وزارت خزانہ
بنگلورو میں مہم انکم ٹیکس کا تلاشی آپریشن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 FEB 2021 7:04PM by PIB Delhi
نئی دہلی-18فروری/ محکمہ انکم ٹیکس نے 17 فروری 2021 کو بنگلورو اور بنگلورو میں قائم 9 بڑے رجسٹرڈ ٹرسٹوں میں تلاشی اور قبضے کی کارروائی شروع کی۔یہ ٹرسٹ کچھ تعلیمی ادارے چلا رہے ہیں، جن میں میڈیکل کالج بھی شامل ہیں۔ پورے کرناٹک اور کیرالہ میں 26 مختلف مقامات پر اس طرح کی تلاشی کارروائیاں کی گئیں۔
تلاشی اور اشیاء کو قبضے میں لینے کی اس مہم کے دوران پایا گیا کہ این ای ای ٹی کے تحت میڈیکل کالجوں میں ہونے والے سلیکشن کے صاف شفاف عمل کو کچھ ٹرسٹیوں اور میڈیکل کالجوں کو چلانے والے کچھ افراد نے کچھ ایجنٹوں اور دلالوں کے ساتھ مل کر بری طرح داغدار کیا تھا۔ اس میں وہ طلباء بھی شامل تھے، جنہوں نے این ای ای ٹی امتحانات میں زبردست نمبر حاصل کئے تھے۔اس بدعنوانی کے پہلے مرحلے کے طور پر این ای ای ٹی امتحانات میں بہت اونچا درجہ حاصل کرنے والے طلباء ایم بی بی ایس کے کورسوں میں سرکاری کونسل کے ذریعہ داخلہ لیتے ہیں(یہ طلباء مذکورہ کالجوں میں داخلہ نہیں لیتے کیونکہ کسی دوسری جگہ پر یا تو ان کو داخلہ مل گیا ہوتا ہے یا ملنے کے نزدیکی امکانات ہوتے ہیں)اس طرح یہ لوگ کرناٹک ایگزامینشنز اتھارٹی(کے ای اے) کے کونسل کے عمل کے دوران کسی بھی میڈیکل کالج میں میڈیکل لائن سے مربوط نشستوں کو بلاک کردیتے ہیں۔اس میں وہ ایجنٹوں اور بچولیوں کا سہارا لیتے ہیں( جو مستقل نشستوں کو انتظامی نشستوں میں تبدیل کرنے کی خدمات مہیا کرتے ہیں) نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ طلباء داخلے کی اپنی امیدواری واپس لے لیتے ہیں اور اس طرح کالج کی انتظامیہ کے لئے خالی نشستوں کی فراہمی کا راستہ کھول دیتے ہیں۔یہ نشستیں کالج مینجمنٹ کو مہیا کی جاتی ہیں جو‘‘ اسٹرے ویکنسیز راؤنڈ’’ (کسی کالج میں موپ اپ راؤنڈ کے بعد خالی رہ جانے والی نشستیں ) کے ذریعہ بھر دی جاتی ہیں۔اس راؤنڈ میں کالج مینجمنٹ کے ذریعہ یہ سیٹیں کم استعداد والے ان امیدواروں سے بھروائی جاتی ہیں جو این ای ای ٹی امتحانات میں نچلی سطح پر رہتے ہیں اور اس کے لئے ان سے کیپی ٹیشن فیس/ ڈونیشن کے طور پر بھاری رقم وصول کی جاتی ہے جو کہ کرناٹک ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس(کیپی ٹیشن فیس کا امتناع) قانون 1984 کے تحت غیر قانونی ہے یہ کیپی ٹینشن فیس/ ڈونیشن دلالوں یا ایجنٹوں کے اس نیٹ ورک کے ذریعہ وصول کئے جاتے ہیں، جنہیں ان میڈیکل کالجوں کے ٹرسٹیوں یا خاص افراد نے مقرر کیا ہوتا ہے۔
ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس اور پوسٹ گریجویٹ نشستوں پر داخلے کے لئے سیٹوں کی خرید وفروخت کے اس گھوٹالے سے متعلق کچھ ماخوذ کرنے والی شہادتیں سرچ آپریشن کے دوران سامنے آئی۔ ان میں کچھ نوٹ بکس، ہاتھ سے تحریر کی ہوئی ڈائریاں اور مختلف سالوں میں ان کالجوں میں ایڈ میشن کے لئے کچھ طلباء اور دلالوں سے حاصل ہونے والی رقم کے حوالے سے تفصیلات کے حامل ایکسل شیٹس شامل ہیں۔ یہ بات بھی مشاہدے میں آئی کہ مینجمنٹ، فیکلٹی، اسٹاف، ذہین طلباء اور دلال آن لائن داخلوں کے عمل کو خراب کرنے کے لئے ایک نزدیکی سانٹھ گانٹھ کے تحت کام کررہے تھے۔اس کے علاوہ اس بات کے بھی ثبوت ملے ہیں کہ ان میڈیکل کالجوں میں سے ایک کے پاس طلباء کو تحریری امتحان اور زبانی امتحان میں مینجمنٹ کوٹہ کے طلباء کو پاس کرانے کے لئے ‘’ پیکج ارینجمنٹ’’ کا بھی انتظام تھا۔ جس کے لئے ایک لاکھ سے لے کر 2 لاکھ روپے تک کی رقم مقرر تھی۔
مزید یہ کہ سرسری نظر میں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ آن لائن داخلوں کے عمل میں گڑ بڑی کرکے حاصل کی ہوئی رقم ٹرسٹیوں کے ذریعہ غیر خیراتی مقاصد کے لئے منتقل کردی جاتی تھی جو کہ انکم ٹیکس قانون 1961 کی دفعہ 12AA کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کے بھی ثبوت پائے گئے ہیں کہ غیر منقولہ اراضی کی شکل میں بھی بڑی مقدار میں سرمایہ کاری کی گئی۔جس کے خلاف انکم ٹیکس قانون 1961 کی دفعہ 69 کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہیں۔ایک کالج کو ٹمبر/ پلائی ووڈ صنعت کے کاروبار میں ملوث پایا گیا جس میں غلط قسم کے بل بنوانے کی بدعنوانی بھی سامنے آئی ہے۔
اب تک یکجا کئے جانے والے ثبوتوں سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے آن لائن داخلوں کے عمل میں گڑ بڑی کرکے ناجائز کیپی ٹیشن فیس یا ڈونیشن کی شکل میں402.78 کروڑ روپے کی خطیر رقم حاصل کی گئی اور اسے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ سے چھپایا بھی گیا۔تلاشی کے دوران15.09 کروڑ روپے کی مالیت کی اشیاء قبضے میں لی گئیں۔ اس کے علاوہ81 کلو گرام سونے کے زیورات(قیمت تقریباً 30 کروڑ روپے)50 قیراط کے ہیرے اور 40 کلو کی چاندی کی اشیاء ان ٹرسٹیوں کے رہائش گاہوں سے قبضے میں لی گئی ہے اور سر سری طور پر یہ لگتا ہے کہ ان کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ گھانا میں غیر وضاحت کردہ 2.39 کروڑ روپے کی لاگت کے غیر ملکی اثاثوں کے بھی ثبوت ملے ہیں اور 35 لگژری کاروں میں زبردست سرمایہ کاری کی شہادتیں بھی سامنے آئی ہیں۔
مزید تفتیش ابھی جاری ہے۔
******
ش ح ۔ س ب۔ ر ض
U-NO.1727
(ریلیز آئی ڈی: 1699321)
وزیٹر کاؤنٹر : 168