کانکنی کی وزارت

قومی بیس لائن ارضیاتی سائنس اعدادو شمار جنریشن پروگرام(2024-2020)

جی ایس آئی، برقی مقناطیسی-کرہ زمین سے متعلق سروے، ڈیپ زلزلے سے متعلق ریفلیکشن سروے اور ماہرانہ ڈیپ پنیٹریشن جیوفیزیکل تکنیکیں اپنائے گی

ملک کا ارضیاتی سائنس کا اعدادو شمار ،قومی عرضیاتی سائنس کے اعدادو شمارکے تخزنیہ(این جی ڈی آر) میں شامل کیا جائے گا

معدنیاتی تلاش کو فروغ دینے کےلئے اعلیٰ معیاری بیس لائن اعدادو شمار کی دستیابی

Posted On: 25 JAN 2021 12:53PM by PIB Delhi

 نئی دہلی ،25؍جنوری:

ملک میں تلاش کی سرگرمیوں کو پیش کرنے کےلئے جیولوجیکل سروے آف انڈیا(جی ایس آئی)نے قومی سطح کے کچھ بڑے سروے کو 2024ء تک مکمل کرنے کی غرض سے ایک بامقصد اسکیم پر بھروسہ کیا ہے:قومی جیو کیمیکل خاکہ سازی(این جی سی ایم)، قومی جیو فیزیکل خاکہ سازی(این جی پی ایم)، قومی ایروجیوفیزیکل خاکہ سازی پروگرام (این اے جی ایم پی)۔جی ایس آئی ،برقی مقناطیسی-کرہ زمین سے متعلق سروے، ڈیپ زلزلے سے متعلق ریفلیکشن سروے(ڈی ایس آر ایس) جیسی ماہرانہ ڈیپ پنیٹریشن جیوفیزیکل تکنیکیں اپنانے جارہی ہے، تاکہ انتہائی گہرائی میں موجود معدنیات کو شناخت کرنے کےلئےاوپری پرت کی وضع اور طریقے کی تفصیل حاصل کی جاسکیں۔

جی ایس آئی نے قومی جیوسائنس اعدادو شمار کے تخزنیہ (این جی ڈی آر) کا اپنا ہراول اقدام بھی شروع کیا ہے، جس کا مقصد جی ایس ایس آئی ، دیگر قومی تنظیموں کو ارضیاتی سائنس کے ساتھ ایک مرکوز سرگرمیوں کے طورپر ، کانکنی اور ارضیاتی سائنس کے ریاستی ڈائریکٹوریٹ ، اس شعبے میں تحقیق و ترقی میں مصروف تعلیمی ادارے میں تلاش اور ارضیاتی سائنس کے کام میں مصروف سی پی ایس ای اور شعبے میں کام کررہی نجی شعبے کی ایجنسیوں سمیت ملک کے ارضیاتی سائنس کے تمام اعدادو شمار کو یکجا کرنا ہے۔اس کا مقصد جی ایس آئی کے ذریعے حاصل اعدادو شمار کو مربوط کرنا اور اسی طرح کے تنظیموں کو ڈیجیٹل کی توسط سے تخزنیہ کی تعمیر کرنا نیز کثیر رخی یوزر رسائی فراہم کرنا ہے۔یہ منصوبہ بنایا گیا ہے کہ ہندوستان اور دنیا بھر سے وہ تمام شراکت دار این جی ڈی آر استعمال کرنے کے قابل ہوسکیں گے ،جو معدنیاتی ذخائر کے تخصیص کےلئے موجودہ بولی کے پروگرام میں شرکت کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔مزید برآں منصوبہ بند بیس لائن ارضیاتی سائنس اعدادو شمار اکٹھا کرنے کی مہم سے ایک وافر ترین اعدادو شمار کی بنیاد کی راہ ہموار ہوگی، جو مستقبل کے تلاش کرنے کے پروگراموں کے لئے ابتدائی ماحصل ہوگا۔جی ایس آئی اطلاعات و  ٹیکنالوجی کی وزارت کے تحت ایک قومی ادارے ، بی آئی ایس اے جی-این کے ساتھ مشورے سے این جی ڈی آرکی فروغ کےلئے کام کررہی ہے۔

 

این جی سی ایم : جی ایس آئی آؤٹ سورسنگ اور پرائویٹ ایجنسیوں کی خدمات حاصل کرکے این جی سی ایم پروگرام کو 2024 تک مکمل کرنے کا حدف رکھتی ہے ۔ مارچ 2020 تک این جی سی ایم پروگرام کے ذریعہ مجموعی طور پر 11.72 لاکھ مربع کلومیٹر کا کام پورا کر لیا گیا ہے ۔ اس میں اوبییس  جیولوجکل  پوٹینشل (او جی پی) کا 7.44لاکھ مربع کلومیٹر کا قابل رسائی احاطہ بھی شامل ہے۔ (8.13 لاکھ مربع کلومیٹر ) یہ ایک کل ہند پروگرام ہے جو جیوکیمیائی نمونے اکھٹے کر کے ملک کے تمام سطحی علاقہ کا احاطہ کرے گا۔ این جی سی ایم کا کام 62 عناصر کے تقسیم جاتی طریقے وضع کرے گا (1 کلو میٹر x1کلو میٹر سے نمونے اکھٹے کیے گئے ) جنھیں قدرتی وسائل کا انتظام کرنے اور انھیں فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا نیز اس کا استعمال ماحولیاتی ، ذرعی، انسانی صحت ، دیگر سماجی معاملات اور پوشیدہ معدنیاتی ذخائر کی تلاش کے لیے کیا جائے گا ۔

این جی پی ایم : یہ پروگرام ارضی کشش ثقل اور 1:50,000اسکیل پر مقناطیسی سروے کرکے ملک کے بو گیور (کشش ثقل) اینومیلی اور آئی جی آر آر ایس کریکٹڈ مقناطیسی مجموعی میدانی خاکےکا خودکار بنیادی اور تیار کردہ نقشہ سازی  کا پروگرام ہے ۔اس میں 2.5مربع کلو میٹر میں ایک اسٹیشن کی اوسطاً مشاہداتی رسائی ہوتی ہے جو اوبییس جیولوجکل پوٹینشل (او جی پی)علاقوں کے تعلق سے پورے ملک کا احاطہ کرتا ہے ۔  کشش ثقل اور مقناطیسی اعداد و شمار سے حاصل بے ربط نقشے تمام شراکت داروں کو تلاش کرنے کی حکمت عملیا ں تیار کرنے کا ایک خاکہ فراہم کرتی ہے۔

این اے جی ایم پی : یہ ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا پروجیکٹ ہے اور اس کا مقصد پوشیدہ ، گہرائی میں پڑے ذخائر کے  ڈھانچے نیز لیتھو اکائیوں کی خاکہ سازی کرنا ہے جو معدنیات  کے ذخائر رکھتے ہیں۔ یہ موجودہ معدنیاتی ذخائر  ژون اور معدنیاتی سرگرمیوں کے تناظرمیں ذخیروں کی سمجھ حاصل کرنے کا بھی پروگرام ہے ۔ کام کے پہلے مرحلہ میں اوبییس جیولوجکل پوٹینشل (او جی پی)کے منتخب علاقوں (12 بلاک ) کے اعداد و شمار کو جمع کرنا شامل ہے ۔ ابھی تک پہلے چار بلاک (1 سے 4 بلاک ) کے اعداد و شمار حاصل کرنے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں 100سے زیادہ امکانی معدنیاتی تلاش کے علاقوں کی نشان دیہی کی جا چکی ہے۔ اس پروجیکٹ کی کامیابی کے مد نظر 10 اور بلاکس (13سے 22بلاک) کا احاطہ ملٹی  سینسر ایرو جیو فیزیکل میپنگ کے ذریعہ کیا جائے گا ۔ ایسا پہلی مرتبہ ہے کہ ملٹی –سینسر ایرو جیوفیزیکل سروے (مقنا طیسی گرڈیو میٹری اور اسپیکٹرو میٹرک) منعقد کیے جا رہے  ہیں جن کے لیے 300میٹر سفری لائن اسپیسنگ کے اس اتنے بڑے علاقائی پیمانے پر سروے کیا جا رہا ہے جس میں طیارہ زمینی سطح سے صرف 80 میٹر اوپر پرواز کرتا ہے ۔

ان پروگراموں کی اہمیت :

مذکورہ بالا پروجیکٹوں سے پیدا شدہ اعداد و شمار کو یکجا کرنے ، انسلاک اور مربوط کرنے کے علاوہ ایک سے دوسرے کی ترجمانی اور ملک میں معدنیات کی تلاش کے لیے مزید علاقوں کی شناخت کی راہ ہموار کرے گی ۔ معدنیات کی تلاش میں زیادہ سرمایہ کاری سے امکانی معدنیاتی بلاکوں کا ایک مستحکم سلسلہ قائم ہوگا جس کی نیلامی کی جا سکے گی ۔ اس سے ملک میں کانکنی  کی طویل مدتی دستیابی اور سلسلہ یقینی بنایا جا سکے گا  جو آتم نربھر بھارت کے مقصد کو حاصل کرنے میں مددگار ہوگا ۔

ملک کے 3.146 ملین مربع کلومیٹر کے مجموعی خاکہ سازی کی قابل علاقہ میں سے ، 3.119 مربع کلو میٹر کا علاقہ ، دسمبر 2020 تک 1:50,000اسکیل پر نظام جاتی جیولوجیکل میپنگ  کے ذریعہ پورا کر لیا گیا ہے جو کہ ملک کے تقریباً 99.14 فیصد کا احاطہ کرتا ہے ۔ میپنگ کی سرگرمی کے ذریعہ حاصل شدہ اعداد و شمار سے قومی جیو سائنسی معلومات کے لیے ڈاٹا بیس کی معلومات قائم کرنے میں مدد ملی ہے ۔ جس سے معدنیاتی تلاش کی سرگرمیوں کو استحکام حاصل ہوا نیز دیگر ان ارضی سائنس کے پروگراموں کو بھی مدد ملی جن کا تعلق سماجی و اقتصادی سرگرمیوں اور پروگراموں سے ہے ۔ گذشتہ  دہائی کے دوران جی ایس آئی نے اوبییس جیولوجکل پوٹینشل (او جی پی)علاقوں کا اعداد و شمار تیار کرنے کی بنیاد ی شروعات  کی تھی جو کہ تقریباً 0.813 ملین مربع کلو میٹر کا علاقہ بنتا ہے ۔

 

 

 

 

*************

 

ش ح۔ا ع۔ ن ع۔ج

 (U: 857) 



(Release ID: 1692871) Visitor Counter : 38


Read this release in: English , Hindi , Tamil