ارضیاتی سائنس کی وزارت

سیلاب سے متعلق رہنمائی کی خدمات کاآغاز، جنوبی ایشیائی ممالک ہندوستان، بنگلہ دیش، بھوٹا، نیپال اور سری لنکا کے لیے  اپنی نوعیت کی یہ اولین کوشش ہے

ملک میں آب وہوا سے متعلق مشاہداتی نیٹ ورک میں اضافہ

سال2020 میں 130 ایگرومیٹ، فیلڈ یونٹوں کے علاوہ 102 نئی ضلعی زرعی موسمیاتی فیلڈ یونین قائم کی گئیں

ہندوستانی محکمۂ موسمیات کے ذریعہ ٹروپیکل کی گردابی طوفان اپھان، نسرگا اور نوار کی درست اور بروقت پیشن گوئی

بین حکومتی اوسیانو گرافک کمیشن (آئی اوسی) یونیسکو کے ذریعہ سونامی کی تیاری کے لیے موصول ہونے والی تعریفی اسناد،بحرہند کے خطہ میں اپنی نوعیت کے اولین کامیابی ہے


دہلی میں فضائی آلودگی کے واقعات کی انتہا کی پیشن گوئی کرنے اور ضروری اقدامات کرنے کے لیے بروقت وارننگ دینے کی خاطر ایک انتہائی اعلی ریزولیشن (400 ایم) کا ہوا کے معیار کی پیشن گوئی کرنے والے نظام تیار کیا گیا ہے

ہندوستانی خطے کے بارے میں موسمیاتی تبدیلی کا اندازہ لگانے سے متعلق ایک نئی  کتاب کی جون 2020 میں اشاعت۔ اس کتاب تک رسائی عام  رکھی گئی ہے

Posted On: 01 JAN 2021 6:06PM by PIB Delhi

ارتھ سسٹم سائنس زمین کے نظام کے پانچ اجزا :ماحولیات،پن بجلی، کرائیواسفیئرس، لیتھو اسفئیرس اور حیاتیات اور ان کے پیچدہ تعامل کے ساتھ معاملات کرتا ہے۔ارضیاتی سائنس کی وزارت (ایم او ایس)، موسم، آب وہوا، سمندری، ساحلی حالت، ہائیڈرولوجیکل معاملات اورزلزلیاتی خدمات فراہم کرتا ہےاوراس کے لیے وہ ارتھ سسٹم سائنس سے متعلق تمام پہلوؤں سے رجوع کرتا ہے۔ان خدمات میں پیش قیاسی، وارننگ اور مختلف قدرتی آفات مثلا سمندری طوفان، طوفان کی شدت، سیلاب، گرم لہر، گرج چمک اور آسمانی بجلی ،زلزلے وغیرہ کی کھوج شامل ہے۔شمالی قطب سے متعلق علاقوں، انٹارٹیکا اور ہمالیائی علاقوں کے ذریعہ فراہم کی جانی والی خدمات کو مختلف ایجنسیوں اورریاستی حکومتوں نے مؤثر طور پر انسانی جانوں کو بچانےاور قدرتی آفات کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

پانچ بڑی اسکیموں کے تحت 2020 میں جو نمایاں سنگ میل طے کیے گئے ہیں ان کی جھلکیاں حسب ذیل ہیں:

ماحولیات اور موسم کاپتہ چلانے اور مشاہدہ کرنے والے نظام اور خدمات (ایکروس)کی اسکیم کے تحت ہندوستانی محکمہ موسمیات کی طرف سے بالکل درست اوربروقت پیشن گوئی کے ساتھ ساتھ آفات سماوی سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے والی ایجنسیوںکی میدانی کارگزاریوں کے نتیجے میں ہزاروں قیمتی جانوں کو بچانے میں مدد ملی ہے۔پچھلےچندبرسوں میں ٹروپیکل گردابی  طوفان کا پتہ چلانے اور اس کی شدت کا اندازہ لگانے میں قابل لحاظ بہتری آئی ہے۔2006 سے 2020 کے درمیان 24 گھنٹوں کی پیشن گوئیوں میں جو خامیاں ہوا کرتی تھیں ان میں بالترتیب 141 کلومیٹر سے گھٹ کر 73کلو میٹر اور 99 کلو میٹر سے گھٹ کر 18 کلو میٹر کی کمی آئی ہے۔

  • رواں سال فلیش فلڈ گائیڈنس سروسز کا آغاز کیا گیا ہے۔یہ جنوبی ایشیائی ممالک یعنی ہندوستان، بنگلہ دیش، بھوٹان،نیپال اور سری لنکا کے لیے اپنی نوعیت کی پہلی خدمت ہے۔
  • ملک میں موسمیاتی مشاہداتی نیٹ ورک کا دائرہ بڑھایاگیا ہے اور ہندوستانی محکمہ موسمیات  موسم پر نظر رکھنےوالے ہندوستانی نیٹ ورک کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے چار نمایاں پیش رفت کی گئیں۔

 

2020 میں 102 نئی ڈسٹرکٹ ایگرومیٹرولوجیکل فیلڈ یونٹس قائم کی گئیں۔ یہ 130ایگرومیٹ فیلڈیونٹوں کے علاوہ ہیں۔ علاقائی زبانوں میں ہرمنگل اور جمعہ کو 1200بلاکوں کے لیے تجرباتی بلاک سطح کے ایگرومیٹ ایڈوائزری خبرناموں کا آغاز کیا گیا تھا۔ارضیات کے مرکزی وزیرنے 27 جولائی 2020 کوموبائل اپلیکشن ‘موسم’ کا آغاز کیا تھا۔وزارت نے ایٹموسفیرک ریسرچ  ٹیسٹ بیڈ قائم کرنے کے لیے مدھیہ پردیش کی ریاستی حکومت سے 100 ایکڑ کی زمین حاصل کی۔یہ زمین ضلع سیوہر کے سلکھیڑا گاؤں میں حاصل کی گئی۔یہ پروگرام انتہائی مشاہداتی اور تحقیقاتی ہے۔علاوہ ازیں ملک بھر میں دو تین ہفتہ پہلے بیماریوں کے تعلق سے پیشن گوئی کا طریقہ وضع کیاگیا۔اس کے لیے میٹرولوجیکل پیرامیٹراستعمال کیا گیا جس سے ملک بھر میں کسی بھی جغرافیائی خطے میں استفادہ کیاجاسکتا ہے۔اس نظام پر مبنی پیشن گوئی کی تیاری 2021 کے موسم باراں سے شروع کیا جائےگا۔دہلی میں فضائی آلودگی کے واقعات کے انتہا کی پیشن گوئی کرنے اور ضروری اقدامات کرنے کے لیے بروقت وارننگ دینے کی خاطر ایک انتہائی اعلی ریزولیوشن (400ایم) والا ہوا کے معیار کی پیشن گوئی کا نظام تیار کیاگیا ہے۔یہ گریڈڈ ریساپنس ایکشن پلان(جی آر اے پی)کے مطابق بروقت وارننگ دےگا تاکہ ضروری قدم اٹھائے جائیں۔حکومت ہند کا یہ ایکشن پلان بالکل نیاہے۔اس نظام کو ارضیاتی  سائنس کی وزارت کے سائنس دانوں اور نیشنل سینٹر فار ایٹموسفیرک ریسرچ (این سی اے آر) امریکہ نے مشترکہ طور پر تیارکیا ہے۔

ہندوستانی خطے کے بارے میں موسمیاتی تبدیلی کا اندازہ لگانے سے متعلق ایک نئی کتاب جون 2020 میں شائع کی گئی۔اس کتاب تک رسائی عام رکھی گئی ہے۔اس میں برصغیر ہند، ملحقہ بحرہند، ہمالیائی علاقائی علاقے میں علاقائی مانسون پر ان اثرات پر بحث کی گئی ہےجس میں انسانوں کی وجہ سے تبدیلیاں آتی ہیں۔

میسرزاینٹرکس کارپوریشن،ہندوستانی خلائی تحقیق کی تنظیم (اسرو)کے ساتھ ایک اقرارنامےپر دستخط کے ذریعہ انسیٹ تھری ڈی، انسیٹ تھری ڈی آر اور انسیٹ تھری ڈی ایس سیٹلائٹوں کے لیے ایک کثیر مقصدی سسٹم قائم کیا گیا ہے، جس میں اعدادوشمار جمع کرکے ان کاجائزہ لیا جاتا ہے۔

اس مدت کے دوران نوئیڈا میں نیشنل سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فار کاسٹنگ(این سی ایم آر ڈبلیوایف)میں اس کے عالمی اورعلاقائی ماحولیاتی اعدادوشمار جمع کرنے کے نظام کے تحت کئی نئے مشاہدات سے استفادہ شروع کیا گیا۔

سائنسی اور ٹیکنالوجیائی پیش رفت کو شامل معاملات کرنے کے لیے عالمی اورعلاقائی اعدادوشمار کے امتزاج کو بہتر بنایاگیا ہے۔اس نئے نظام کے اندر بادلوں سے متاثر بعض سیٹلائٹ مائیکرو ویو مشاہدات کو پوری طرح سمجھنے کی صلاحیت۔

سمندری خدمات، ماڈلنگ، ایپلی کیشن، وسائل اور ٹیکنالوجی (اواسمارٹ) اس سلسلے کی دوسری اسکیم ہے۔ تیسری اسکیم کا نام پولر اینڈ کرایوسفیرک ریسرچ (پی اے سی پی آر) ہے۔ چوتھی اسکیم زلزلیاتی اورجغرافیائی سائنس کی تحقیق سے متعلق ہے جب کہ پانچویں اسکیم ریچ آؤٹ اور چھٹی کا تعلق بین اقوامی اشتراک عمل سے ہے۔

بین اقوامی اشتراک عمل کے تحت ارضیاتی سائنس کی وزارت نے ارضیاتی سائنس کے تمام شعبوں میں تحقیق کا دائرہ وسیع کرنے کے لیےکئی  بین اقوامی سائنسی اداروں کے ساتھ اشتراک عمل کیا ہے۔نیشنل اوشین اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے )، یوایس اے اور امریکی جیولوجیکل سروے(یوایس جی ایس)کے ساتھ اقرار ناموں پردستخط کیے۔ارضیاتی سائنس کی وزارت اور فطری ماحولیاتی تحقیقاتی کونسل (این ای آرس)یو کےکی مشترکہ فنڈنگ سے تین پروجیکٹ مکمل کیے گئے۔ یہ پروجیکٹ سسٹینگ واٹرریسورسز(ایس ڈبلیوآر) کے غذائی پروگرام، توانائی اور ماحولیاتی خدمات کے تحت ہیں۔

******

 

م ن۔ع س۔ج ا

U-NO.259



(Release ID: 1687594) Visitor Counter : 105


Read this release in: English , Hindi , Manipuri , Tamil