زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
زرعی درآمدات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 SEP 2020 1:45PM by PIB Delhi
ملک میں درآمد ہونے والی بڑی زرعی پیداواروں میں کھانے میں استعمال ہونے والے تیل، دالیں، تازہ پھل، کچاکاجو، چینی، خام کپاس اور مصالحے شامل ہیں، جو بھارت کی کل زرعی درآمدات کا تقریباً 84 فیصد ہیں۔
زرعی تجارت میں بھارت کے پاس اضافی پیداوار ہے۔ بڑی درآمدات کھانے میں استعمال ہونے والے تیل ہیں، جس پر غور کرنے کےلئے تیل کے بیج اور ناریل کے تیل کا قومی مشن نافذ کیاجارہا ہے۔زرعی درآمدات پر انحصاریت کو کم کرنے کےلئے فصلوں کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا سب سے اہم قدم ہے۔لہٰذا زرعی پیداوار جیسے تیل کے بیج، غذائی اجناس ، دالیں، پھل اور مصالحہ وغیرہ کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لئے حکومت متعدد پروگرام ؍اسکیمیں چلا رہی ہے،جیسے راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا(آر کے وی وائی)، قومی غذائی تحفظ مشن (این ایف ایس ایم)، این ایس ایم-تیل کے بیج اور ناریل کے تیل ، مشرقی بھارت میں سبز انقلاب پہنچانا(بی جی آر ای آئی)، باغبانی کی مربوط ترقی کا مشن(ایم آئی ڈی ایچ)، پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا(پی ایم کے ایس وائی)، مٹی کی صحت کا کارڈ وغیرہ۔ اس کے علاوہ انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر)اور اسٹیٹ ایگریکلچرل یونیورسٹیز(ایس اے یو)نے پیداوار اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لئے متعدد انواع ؍ہائبرڈ بیج تیار کئے ہیں۔این ایف ایس ایم (تیل والے بیج اور ناریل کے تیل)کے تحت کاشتکاروں کو متعدد امداد فراہم کی جارہی ہیں،جیسے منظور شدہ بیج کی تقسیم، پود کاری کی اشیاء، نمائش، آئی پی ایم، آئی این ایم، پی پی کیمیکلز، کاشتکاری سے متعلق متعدد آلات ، کسانوں کی تربیت،آبپاشی کے آلات اور تیل کے بیجوں کی پیداوارمیں اضافہ کے لئے مقامی پہل۔
یہ اطلاع آج راجیہ سبھا میں زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے ایک تحریری جواب میں دی۔
********
م ن۔ق ت۔ن ع
(24.09.2020)
(U: 5797)
(ریلیز آئی ڈی: 1658591)
وزیٹر کاؤنٹر : 132