وزارت دفاع

لداخ میں مشرقی سرحد پر صورتحال کے بارے میں 15 ستمبر کو لوک سبھا میں رکشا منتری (وزیر دفاع) راج ناتھ سنگھ کے بیان کا متن

Posted On: 15 SEP 2020 3:56PM by PIB Delhi

قابل احترام اسپیکر صاحب

  1. میں لداخ میں اپنی مشرقی سرحدوں پر پیش رفت کے بارے میں اس مقدس ایوان کو آج بتانا چاہتا ہوں، جیساکہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے قابل احترام وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے لداخ کا دورہ کیا تھا اور اپنے بہادر شیردل فوجی جوانوں سے ملاقات کی تاکہ ملک کی سالمیت وسالی ڈیٹری کے پیغام سے آگاہ کیا جاسکے۔ اور یہ بتایا جاسکے کہ ملک ان بہادر فوجیو ں کی ہر کارروائی کے پیچھے ان کے ساتھ ہے۔ میں نے بھی اپنے فوجیوں کے ساتھ کچھ وقت گزارا تھا اور میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے خود ان کی (فوجیوں کی ہمت ، بہادری اور شجاعت کو محسوس کی ہے، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کرنل سنتوش بابو نے اپنے 19 بہادر فوجیوں کے ساتھ بھارت کی علاقائی سالمیت کا دفاع کرتے ہوئے عظیم قربانی دی۔ قابل محترم اسپیکر صاحب۔ اس ایوان نے کل دو منٹ کی خاموشی اختیار کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
  2. میں چین کے ساتھ ہمارے سرحدی معاملے کی کچھ تفصیلا ت فراہم کرنے کے لئے پہلے مختصر طور پر کچھ وقت لینا چاہوں گا، جیسا کہ ایوان کو بخوبی علم ہے کہ بھارت اور چین کو اپنے سوال کو ابھی حل کرنا ہے۔ چین بھارت اور چین کے درمیان سرحد کی روایتی صف بندی کو قبول نہیں کرتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صف بندی واضح اور مکمل جغرافیائی اصولوں پر مبنی ہے جس کی سمجھوتوں اور معاہدوں کے ذریعے تصدیق کی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ تاریخی دستور رواج اور پریکٹس کے ذریعے بھی تصدیق کی گئی ہے، جو دونوں فریقوں کے لئے صدیوں سے جانی جاتی ہے۔ البتہ چین کی پوزیشن یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان فریقوں نے باقاعدہ طور پر روایتی کسٹمری لائن کی پوزیشن کی مختلف تشریحات کی ہیں۔ دونوں ممالک 60-1950 کی دہائی کے دوران کئی بار بات چیت کی ہے لیکن ابھی تک ایسا کوئی حل نہیں برآمد ہوسکا جو دونوں کو قابل قبول ہو۔
  3. جیسا کہ ایوان جانتا ہے کہ چین مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں لگ بھگ 38000 مربع کلو میٹر علاقے پر بدستور غیر قانونی قبضہ جمائے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ 1963 کے نام نہاد چین-پاکستان سرحدی سمجھوتے کے تحت پاکستان نے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں 5180 مربع کلو میٹر کا بھارتی علاقہ چین کے حوالے کردیا ہے۔ چین نے اروناچل پردیش میں بھارت چین سرحد کے مشرقی سیکٹر میں تقریباً 90 ہزار مربع کلو میٹر کے بھارتی علاقے پر اپنا دعویٰ کیا ہے۔
  4. بھارت اور چین دونوں نے باقاعدہ اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ سرحد کا سوال ایک پیچیدہ معاملہ ہے جس پر صبر وتحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے۔دونوں نے اس بات کا بھی عزم ظاہر کیا ہے کہ پرامن مذاکرات کے ذریعے دونوں ملک کو ایسی رضامندی سے اسے حل کرلیں گے۔ اس دوران دونوں فریقوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ سرحدی علاقوں میں امن وآتشی برقرار رکھنا باہمی تعلقات کے مزید فروغ کے لئے لازمی بنیاد ہے۔
  5. میں یہاں بتانا چاہوں گا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں میں حقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) کی مشترکہ طور پر حد بندی ابھی تک نہیں کی گئی ہے اور پورے ایل اے سی کا کوئی مشترکہ تصور نہیں ہے، لہٰذا سرحدی علاقوں خصوصاً ایل اے سی پر امن وآشتی کو یقینی بنانے کے لئے دونوں ملکوں نے بہت سے سمجھوتوں اور اقرار ناموں پر دستخط کیے۔
  6. ان سمجھوتوں کے تحت دونوں فریقوں نے ایل اے سی کی صف بندی پر اپنی اپنی متعلقہ پوزیشنوں اور ساتھ ساتھ سرحد کے سوال پر کوئی بدگمانی یا تعصب کے بغیر ایل اے سی پر امن وسکون برقرار رکھنے سے بھی اتفاق کیا۔ اسی بنیاد پر ہی 1988 کے بعد سے ہمارے مجموعی تعلقات میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔ ہندوستان کی پوزیشن یہ ہے کہ سرحدی سوال کو حل کرنے کے بارے میں مذاکرات کے ساتھ ساتھ باہمی تعلقات کو مزید فروغ مل سکتا ہے، جبکہ سرحدی علاقوں میں ایل اے سی پر امن وآشتی میں کسی سنجیدہ نوعیت کی گڑبڑ کی وجہ سے دونوں ملکوں کی مثبت ہدایت کے لئے پیچیدگیاں کھڑی ہوسکتی ہیں۔
  7. 1993 اور 1996 کے سمجھوتوں کا ایک کلیدی عنصر یہ ہے کہ دونوں فریق کم از کم سطح پر ایل اے سی کے ساتھ لگنے والے علاقوں میں اپنی اپنی ملٹری فوجیں رکھیں گے۔ ان سمجھوتوں میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ دونوں لائہن آف کنٹرول کا سختی سے احترام کریں گے۔ ان سمجھوتوں میں مزید یہ بات بھی شامل ہے کہ ہندوستان اور چین حقیقی کنٹرول لائن کی توثیق اور کلیرفیکیشن کے تئیں بھی پابند ہیں۔ اس طرح 1990 کی دہائی اور 2003 تک دونوں فریقوں نے ایل اے سی کی توثیق کے لئے ایک ایکسرسائز کی، لیکن چین نے ایل اے سی کلیرفیکیشن ایکسرسائز کو اپنانے میں خواہش ظاہر نہیں کی، جس کے نتیجے میں ایسے کچھ علاقے ہیں ، جہاں ایل اے سی کی چین اور ہندوستان سوچ اوور لیپ ہے۔
  8. موجودہ پیش رفت کے بارے میں ایوا ن کو جانکاری دینے سے پہلے میں بتانا چاہتا ہوں کہ حکومت کے پاس سینٹر پولیس فورسز اور چین مسلح افواج کی انٹلی جنس اکائیوں سمیت مختلف انٹلی جنس ایجنسیوں میں وقت کی کسوٹی پر کھرے اترنے والے مناسب اور مربوط میکانزم ہیں۔ تکنیکی اور انسانی انٹلی جنس کو انتہائی مربوط طریقے سے جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس کو مسلح افواج کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے، جو فیصلے کرنے میں ان کی مدد کرتی ہے۔
  9. میں ایوان کو اس سال کی پیش رفت سے واقف کرانا چاہتا ہوں کہ اپریل کے بعد سے ہم کو مشرقی لداخ کے آس پاس کے سرحدی علاقوں میں چین کی طرف سے فوجیں تعینات کرنے کی اطلاع ملی تھی۔ مئی کے شروع میں چین کی سائڈ سے گلوان وادی علاقے میں ہماری فوجوں کی معمول اور روایتی گشت کو روکنے کے لئے کارروائی کی تھی، جس کے نتیجے میں ٹکراؤ ہوا۔ یہاں تک کہ گراؤنڈ کمانڈروں کی طرف سے اس صورتحال کے بارے میں ایڈریس کیا جارہا تھا، لہٰذا ہمارے باہمی سمجھوتوں اور اقرار ناموں کی شقوں کے مطابق مئی کے وسط میں چین نے مغربی سیکٹر کے دیگر حصوں میں ایل اے سی کی سرحد ی خلاف ورزی کرنےکی کئی بار کوشش کی ، لیکن ہمارے مسلح افواج نے بہت ہی اور مناسب ڈھنگ سے چین کی اس کوشش کا جلد پتہ لگالیا۔
  10. ہم نے سفارتی اور فوجی چینلوں کے ذریعہ چین کو یہ واضح کردیا ہے کہ چین یکطرفہ طور پر اسٹیٹس کو بدلنے کی کوشش کررہا ہے اور یہ بھی واضح طور پر آگاہ کردیاگیا ہے کہ یہ ناقابل قبول ہے۔
  11. ایل اے سی پر بڑھتے ہوئے تناؤ کو دیکھتے ہوئے دونوں ملکوں کے سینئر کمانڈروں 6 جون 2020 کو ایک میٹنگ کی جن میں پیچھے ہٹنے کے عمل پر اتفاق ہوا۔ دونوں فریقوں نے ایل اے سی کا احترام کرنے اور اس پر قائم رہنے سے اتفاق کیا اور ایسی کوئی سرگرمی نہ کرنے کی بات کہی جس سے اسٹیٹس تبدیل ہوتا ہو۔ البتہ اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چینی سائیڈ نے گلوان میں 15 جون کو پرتشدد جھڑھ کی۔ ہمارے بہادر فوجیوں نے اپنی قربانی پیش کیں اور چینی سائیڈ کو بھاری نقصان پہنچایا جن میں ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔
  12. ان تمام تر واقعات میں ہماری مسلح افوا ج کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے سرگرم کارروائیاں کرتے ہوئے صبر وتمل یعنی سیم کو برقرار رکھا۔ انہوں نے برابر سے اس وقت شوریہ کا بھی مظاہرہ کیا جب ہندوستان کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضرورت پیش آئی۔ میں چاہوں گا کہ ایوان ہمارے ان فوجیوں کی شجاعت اور بہادری کو تسلیم کرنے میں ساتھ شامل ہو، جنہوں نے ہم سب کو محفوظ اور سلامت رکھتے ہوئے انتہائی مشکل حالات میں سخت اور کڑی آزمائش سے گزر کر اپنی بہادری کا ثبوت دیا۔
  13. ہماری سرحدوں کی حفاظت کرنے کے سلسلے میں ہمارے عزم اور ارادے پر ذراسا بھی شک نہیں کرنا چاہئے۔ بھارت اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ایسی احترام اور ایسی سوجھ بوجھ پڑوسیوں کے ساتھ پرامن تعلقات کی بنیاد ہیں۔ ہم مذاکرات کے ذریعے موجودہ صورتحال کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے چین کے ساتھ سفارتی اور فوجی وابستگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ ان مذاکرات میں ہم نے تین کلیدی اصولوں کو برقرار رکھا ہے۔ جو ہمارے بتاؤ کو ظاہر کرتی ہے، جن تین کلیدی اصولوں کو برقرار رکھا گیا ہے ان میں دونوں فریق ایل اے سی کا سختی سے احترام کریں گے۔ دوسرا یہ کہ کوئی بھی فریق یک طرفہ طور پر اسٹیٹس کو نہیں بدلے گا اور میرا کلیدی اصول یہ ہے کہ دونوں فریق تمام سمجھوتوں اور مفاہمت ناموں پر پوری طرح عمل کریں گے۔
  14. کیونکہ یہ مذاکرات جاری ہیں۔ چینی سائیڈ پینگ گون جھیل کے ساؤتھ بینک علاقے میں اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کی کوشش کے سلسلے میں 29 اور 30 اگست کی رات کو سرگرم فوجی نقل وحمل میں پھر مصروف ہوگیا، لیکن ایک بار پھر ایل اے سی پر ہماری مسلح افواج کی طرف سے سخت اور بروقت کارروائی سے اس طرح کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیاگیا۔
  15. ان واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ چینی کارروائیاں مختلف باہمی سمجھوتوں کی بے اعتنائی کی عکاس کرتی ہیں۔ چین کی جانب سے فوجیں جمع کرنا 1993 اور 1996 کے سمجھوتوں کی خلاف ورزی ہے۔ رحدی علاقوں میں امن وسکون کی بنیاد ہے۔ ایل اے سی کا احترام اور اس پر سختی سے کاربند رہنا اور جن کو 1993 اور 1996 کے سمجھوتوں میں پوری طرح تسلیم کیاگیا ہے، جہاں ہماری مسلح افواج اس پر پوری طرح کاربند رہیں۔ چین کی طرف سے ان سمجھوتوں کے تئیں اسی طرح کے جذبے کا مظاہرہ نہیں کیاگیا ہے، جیساکہ پہلے بتاچکا ہوں کہ سمجھوتوں کے تفصیلی طریقہ کار اور ضابطے ہوتے ہیں تاکہ ٹکراؤ کی صورت میں نمٹا جاسکے۔البتہ اس سال حالیہ واقعات میں چین کی فوجوں کے پرتشدد رویے سے ان ضابطوں کی مکمل خلاف ورزی ہوتی ہے جن پر اسی طور پر اتفاق ہوا ہے۔
  16. اب تک چین نے ایل اے سی کے ساتھ ساتھ اندرونی علاقوں میں فوجوں کی ایک بڑی تعداد اور ہتھیار جمع کرلی ہے۔ گوگرا اور پینگونگ جھیل کے شمالی اور جنوبی بنک سمیت مشرقی لداخ میں بہت سے متنازعہ علاقے ہیں۔ چین کی کارروائی کے پیش نظر ہماری مسلح افواج نے بھی ان علاقوں میں مناسب جوابی تعیناتی کی ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ہندوستان کی سلامتی کے مفادات پوری طرح محفوظ ہیں۔ ایوان کو ہماری مسلح افواج پر مکمل اعتماد کرنا چاہئے اور ہماری افواج ہمیشہ چیلنجوں سے اوپر اٹھے گی اور ہمارا سر فخر سے بلند رکھے گی۔ میں عوام میں مزید تفصیلات نہیں دے سکوں گا اور مجھے اس سلسلے میں ایوان کی سمجھ بوجھ کے بارے میں پورا اعتماد ہے۔اسی مقصد کے حصول کی ایک کوشش کے سلسلے میں میں نے ماسکو میں 4 ستمبر کو اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کی تھی اور ان کے ساتھ تفصیل سے بات چیت کی۔ میں نے چینی سائیڈ کی کارروائیوں سے متعلق اپنی تشویش کے بارے میں صاف طور پر آگاہ کردیاتھا۔ فوجوں کی ایک بڑی تعداد کو جمع کرنے کے بارے میں واضح طور پر بتادیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے جارحانہ رویے یکطرفہ طور پر جوں کی توں حیثیت کو بدلنے کی کوشش سے بھی چینی ہم منصب کو واضح طور پر آگاہ کردیا تھا، جو کہ باہمی سمجھوتوں کی خلاف ورزی ہے۔ میں نے بھی پوری طرح سے واضح کردیا ہےکہ ہم مسئلے کو پرامن طور پر حل کرنا چاہتے ہیں اور یہ چاہیں گے کہ چینی سائیڈ ہمارے ساتھ کام کرے۔ ہندستان کے اقتدار اعلیٰ اور علاقائی یک جہتی کا تحفظ کرنے کے لئے ہمارے عزم کے بارے میں کسی کو ذرا بھی شک نہیں کرنا چاہئے۔ میرے ساتھی جناب جے شنکر (وزیر خارجہ) نے 10 ستمبر کو ماسکو میں چین کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔ دونوں نے ایک سمجھوتے پر اتفاق کیا۔ اگر چین کی طرف سے سنجیدگی اور اعتماد کے ساتھ اس سمجھوتے کو نافذ کیا تو سرحدی علاقوں میں امن کی بحالی اور مکمل طور پر واپسی ممکن ہوسکے گی۔
  17. آئی ٹی بی پی سمیت ہماری مسلح افواج کی جانب سے اس تیزی سے تعیناتی کووڈ 19 کے چیلنجنگ دور میں ہوئی ہے۔ ان کی کوششوں کی تعریف کی جانی چاہئے۔ ایوان کو معلوم ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے چین نے بنیادی ڈھانچے کی اہم تعمیراتی سرگرمی انجام دی ہے، جس کے نتیجے میں سرحدی علاقوں میں ان کی تعیناتی کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جواب میں ہماری حکومت نے بھی سرحد کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے بجٹ میں اضافہ کیا ، تاکہ سابق سطحوں کو دوگنا کیا جاسکے۔ اس کے نتیجےمیں سرحدی علاقوں میں بہت سی سڑکوں اور پلوں کو مکمل کرلیاگیا ہے۔ اس سے نہ صرف مقامی آبادی کے لئے کنکٹی ویٹی فراہم کی جاسکی ہے بلکہ ہم نے اپنی مسلح افواج کو بہتر لوجیسٹک سپورٹ بھی فراہم کی ہے۔ آنے والے سالوں میں حکومت اس مقصد کے تئیں پرعزم ہے۔

قابل احترام اسپیکر صاحب

  1. میں اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ ہندوستان پر امن مذاکرات اور صلاح ومشورے کے ذریعے اپنے سرحدی علاقوں میں موجودہ امور کو حل کرنے کے تئیں پرعزم ہے۔
  2. جیسا  کہ ممبروں کو معلوم ہے کہ ماضی میں بھی ہم نے چین کے ساتھ اپنے سرحدی علاقوں میں طویل تعطل کی صورتحال کا سامنا کیا ہے۔ اس کے باوجود اس سال کی صورتحال ذرا مختلف ہے۔ ہم موجودہ صورتحال کے پرامن حل کے تئیں عہد بستہ ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ایوان کو یقین دلایا جاتاہے کہ ہم صورتحال سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔
  3. قابل احترام اسپیکر صاحب۔ اس ایوان کی شاندار روایت رہی ہے۔ جب بھی ملک کو کسی چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس ایوان نے ہمیشہ اپنی مسلح افواج کے عزم اور ارادے کی سمت اپنی طاقت اور اتحادکا مظاہرہ کیا ہے۔ اس ایوان نے سرحدوں پر تعینات مسلح افواج کی بہادری، جذبے اور حوصلوں پر ہمیشہ مکمل اعتماد کیا ہے۔
  4. میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہماری مسلح افواج کا حوصلہ بہت زیادہ اونچا ہے اور ہمارے وزیر اعظم کے دورے نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ہمارے کمانڈرس اور فوجی سمجھتے ہیں کہ پورا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ ہمارے علاقائی یکجہتی کے دفاع کے کاز کی حمایت پوری طرح ان کے ساتھ ہے۔ ہمارے فوجیوں کا عزم قابل احترام ہے۔ وہ سخت سردی اور انتہائی شدید درجۂ حرارت اور آکسیجن کی کمی کے باوجود اونچائی والے علاقوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے (فوج) نے کرگل اور سیاچین پر پچھلے کئی سالوں سے بہت جانفشانی سے کام کیا ہے۔
  5. میں اس مقدس ایوان کو یہ بتانے سے ذرا بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ ہم لداخ میں ایک چیلنج کا سامنا کررہے ہیں میں ایوان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہماری مسلح افواج کی حمایت میں ایک قرار داد پاس کرے جو ہماری سلامتی اور تحفظ کے لئے لداخ میں انتہائی خراب موسم اور اونچائی والے علاقوں میں مادر وطن کی حفاظت کررہے ہیں۔ اب یہ وقت ہے کہ یہ مقدس ایوان ایک ساتھ کھڑا ہو اور بہادر مسلح افواج کی بہادری پر اعتماد اور بھروسہ جتائے اور انکی اس مشن کی حمایت کرے، جو انہوں نےمادر وطن کی علاقائی یکجہتی کے تحفظ کے لئے کیا ہے۔

......................................

م ن، ح ا، ع ر

15-09-2020

U-5419



(Release ID: 1654922) Visitor Counter : 51