیا سیاسی محاورہ تشکیل دیا۔
شرینائیڈو نے کہا کہ این ٹی آر کو ’متبادل سیاست‘ کے اولینعلمبرداروں میں شامل کیا جاتا ہے۔ سیاست میں ان کا داخلہ اور ایک علاقائی پارٹیبنانے کے نو مہینے کے اندر اندر ان کی ’ڈرامائی‘ کامیابی نے قومی سیاست کو ایک نئی سمت دی۔
این ٹی آر کی ذیلی قوم پرستی تعمیری تھی اور ان کے علاقائیت کے برانڈ نے ہندوستان کے تکثیری خیال کا جشن منایا۔ نائب صدر نے مشاہدہ کیا کہ، آئین کے وفاقی کردار کو مستحکم کرنے کے لیے ان کی لڑائی اور حکومت کے فلاحی کردار پر ان کی تاکید آج کے ہندوستان میں بھی موزوں ہے جب کہ علاقائی امنگوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ این ٹی آر ایک مدت تک ملک میں واحد پارٹی کے تسلط میں مبتلا رہنے کے بعد وفاق اور علاقائیتمناؤں کے ایک مؤثر محافظ بن کر ابھرے ۔ نائب صدر نے کہا ، ”وہ ریاستوں اور مرکز کی طاقتوں کے مابین مناسب توازن کے لیے ایک نقطہ نظر رکھتے تھے۔“
شرینائیڈو نے کہا کہ قومی سطح پر حزب اختلاف کے اتحاد میںاین ٹی آر کا تعاون ان کی ایک اہم کاوش تھی۔ اس تناظر میں ، نائب صدر نے کہا کہ جمہوریت میں ایک صحت مند ، مستحکم اور تعمیریاپوزیشن کی ہر وقت ضرورت رہے گی۔
اس بات کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہ این ٹی آر نے بنیاد پرست اور دور رس قانون سازی اور انتظامی اقدامات کا آغاز کیا ہے ، انھوں نے کہا کہ ان کا پہلا قانون ساز اقدامیو پی اے-لوک پال ایکٹتھا جو معاشرے اور ریاستمیں ناسور کی طرح پھیلی بدعنوانی کے خاتمے کی ان کی خواہش کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ”انھوں نے جائیداد کے حقوق اور سیاسی نمائندگیکے ساتھ خواتین کو بااختیار بنایا اور ضلعی کونسلوں میںپسماندہ طبقوں کے لیے ریزرویشنمتعارف کیا۔ رفاہی کاموں میں ان کا دو روپے کلو چاول بہت کامیاب ثابت ہوا۔“ شری نائیڈو نے کہا۔ تاہم نائب صدر نے متنبہ کیا کہ رفاہی کام محض عوامی اسکیموں پر توجہ دینے کے بجائے لوگوں کو معاشی طور پر با اختیار بنانے کے لیے ہونا چاہیے۔
اس بات کا ذکر کرتے ہوئے ایک اداکار کے طور پر وہ ایک لیجنڈ تھے، انھوں نے کہا، ”یہ عالمی طور پر تسلیم شدہ ہے کہ کوئی اور فلمی ادا کار ہمارے پرانوں کے کردار جیسے بھگوان رام، بھگوان کرشن، ارجن، کرن، دریودھن یا راون وغیرہ کو این ٹی آر سے بہتر طور پر نہیں نبھا سکتا تھا۔“
ادیاگیری اسمبلی حلقے سے 1983 میں ریاستی اسمبلی میں اپنے کے انتخاب کو یاد کرتے ہوئے، شری نائیڈو نے کہا کہ وہ چند امیدواروں میں شامل ہیں جو این ٹی آر کی سربراہی میں ٹی ڈی پی کی سونامی کا مقابلہ کر سکے تھے۔
یہ کہتے ہوئے کہ این ٹی آر نے خود کو ایکمسیحا کی حیثیت سے دیکھا جو آندھر پردیش اور اس سے آگے بڑھ کر معاشرتی سیاسی منظر نامے کو تبدیل کرسکتا تھا ، نائب صدر نے کہا کہ این ٹی آر بنیادی طور پر نیک نیت اور دل کے اچھے انسان تھے۔ شرینائیڈو نے مزید کہا کہ ، ”سیاست میں ان کا داخلہ اقتدار کی ہوس کے لیے نہیں تھا اور نہ ہیوہ حسد یا بے جا عزائم رکھتے تھے۔“
مرحوم رہنما کے ساتھ اپنی طویل اور قریبی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے ، نائب صدر نے کہا کہ این ٹی آر کے ساتھ ان کا رشتہ بہت مضبوط تھا اور 1984 میںاین ٹی آر حکومت کی”بلاجواز برطرفی“ کے بعد وہ جمہوریت بچاؤ تحریکمیںصف اول میں شامل تھے۔
نائب صدر نے آندھر پردیش کی سیاست کے ایک تجربہ کار مبصر کی حیثیت سے انقلابی حالات کو تفصیل کے ساتھ پیش کرنے کے لیے مصنف کی تعریف کی۔ آخر میں انھوں نے این ٹی آر کے مختلف پہلوؤں پر مزید کتابوں کو تحریر کیے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔
**************
ش ح۔ف ش ع-م ف
18-02-2021
U: 1719
(ریلیز آئی ڈی: 1699350)
وزیٹر کاؤنٹر : 169