الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
تیسرے دن کی ریز 2020 : صنعت ، تعلیم اور حکومت کے سربراہان نے کلیدی مصنوعی ذہانت کو مارکیٹ تک پہنچانے کے طریقوں پر بات چیت کی زراعت، حفظان صحت کی صنعتوں میں یکسر تبدیلی کی صلاحیت کو اجاگر کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 OCT 2020 9:47PM by PIB Delhi
نئی دہلی،07 اکتوبر ،2020 / تیسرے دن کی ریز 2020 ’’سماج کو بااختیار بنانے کے لیے ذمہ دار مصنوعی ذہانت 2020 ‘‘ سمٹ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال والے عملہ تیار کرنے کے لیے ہنر مندی ، معاشی ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت کو فروغ دینے سے متعلق موقعے اور چیلنج ، مصنوعی ذہانت پر مبنی طریقوں کو مارکیٹ میں لے جانے اور زراعت و حفظان صحت کے شعبوں کے لیے عمدہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں مصنوعی ذہانت کے استعمال جیسے وسیع موضوعات پر بات چیت کی گئی۔ مائیکروسافٹ کی ورلڈ وائڈ لرننگ فیلڈ کی وائس پریسیڈینٹ محترمہ نورا لونگکور نے اس ضرورت پر زور دیا کہ عملے کو مصنوعی ذہانت کے لیے تیار رکھنے کی غرض سے ہنر مند بنانے میں سرمایہ لگایا جائے۔
انہوں نے کہا ’’کووڈ کے بعد کی دنیا میں ہم تمام شعبوں میں ڈیجیٹل کایاپلٹ کے تئیں خواہش اور مانگ دیکھ رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اس ڈیجیٹل کایا پلٹ میں ایک بڑا رول ادا کرے گی جیساکہ لوگ اور تنظیمیں کم خرچ کے لیے مزید کچھ کرنا چاہتی ہیں اور لاگت کو کم سے کم کرنا چاہتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے لیے تیار ایک عملہ اس ڈیجیٹل کایا پلٹ کی تحریک کی کامیابی کے لیے بہت اہم ہوگا۔
نیسکام کی مستقبل کی ہنرمندیوں کی سربراہ محترمہ کریتی سیٹھ، اے پی جے گلوبل پارٹنرشپس اینڈ انیشی ایٹیو گروپ کی ڈائریکٹر محترمہ سویتا کھرانا نے بھی جلسے سے خطاب کیا۔ اس اجلاس کے جلسے بعد ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں مائیکرو سافٹ ٹکنالوجی مرکز کے ڈائریکٹر جناب سندیپ الور نے سماج پر مصنوعی ذہانت کے اثرات پر اظہار خیال کیا۔
آئی بی ایم انڈیا اور ساؤتھ ایشیا کے ایم ڈی جناب سندیپ پٹیل نے ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت کے فروغ پر کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے اس ضرورت کی وضاحت کی کہ ڈیٹا بندوبست کو فروغ دینے کے لیے ایک صحیح سازگار نظام کی تعمیر کی جائے۔ مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے اختراعی مدد فراہم کی جائے اور وسیع پیمانے پر پڑنے والے اثرات ڈالنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جائے۔
بھارت کے سافٹویئر ٹکنالوجی پارکس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اوم کار رائے نے پیش رفت کے بارے میں تفصیلات پیش کیں کہ بھارت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنے عملے کو ہنر مند بنانے میں کر رہا ہے۔ ایس ٹی پی آئی نے اپنے مختلف ایپلی کیشنز کو سیکھانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے مہارت سے متعلق 8 مرکز قائم کیے ہیں۔
مائی گوو کے صدر اور سی ای او جناب ابھیشیک سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹکنالوجی میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ بھارت اور پوری دنیا میں ترقی کو فروغ دے۔
بعد میں دن میں حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر وجے راگھون نے مصنوعی ذہانت کی کلیدی تحقیق اور ایسے طریقۂ کار تیار کرنے کے لیے حکمت عملی پر ایک کلیدی خطبہ دیا جنہیں اپنانا اور ان پر عمل کرنا آسان ہے۔ انہوں نے خاص طور پر کہا کہ مصنوعی ذہانت کو انسان کے ذریعے کیے جانے والے فیصلوں کے مطابق کام کرنا چاہیے۔
اس جلسے کے بعد ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ مذاکرہ مصنوعی ذہانت کی طاقت والی مستقبل میں تیار رہنے والی زرعی سپلائی چین کی تعمیر پر کیا گیا۔ اس موضوع پر اپنے کلیدی خطبے میں مصنوعی ذہانت کے وادھوانی انسٹی ٹیوٹ کے سی ای او ڈاکٹر پی آنندن نے زرعی ویلیو چین میں مصنوعی ذہانت کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا خیال تھا کہ بھارت نے زراعت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے لیے زبردست موقع موجود ہے اور یہ کہ مصنوعی ذہانت میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ ملک کی پیداواریت میں مدد کرے۔
ریز 2020 کے بارے میں:
ریز 2020مصنوعی ذہانت کے بارے میں دانشوروں کی اپنی نوعیت کی پہلی ایک عالمی میٹنگ ہے۔ جس کا مقصد سماجی یکسر تبدیلی ، ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے ذریعے سب کی شمولیت اور بااختیاری کے لیے بھارت کے خاکے اور لائحہ عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ اس کا انعقاد حکومت ہند نے الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹکنالوجی کی وزارت نیتی آیوگ نے کیا ہے۔ اس سمٹ میں صنعت کی عالمی شخصیتوں کی کلیدی رائے سازوں ، حکومت کے نمائندوں اور ماہرین تعلیم حصہ لے رہے ہیں۔
ویب سائٹ : http://raise2020.indiaai.gov.in/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
م ن ۔ اس۔ ت ح ۔
U – 6188
(ریلیز آئی ڈی: 1662740)
وزیٹر کاؤنٹر : 177