وزارتِ تعلیم
قومی تعلیمی پالیسی کے تحت دیہی علاقوں میں کثیر انضباطی مطالعاتی اختیارات کے نظم
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 SEP 2020 7:09PM by PIB Delhi
نئی دلی، 22ستمبر، مرکزی وزیر تعلیم جناب رمیش پوکھریال نشنک نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ کثیر ضابطہ اختیارات کے تعلق سے 2020 کی قومی تعلیمی پالیسی میں کہا گیا ہے کہ مدرسین کومربوط اور کثیر انضباطی طریقے سے بھی تیار کیا جائے گا۔ اس پالیسی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مختلف مضامین بالخصوص آرٹ، فزیکل ایجوکیشن، پیشہ ورانہ تعلیم اور لسانیات کے موضوعات کے مناسب تعدادمیں ٹیچروں کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ٹیچروں کوکسی ایک اسکول یا کئی اسکولوں میں بھرتی کیا جا سکتا ہے اور ایک سے زیادہ اسکولوں میں ان مدرسین کو بانٹنے کا یہ عمل ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی حکومتوں کی جانب سے ایک سے زیادہ اسکولوں کا گروپ تیار کرنے کے مطابق ہوگا۔
2020 کی قومی تعلیمی پالیسی میں کہا گیا ہے کہ آنگن واڑیوں میں عہد طفولیت کی معیاری نگہداشت اور تعلیم ( ای سی سی ای) دینےوالے ٹیچروں کی ایک ابتدائی کھیپ تیار کرنے کیلئے آنگن واڑی کے موجودہ کارکنوں ؍ ٹیچروں کومنظم طور پر تربیت دی جائے گی، جو نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی)، کے تیار کردہ نصابی ؍ تعلیمی فریم ورک کے مطابق ہوگی۔ آنگن واڑی کے جن کارکنوں ؍ ٹیچر وں نے 2+10 یا اس سے زیادہ تعلیم حاصل کی ہوگی، انہیں ای سی سی ای میں ششماہی سرٹیفکیٹ پروگرام کے تحت تربیت دی جائے گی۔جن کارکنوں ؍ ٹیچروں کے پاس اس سے کم تعلیمی اہلیت ہوگی، ان کے لئے ایک سال کے ڈپلومہ پروگرام کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ابتدائی خواندگی، اعداد جاننے اور ای ای سی کے دیگر متعلقہ پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا۔یہ پروگرام ڈی ٹی ایچ چینلوں اوراسمارٹ فون کے ذریعے ڈیجیٹل ؍ ڈسٹینس موڈ کے ذریعہ چلائے جا سکتے ہیں۔ اس میں ٹیچروں کو اس بات کی سہولت دی جائے گی کہ وہ اپنے موجودہ کام میں کم سے کم خلل کے ساتھ ای سی سی ای کی اہلیتیں حاصل کریں۔ آنگن واڑی کارکنوں ؍ ٹیچروں کی ای سی سی ای تربیت کی سرپرستی اسکولی تعلیمی محکمے کے کلسٹر ریسورس سینٹر کریں گے اور مسلسل جائزہ لیتے رہنے کے لئے کم سے کم ماہانہ ایک رابطہ کلاس کا اہتمام کریں گے۔
*************
( م ن ۔ ع س۔ ک ا(
U. No.5749
(ریلیز آئی ڈی: 1658029)
وزیٹر کاؤنٹر : 194