جل شکتی وزارت
پچھلے ایک سال میں ، جل جیون مشن کے تحت 3 کروڑ سے زائد نل کے پانی کے کنکشن فراہم کیے گئے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 JAN 2021 5:08PM by PIB Delhi
نئی دہلی۔ یکم دسمبر 15 اگست ، 2019 کو وزیر اعظم نریند مودی نے لال قلعہ کی فصیل سےجل جیون مشن کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد 2024 تک ہر دیہی خاندان کو فنکشنل قابل عمل گھریلو نل کنکشن (ایف ایچ ٹی سی) فراہم کرنا تھا۔ جل جیون مشن ریاستی حکومتوں کے اشتراک سے اگست ، 2019 سے نافذ العمل ہے، جس کا مقصد مستقل اور طویل مدتی بنیادوں پر مناسب مقدار اور مقررہ معیار میں پینے کا پانی کا فراہم کرنا ہے ۔ 15 اگست 2019 تک ، 18.93 کروڑ دیہی گھرانوں میں سے ، 3.23 کروڑ (17فیصد) کے پاس نل کے پانی کے کنکشن تھے۔
سال 2020کے دوران ، سبھی ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام خطوں نے بھی سبھی گھروں کو نل کے پانی کا کنکشن فراہم کرنے کے لیے "بوٹم-اَپ اپروچ" پر عمل کرتے ہوئے وسیع منصوبہ بندی کی اور اس منصوبہ کو پختہ کیا۔ ریاستوں / مرکز زیر انتظام خطوں کی انتھک کوششوں سے جل جیون مشن نے اگست ، 2019 سے اب تک 3 کروڑ نل پانی کا کنکشن فراہم کیے ہیں۔ مزید برآں 26 اضلاع ، 457 بلاک ، 34،919 پنچایتیں اور 65،627 دیہات 'ہر گھر جل' بن گئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان دیہی علاقوں میں رہنے والا ہر خاندان کے گھروں میں نل کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہےاور کوئی پیچھے نہیں رہا ہے ۔ گوا 100فیصد ایف ایچ ٹی سی اور ہر گھر پانی والی ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے ۔ مختلف ریاستیں 'مساوات اور شمولیت ' کے اہم اصول پر عملدرآمد کرتے ہوئے ملک کے سبھی گھروں میں پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے آپس میں مسابقت کر رہی ہیں اور طے شدہ ہدف پر توجہ دے رہی ہیں۔
ریاست کی ترجیحات میں پانی کے معیار سے متاثرہ علاقوں ،درج فہرست ذاتوں / قبائلوں ، زیادہ تر گاؤں ، خواہش مند اضلاع ، خشک سالی کے شکار اور صحرائی علاقے نیز متاثرہ معیار والی بستیاں شامل ہیں۔ ریاستیں اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کام کر رہی ہیں کہ پائپ کے ذریعہ پانی کی فراہمی جلد سے جلد فلورائڈ اور ارسنک سے متاثرہ علاقوں تک پہنچ جائے۔
جل جیون مشن کا سفر اب تک چیلنجوں اور رکاوٹوں سے بھرا پڑا ہے کیونکہ پوری دنیا کووڈ – 19 وبا کے خلاف مارچ ، 2020 سے اب تک جنگ لڑ رہی ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام کامگار اور ملک کے بیشتر علاقوں میں تعمیراتی کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ چونکہ اس دوران ہاتھ دھونا کورونا سے لڑنے کا سب سے اہم ذریعہ بن گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ گھر کے اندر مناسب طریقے سے محفوظ اور صاف پانی کی دستیابی سب سے زیادہ اہم ہوگئی ہے۔ اس کو ترجیح دیتے ہوئے اور زندگی کو بدلنے کے جذبے کے ساتھ ، ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام خطوں نے حکومت کی جانب سے فراہم کی گئیں احتیاطی تدابیر کے نفاذ کے ساتھ پانی کی فراہمی کے کام کو جاری رکھا۔کووڈ-19 کے باوجودمستقل طور پر ہو رہے کام ، ان کے اپنے گاؤں خاص کر واپس آنے والے مزدوروں کے لیے روزگار پیدا کر کے مقامی معیشت کے لیے ایک نعمت ثابت ہوئے ہیں۔
جس طرح مرکزی حکومت رسوئی گیس، کمیونٹی بیت الخلاء اور انفرادی گھروں کی تعمیر کے کاموں کے ذریعہ مختلف طبقوں میں خواتین کی زندگی بہتر بنانے کی سمت میں کام کررہی ہے ، اسی طرح گھروں میں نل کے پانی کا کنکشن کا مقصد ان کم عمر لڑکیوں اور خواتین کی سخت محنت کو کم کرنا اور 'زندگی کو آسان بنانا' ہے، جن پر عوامی اسٹینڈ پوسٹ سے پانی لانے اور پانی کی تلاش میں لمبی دوری تک چلنے کا بوجھ ہوتا ہے۔ گھر کے دہلیز پر پانی مہیا کرکے ، جل جیون مشن صحت کے معیارات کو بہتر بنانے اوراسکول جانے والے بچوں کے ڈراپ آؤٹ کی تعداد کم کر کے زندگیوں پر کئی طرح سے اثر انداز ہو رہا ہے۔
مشن کی شروعات سے دیہی گھروں میں نل کے پانی کی دستیابی کی پیش رفت
یکم جنوری 2021 تک 15 اگست تک
گھریلو نل کے پانی کا کنکشن – یکم جنوری 2021 تک کے اعداد و شمار

بیماریوں سے پاک زندگی کو یقینی بنانا اور ہمارے بچوں کی جامع نشونمااس مشن کی ترجیح ہے۔ اسی جذبے کے تحت سبھی اسکولوں آنگن واڑی مراکز (اے ڈبلیوسی) اورآشرم شالاؤں یعنی قبائلی برادریوں کے بچوں کے لیے رہائشی اسکولوں کوپائپ والے پانی کی فراہمی کے لیے 2 اکتوبر ، 2020 کو ایک '100 روزہ مہم' شروع کی گئی۔ اس مہم کے تحت ، نہ صرف پینےکے پانی اور مڈ ڈے میل کے لئے نل کا پانی دستیاب ہوگا ، بلکہ ہاتھ دھونے اور بیت الخلاء میں بھی دستیاب ہوگا۔ اب تک 3 مہینوں میں 4.4 لاکھ سے زیادہ دیہی اسکولوں اور تقریبا 3. 3.73 لاکھ اے ڈبلیو سی کو پینے کا صاف پانی کی فراہمی شروع کردی گئی ہے۔ پنجاب اور تمل ناڈو ہر اسکول کو نل کے پانی کی فراہمی کرنے والی پہلی ریاست بن گئی ہیں۔ تمل ناڈو میں اس کے علاوہ سبھی اے ڈبلیو سی کو نل کا پانی مہیا کرایا جا رہا ہے ۔
آلودہ پانی کے استعمال سے ہماری صحت ، خاص طور پر بچوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اس پس منظر میں ، پانی کے معیار کی جانچ کی لیبارٹریوں کو اپ گریڈکیا گیا ہے اور این اے بی ایل سے اس کی منظوری لی گئی ہے۔ ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں تقریبا 2300 پانی کے معیار کی جانچ کی لیبارٹری ہیں اور انہیں عام لوگوں کے لئے کھول دی گئی ہیں ، تاکہ وہ اپنے پانی کے نمونے معمولی قیمت پر جانچ سکیں۔ اس کے علاوہ ، فیلڈ ٹیسٹ کٹس (ایف ٹی کے) کا استعمال کرکے پانی کے معیار اور/یا ان کے وسائل کی نگرانی کرنے کے لیے کے لئے مقامی دیہاتی برادری کو بااختیار بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ایک بڑا چیلنج ڈی پی آئی آئی ٹی کے ساتھ شراکت میں ’پورٹیبل گھریلو پانی کے معیار کی جانچ کے آلات‘ تیار کرنے کا بھی ہے۔
جل جیون مشن کے تحت ، 15 ویں فنانس کمیشن کے ساتھ مشترکہ طور پر پانچ سالوں کے لئے ولیج ایکشن پلانز (وی اے پی) تیار کیا گیا ہے تاکہ گھروں تک پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئےگرام پنچایتوں (جی پی) کے ذریعہ پی آرآئی کے لیے دستیاب فنڈ فائدہ مند طریقے سے استعمال ہوسکے ۔ یہ وی اے پی ڈسٹرکٹ ایکشن پلان (ڈی اے پی) تشکیل دینے کے لئے ضلعی سطح پر جمع کیے جاتے ہیں ، جن کو اسٹیٹ ایکشن پلان (ایس اے پی) مرتب کرنے کے لئے ریاستی سطح پر منظم کیا جاتا ہے۔ ایس اے پی ریاست میں پینے کے پانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے علاقائی واٹر سپلائی سکیموں ، بلک واٹر سپلائی اور تقسیم کے منصوبوں جیسےمنصوبے پر کام کر تی ہے۔
اس مشن کو ہر گاؤں / رہائشی علاقوں میں معمار ، پلمبنگ ، فٹنگ ، بجلی ، پمپ مکینک وغیرہ جیسے شعبوں میں ہنر مند انسانی وسائل کی ضرورت ہے ، جن کی خدمات کا استعمال واٹر سپلائی اسکیموں کی تشکیل کے ساتھ ساتھ باقاعدگی سے چلانے اور مرمت کرنے میں کیا جائے گا۔ دیہی علاقوں میں ہنرمند انسانی وسائل کا ایسا گروپ 'خود انحصار ہندوستان' کے تصور کی طرز پر گاؤں کو پانی کی فراہم کرنے کے نظام کو باقاعدگی سے برقرار رکھنے مرمت کے لیے خود انحصار بناتا ہے۔ یہ پروگرام روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے اور مقامی معیشت کو فروغ دیتا ہے۔
قومی جل جیون مشن ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام ریاستوں UTs کی مدد کرتا ہے، جس میں پروگرام پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لئے گاؤں کے دورے کرنے والی ٹیموں کو بھی شامل کیا جاتا ہے اور باشعور سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے عملدر آمد کو تیز کرنے کے لئے تکنیکی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ یہ ٹیمیں جی پی /وی ڈبلیو ایس سی کے ممبروں اور مقامی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ پی ایچ ای ڈی کے عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کرتی ہیں جس میں کمیونٹی کی شرکت اور فوی عمل آوری کے ادارہ جاتی انتظامات پر توجہ دی جاتی ہے۔ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جل جیون مشن کو واقعتا ایک ’’ عوامی پروگرام ‘‘ بنانے کے لئے مقامی دیہی برادریوں ، این جی اوز ، سیلف ہیلپ گروپ اور اس سیکٹر کے دیگر شراکت داروں نے ہاتھ ملایا ہے۔ یہ مشن پینے کے پانی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے معاشرتی اور طرز عمل میں تبدیلی لانے پر کام کر رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(م ن ۔ رض (
U-43
(ریلیز آئی ڈی: 1685627)
وزیٹر کاؤنٹر : 171