محنت اور روزگار کی وزارت
چائے باغات کے ورکروں کے لئے سماجی تحفظ کی اسکیمیں
Posted On:
10 FEB 2021 5:23PM by PIB Delhi
پلانٹیشنز لیبر(پی ایل)ایکٹ 1951کشت زاروں؍کھیتوں میں کام کرنے کے حالات کو منضبط کرتا ہے اور پلانٹیشن لیبرز (کشت زاروں یا کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں)کی فلاح و بہبودکا التزام کرتا ہے، جس میں چائے باغات کے ورکر بھی شامل ہیں۔ یہ قانون آجرین پر یہ ذمہ داری ڈالتا ہے کہ وہ ورکروں کو رہنے کی سہولت ، طبی سہولیات ، بیماری اور زچگی سے متعلق فوائد اور سماجی تحفظ سے وابستہ اقدامات کی دیگر شکلیں دستیاب کرائیں۔اس قانون میں ورکروں کے بچوں کے لئے تعلیمی سہولت ، پینے کے پانی، حفظان صحت، کینٹین، کریچز اور تفریحی سہولتوں کے لئے بھی التزامات ہیں، تاکہ اس کا فائدہ چائے باغات میں کام کرنے والوں، کام کی جگہوں میں یا اس کے آس پاس رہنے والے ان کے اہل خانہ کو سہولتیں مل سکیں۔پی ایل ایکٹ کا نفاذ متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس کے لئے ان کے ذریعے الگ سے رولز بنائے گئے ہیں۔
ان سہولتوں کے علاوہ پلانٹیشن کوموڈیٹی بورڈز اپنی متعلقہ اسکیموں کے تحت میڈیم ٹرم فریم ورک (ایم ٹی ایف)کی مدت کے دوران پلانٹیشن ورکروں کے لئے مزدوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق اقدامات کو وسعت دے رہے ہیں۔
حکومت نے پلانٹیشن لیبر قانون کو، پیشہ ورانہ تحفظ، صحت اور کام کے حالات سے متعلق لیبر کوڈ 2020 اور سماجی تحفظ کوڈ 2020 میں ضم کردیا ہے۔یہ کوڈز پارلیمنٹ کے ذریعے پاس کئے گئے ہیں اور اس کے بعد صدر جمہوریہ سے منظوری لی گئی ہے اور اس کے بعد نوٹیفائی کئے گئے ہیں۔ سماجی تحفظ سے متعلق کوڈ 2020 پلانٹیشن (کشت زار)مالکان کو یہ متبادل دیتا ہے کہ وہ اپنے ورکروں کو ای ایس آئی سی کے رکن کے طورپر مندرج کرائیں۔ای ایس آئی سی متعدد طرح کے فائدے دستیاب کراتا ہے، جس میں بیماری کی صورت میں فوائد ، بے روزگاری الاؤنس ، زچگی سے متعلق فوائد وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں اس کے اراکین کےلئے طبی فوائد بھی شامل ہیں۔
مغربی بنگال کے چائے باغات میں عارضی ورکروں کو لگایا جاتا ہے، جو بنیادی طورپر چائے کی پتیاں توڑے جانے والے مہینوں کے دوران لگائے جاتے ہیں۔ ایسے کام گاروں کو وہ سہولتیں دستیاب کرائی جاتی ہیں، جوامپلائز پروویڈنٹ فنڈ اینڈ مسلینیئس ایکٹ 1952، پے منٹ آف گریچوئٹی ایکٹ 1972، امپلائز کمپنشیشن ایکٹ 1923 وغیرہ جیسے قوانین کے تحت قابل نفاذ ہیں۔
یہ اطلاع محنت و روزگار کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)،جناب سنتوش کمارگنگوار نےآج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
*************
ش ح۔م م۔ ن ع
(16.02.2021)
(U: 1608)
(Release ID: 1698397)
Visitor Counter : 115