ریلوے کی وزارت

وزیر اعظم نے تاریخی کوسی ریل مہا سیتو کو قوم کے نام وقف کیا 

وزیراعظم نے مسافروں کے فائدے کیلئے بہار میں نئی ریل لائنوں اور بجلی کاری پروجیکٹوں کا افتتاح کیا

وزیر اعظم نے کووڈ کے وقت میں بھی  اَنتھک کام کرنے کے لئے ریلوے  کی ستائش کی

وزیراعظم نے بجلی کاری، صفائی ستھرائی کے اقدامات، کسان ریل کو متعارف کرانے اور بغیر گارڈ والے ریلوے کراسنگ کو ختم کرنے کیلئے ریلویز کی حصولیابیوں کی ستائش کی

Posted On: 18 SEP 2020 5:14PM by PIB Delhi

وزیر اعظم نریندر مودی نے  تاریخی کوسی ریل  مہا سیتو  کو قوم کے نام وقف کیا   اور ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے  مسافروں کے فائدے کے لئے  بہار میں  نئی ریل لائنوں  اور برق کاری کے پروجیکٹوں کا افتتاح کیا ۔

اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کہا کہ  بہار میں  ریل کنکٹی ویٹی کے شعبے میں ایک نئی تاریخ رقم کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 3000 کروڑ روپئے کی لاگت والے  کوسی مہا سیتو  اور  کیول برج   ، برق کاری کے پروجیکٹوں  اور  ریلوے میں میک اِن انڈیا کے فروغ    کا افتتاح اور  تقریباً ایک درجن روز گار فراہم کرنے والے  نئے پروجیکٹوں کا آج  آغاز کیا گیا ہے ۔  یہ پروجیکٹ  نہ صرف بہار  کے ریل  نیٹ ورک کو مستحکم کریں گے بلکہ  مغربی بنگال  اور مشرقی بھارت   میں ریلوے  کنکٹی ویٹی کو بھی مضبوط کریں گے ۔

بہار کے گورنر جناب پھاگو چوہان، بہار کے وزیراعلیٰ جناب نتیش کمار، مرکزی وزراء، ریلویز اور تجارت وصنعت کے وزیر جناب پیوش گوئل، قانون وانصاف ، مواصلات، الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے وزیر جناب روی شنکر پرساد، مویشی پالن، ڈیری اور ماہی پروری کے وزیر جناب گری راج سنگھ، امور داخلہ کے وزیر مملکت جناب نتیا نند رائے اور بہار کے نائب وزیراعلیٰ جناب سشیل مودی نے اس تاریخی موقع پر شریک رہے۔

کوسی ریل مہاسیتو پُل کے علاوہ وزیراعظم نے ریاست بہار کے فائدے کیلئے مسافروں کی سہولتوں سے متعلق دیگر ریل پروجیکٹوں کا بھی افتتاح کیا۔ یہ پروجیکٹ ہیں:

  • برونی میں  نیا الیکٹرک لوکو موٹیو شیڈ
  • کیول ندی پر ریلوے کا نیا پُل
  • پانچ بجلی کاری کے پروجیکٹس:مظفر- سیتامڑھی، کٹیہار-نیوجلپائی گوڑی، سمستی پور- دربھنگہ- جئے نگر، سمستی پور- کھگڑیا، بھاگل پور- شیونارائن پور سیکشن۔
  • کرنوتی-بختیار پور لنک بائی پاس اور باڑھ - بختیار پور کے درمیان تیسری لائن
  • کیول ندی پر نیا پُل اور الیکٹرک انٹرلاکنگ

وزیر اعظم نے نئی اور جدید سہولیات  کے لئے بہار کے لوگوں کو مبارکباد دی  ، جو بہار سمیت مشرقی بھارت  کے ریلوے مسافروں کو فائدہ پہنچائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے بہت سے حصے ایک دوسرے سے دریاؤں کی وجہ سے کٹے ہوئے تھے  اور  لوگوں کو ، اِس کی وجہ سے لمبا سفر کرنا پڑتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ 4 سال پہلے  پٹنہ اور منگیر میں  ، اِس مسئلے کو حل کرنے کے لئے دو مہا سیتو کی تعمیر شروع کی گئی  اور اب اِن دو ریل  کے پلوں کی وجہ سے شمالی اور جنوبی بہار میں سفر میں آسانی ہو گئی ہے اور اس سے ، خاص طور پر شمالی بہار میں ترقی  میں نئی  تیزی آئے گی ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ  ایک شدید زلزلے نے ، جو  18 سال پہلے آیا تھا ،  متھلا  اور کوسی خطے کو الگ تھلگ کر دیا تھا اور یہ  ایک اتفاق ہے  کہ  اِن دونوں خطوں کو کورونا جیسی عالمی وباء کے دوران ایک دوسرے سے مربوط کیا جا رہا ہے ۔  انہوں نے مزید کہا کہ آج سوپول – آسن پور – کپاہا ریل راستے کو  قوم کے نام وقف کیا جا رہا ہے  ، جو  مہاجر مزدوروں کی سخت  محنت کا  نتیجہ ہے ، جنہوں نے  ، اِن پلوں کی تعمیر میں حصہ لیا ۔ انہوں نے کہا کہ نئی کوسی ریل لائن  کا نظریہ  2003 ء میں  ، اُس وقت پیش  کیا  گیا تھا  ، جب جناب اٹل بہاری واجپئی  وزیر اعظم تھے اور جناب نتیش کمار ریلوے کے وزیر تھے تاکہ  متھلا اور کوسی کے خطے  کے لوگوں کے مسائل کو حل کیا جا سکے ۔  انہوں نے کیا کہ  یہ پروجیکٹ موجودہ حکومت  کے دور میں تیزی سے تیار کیا گیا اور  سوپول – آسن  پور – کپاہا  روٹ کو جدید ٹیکنا لوجی کے استعمال سے تیزی سے مکمل کیا گیا ہے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج   شروع ہونے والی  نئی ریل سروس سے  ، جو  سوپول – آسن پور بہ راستے کوسی مہا سیتو  ہو گی ، سوپول – ارریا اور سہرسا اضلاع کے لوگوں کو  زبردست فائدہ ہو گا ۔ یہ شمال مشرقی  عوام کے لئے بھی ایک متبادل  ریل راستہ فراہم کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ  اِس مہا سیتو کے ساتھ 300 کلو میٹر کا سفر  کم ہو کر صرف 22 کلو میٹر رہ گیا اور یہ پورے خطے میں کاروبار  اور روز گار کو فروغ دے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بہار کے لوگوں کا وقت اور رقم دونوں کی بچت ہو گی ۔

وزیر اعظم  نے کہا کہ  کوسی مہا سیتو کی طرح  کیول دریا پر  نئے ریل راستے  پر  الیکٹرانک انٹر لاکنگ  سہولت کی وجہ سے ٹرینیں  ، اِس پورے راستے پر 125 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکیں گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ   الیکٹرانک انٹر لاکنگ سے   ہاوڑہ – دلّی مین لائن پر ٹرینوں کی آمد  و رفت میں آسانی ہو گی اور  غیر ضروری تاخیر سے راحت ملے گی اور سفر زیادہ  محفوظ ہو گا ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پچھلے چھ برسوں  سے   بھارتی ریلوے کو  نئے بھارت کی امنگوں   کو پورا کرنے اور  آتم  نربھر بھارت  کی توقعات  کو پورا کرنے کے لئے  تیار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارتی ریلوے  پہلے سے کہیں زیادہ صاف ستھری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ریلوے  کو بغیر پھاٹک والے کراسنگ کو ختم کرکے اور  بڑی لائنیں بچھا کر پہلے سے  زیادہ محفوظ بنایا گیا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ بھارتی ریلوے کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے ۔ وندے بھارت جیسی  بھارت میں بنی ٹرینیں خود کفالت  اور جدیدیت  کی علامت ہیں اور  تیزی سے ریل نیٹ ورک کا حصہ بن رہی ہیں ۔ 

وزیر اعظم نے کہا کہ بہار ریلوے میں جدید کاری کی کوششوں   کی وجہ سے   وسیع فوائد حاصل کر رہے ہیں ۔ پچھلے چند برسوں میں میک اِن انڈیا کو فروغ دینے کے لئے  ایک الیکٹرک انجن کی فیکٹری مدھیے پورہ میں قائم کی گئی ہے اور ایک ڈیزل  انجن کی فیکٹری مرہورا میں  قائم کی گئی ہے ۔ ان دونوں پروجیکٹوں میں تقریباً 44000 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے عوام کو  ، اِس بات پر فخر ہو گا  کہ بھارت میں سب سے طاقتور الیکٹرک  ریلوے انجن  ، جو 12000 ہارس پاور کا ہے ، بہار میں تیار کیا گیا ہے ۔  بہار  کے پہلے لوکو  شیڈ نے کام کرنا شروع کر دیا ہے ، جو الیکٹرک  لوکو موٹیو   کی مرمت وغیرہ  کے لئے کام کرے گا ۔ 

وزیر اعظم نے کہا کہ آج  بہار میں  ریلوے  کا تقریباً 90 فی صد  نیٹ ورک  الیکٹریفائیڈ کیا جا چکا ہے ۔  انہوں نے مزید کہا کہ  پچھلے 6 برسوں کے دوران  3000 کلو میٹر سے زیادہ  ریلوے لائن  کی برق کاری کی گئی  ۔ انہوں نے مزید کہا  کہ 2014 ء سے پہلے بہار میں صرف  325 کلومیٹر  کی نئی  ریلوے لائنیں بچھائی گئی تھیں ، جب کہ 2014 ء کے بعد  5 برسوں میں بہار میں تقریباً 700 کلو میٹر  نئی ریلوے لائنیں  بچھائی گئی ہیں ، جو   پہلے تقریباً دوگنی ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ  1000 ہزار کلو میٹر  کی نئی ریلوے لائنیں  زیر تعمیر ہیں ۔

وزیر اعظم نے  کہا کہ   حاجی پور – گھوسوار – ویشالی ریل لائن  کو متعارف کرائے جانے سے دلّی اور پٹنہ    براہ راست ریل خدمات سے جڑ جائیں گے ۔ یہ سروس  ویشالی میں سیاحت کو  زبردست فروغ دے گی اور نئے روز گار  تشکیل پائیں گے ۔  انہوں نے کہا کہ  مال برداری کی مخصوص راہداری پر کام تیز رفتاری سے چل رہا ہے اور   تقریباً 250 کلو میٹر طویل راہداری  بہار سے گزرے گی ۔  اِس پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد  مسافر ٹرینوں میں تاخیر  کا مسئلہ کم ہو جائے گا  اور  اشیاء کی نقل و حمل کی تاخیر میں بھی  زبردست کمی آئے گی ۔

وزیر اعظم نے کورونا بحران کے دوران  انتھک کام کرنے کے لئے ریلویز کی بھی ستائش کی ۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے نے مہاجر مزدوروں کو روز گار فراہم کرنے  اور انہیں  شرمک خصوصی ٹرینوں کے ذریعے واپس لانے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی پہلی  کسان ریل  کورونا  کے دور میں بہار سے  مہاراشٹر کے درمیان متعارف کرائی گئی ہے ۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ریلویز اور تجارت وصنعت کے وزیر جناب پیوش گوئل نے کہا کہ کوسی مہاسیتو کی تکمیل وزیراعظم جناب نریندر مودی کی رہنمائی میں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاسیتو بہار کی زراعت اور معیشت کی ترقی میں کلیدی رول ادا کریگا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستانی ریلویز بہار کی ترقی میں تعاون کرنے کیلئے عہد بند ہے۔

اس موقع پر ا ظہار خیال کرتے ہوئے بہار کے وزیراعلیٰ جناب نتیش کمار نے پروجیکٹ کی تکمیل اور ریاست میں دیگر ترقیاتی اقدامات کیلئے ہندوستانی ریلویز کا شکریہ ادا کیا۔ بہار کے وزیراعلیٰ نے خصوصی طور پر ناموافق حالات میں ٹرینوں کو چلاکر بہار کے باشندوں کو ان کے گھر تک واپس لانے میں مدد کرنے کیلئے ریلویز کا شکریہ ادا کیا۔

کوسی مہاریل سیتو کو قوم کے نام وقف کرنا بہار کی تاریخ میں ایک خوشگوار لمحہ ہے اور پورا خطہ شمال مشرق سے جڑ رہا ہے۔ 1887 میں نرملی اور بھاپتیاہی (سرائے گڑھ) کے درمیان ایک میٹر گیج لنک تعمیر کیا گیا تھا۔ بھاری سیلاب اور1934 میں ہنداور نیپال میں آئے ہوئے شدید زلزلے کے دوران یہ ریل لنک پانی میں بہہ گیا تھا اور کوسی ندی کی خطرناک نوعیت کےسبب لمبے عرصے سے اس ریل لنک کو بحال کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی تھی۔

04-2003 کے دوران حکومت ہند کےذریعے کوسی میگا برج لائن پروجیکٹ کو منظوری دی گئی تھی۔ کوسی ریل مہاسیتو 1.9 کلو میٹر طویل ہے اور اس کی تعمیراتی لاگت 516 کروڑ روپئے ہے۔ اس پُل کی ہندوستان اور نیپال سرحد کے متصل اسٹریٹیجک اہمیت ہے۔ کووڈ-19 وبا کے دوران اس پروجیکٹ کو مکمل کیا گیا  اس کام کی تکمیل میں مائیگرینٹ مزدوروں نے بھی حصہ لیا۔

اس پروجیکٹ کو قوم کے نام وقف کرنے سے 86 سال پرانا خواب  پورا ہوگا اور علاقے کے لوگوں کا  طویل  انتظار ختم ہوگا۔

مہاسیتو کو قوم کے نام وقف کرنے کے ساتھ ہی وزیراعظم نے سوپول اسٹیشن سے سوپول- راگھوپور ڈی ای ایم یو ٹرین کو ہری جھنڈی دکھاکر روانہ کیا۔ جب ریگولر ٹرین سروس کا آغاز ہوجائیگا تو اس سے سوپول، ارریہ اور سہرسہ اضلاع  کو بڑے پیمانے پر فائدہ ہوگا۔ اس سے علاقے کے لوگوں کیلئے کولکاتا، دہلی اور ممبئی کا طویل مسافتی سفر بھی آسان ہوجائیگا۔

 

 

 

م ن۔م ع۔ ع ن

U NO: 5628



(Release ID: 1656553) Visitor Counter : 7