ریلوے کی وزارت

سی ایس ایم ٹی ریلوے اسٹیشن کے باز ترقیاتی پروجیکٹ کے سلسلے میں نیلامی سے پہلے کی میٹنگ کا انعقاد

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 SEP 2020 7:29PM by PIB Delhi

نئی دہلی،25 ستمبر،     نیتی آیوگ کے سی ای او اور ریلوے بورڈ کے چیئرمین نیز سی ای او نے آج ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے سی ایس ایم ٹی پروجیکٹ کی نیلامی سے پہلے کی میٹنگ کی صدارت کی۔ ممبر (بنیادی ڈھانچے)، ریلوے بورڈ، جی ایم، سینٹرل ریلوے اور جی ایم، ناردن ریلوے نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔پورے بھارت میں ریلوے اسٹیشنوں کو دوبارہ ترقی دینا ریلوے کی وزارت کا ترجیحی ایجنڈا ہے۔اس ایجنڈے پر حکومت پوری تندہی سے عمل کر رہی ہے جس میں پی پی پی کے ایک حصے کے طور پر پرائیویٹ کمپنیاں بھی شرکت کر رہی ہیں۔آج نیلامی سے پہلے جو میٹنگ ہوئی اس پر صنعت، ڈیولپروں اور سرمایہ کاروں نے زبردست رد عمل اظہار کیا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ سرمایہ کاری کے اس موقع میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں۔

نیلامی سے پہلے کی میٹنگ میں تقریباً 43 امکانی بولی لگانے والوں نے شرکت کی جن میں ڈیولپرمثلاً اڈانی گروپ، ٹاٹا پروجیکٹس لمیٹڈ، ایلڈی کو، جی ایم ا ٓر گروپ، جے کے بی انفراسٹرکچر پرائیویٹ لمیٹڈ، ایس این سی ایف حبس اینڈ کنیکشنز، آئی اسکوارڈ کیپیٹل،  کلپتاروں پاور ٹرانسمیشن لمیٹڈ، اے سی ای اربن ڈیولپر، جی آر انفراسٹرکچر، ایسل گروپ، لارسن اور این ٹوبرو، آرکیٹیکس یعنی بی ڈی پی سنگاپور، حفیظ کنٹریکٹر، اے ای سی او ایم، سرمایہ کار مثلاً اینچوریج انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ ہولڈنگز لمیٹڈ، بروک فیلڈ اور مشاورتی فرمیں مثلاً جے ایل ایل، بوسٹن کنسلٹنسی گروپ، کے پی ایم جی، پی ڈبلیو سی انڈیا، ای وائی اور سفارتخانے مثلاً برٹش ہائی کمیشن  شامل ہیں۔ڈی پی آئی آئی ٹی کی طرف سے قائم کردہ انویسٹ انڈیا جو نیشنل انویسٹ منٹ پروموشن اینڈ فیسیلی ٹیشن ایجنسی ہے اورجو بھارت میں  سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے والوں کی مدد کرتی ہے  اس نے بھی اس میٹنگ میں شرکت کی۔

سی ایس ایم ٹی ایک تاریخی اور یونیسکو کی طرف سے اعلان کردہ عالمی ورثے کی جگہ ہے جو ممبئی شہر کے وسط میں واقع ہے۔ اس ریلوے اسٹیشن کو دوبارہ ترقی دینے میں اس میں بہت ساری سہولتوں کو شامل کیا جائے گا اور اس اسٹیشن کو کئی ماڈلوں والا ٹرانسپورٹ مرکز بنایا جائے گا اس کا وژن بھارت کے عزت مآب وزیر اعظم نے پیش کیا تھا۔اس میں آنے اور جانے کے اسٹیشن الگ الگ ہوں گے۔ یہ اسٹیشن  معذور دوست ہوگا۔  مسافروں کے لیے  سفر کی بہتر خدمات سے آراستہ ہوگا۔ عمارت میں بجلی کم خرچ ہوگی اور اس تاریخی ورثے کی عمارت کو 1930 کی سطح پر بحال کیا جائے گا۔ سی ایس ایم ٹی ریلوے اسٹیشن ایک سٹی سینٹر ریل مال کی طرح کام کرے گا جہاں  مسافروں کی ٹرانسپورٹیشن کی ضرورتیں پوری ہونے کے علاوہ ان  کی روز مرہ کی ضرورتیں مثلاً خوردہ خریداری، ایف اینڈ بی، تفریح اور یادگاری شاپنگ کا بھی انتظام کیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ مسافر کی روز مرہ کی ضرورتیں ریلوے اسٹیشن پر ہی پوری ہوجائیں اور اسے شہر کے اندر بیجا سفر کرنے کی مشقت سے بچایا جاسکے۔

باز ترقی یافتہ اسٹیشن کے ڈھانچے میں اس طرح سے انتظام کیا جائے گا کہ  سفر کے ایک وسیلے سے دوسرے وسیلے تک آسانی سے پہنچا جاسکے۔  اتنے مسافروں کے لیے سفر کے مختلف پوائنٹ ہوں گے اور مضافاتی ریلوے، بندرگاہی لائن، طویل فاصلے، میٹرو ریل اور تجارتی ترقیاتی مرکز تک آسانی سے پہنچا جاسکے۔ اس سے بھیڑ بھاڑ سے بچنے میں مدد ملے گی اور عالمی ورثے کے بنیادی ڈھانچے سے بھی لطف اٹھایا جاسکے گا۔

پی پی پی پر چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمنس (ممبئی) کی باز ترقی کے لیے اہل ہونے کی درخواست (آر ایف کیو) کی آئی آر ایس ڈی سی کی طرف 20 اگست 2020 کو جاری کیے گئے اشتہار میں دعوت دی گئی ہے۔آر ایف کیو دستاویز کو ویب سائٹ  http://irsdc.enivida.com پر دیکھا جاسکتا ہے۔ 22 اکتوبر تک درخواستیں دی جاسکتی ہیں۔

نیلامی سے پہلے کی میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آر ایف کیو مرحلے پر درخواست گزاروں کو صرف مالی رقم بھرنی ہوگی جو (ڈیولپروں) کے لیے کم از کم ضرورت ہے یا کم ا ز کم اے سی آئی (فنڈز کے لیے) اس کے علاوہ ٹینیکل اہلیت کے معاملے کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

سی ایس ایم ٹی پروجیکٹ کی لاگت 1642 کروڑ روپئے ہوگی اور ریئل اسٹیٹ کی لاگت 1433 کروڑ روپئے ہوگی۔ کل ریئل ا سٹیٹ بی یو اے 25 لاکھ اسکوائر فٹ ہوگی جو سی ایس ایم ٹی، واڑی بندر اور بائیکلا میں ہوگی۔ تعمیراتی پروجیکٹ کی مدت 4 سال ہوگی۔ آر ایف پی مرحلے پر بولی لگانے والا ریلوے اسٹیشن اور ریلوے کے اطراف زمین پر تجارتی ترقی کا ذمے دار ہوگا۔ یہ زمین تجارتی ترقی کے لیے لیز کی بنیاد پر 60 سال کے لیے دی جائے گی اور منتخب پلاٹوں پر رہائشی ترقی کے لیے 99 سال کی لیز پر دی جائے گی۔ اسٹیشن کی دیکھ ریکھ رعایتی بنیاد پر 60 سال کے لیے تفویض کی جائے گی ۔

****************

م ن۔ اج ۔ ر ا       

U:5870


(ریلیز آئی ڈی: 1659472) وزیٹر کاؤنٹر : 170