جل شکتی کی وزارت

بھارت-بنگلہ دیش-نیپال اور میانمار کے ماہرین خطے میں دریائی ڈولفن مچھلیوں کی تحفظ کے لئے یکجا ہوئے، علاقائی تعاون کا راستہ ہموار ہوا


ماہی پروری کے شعبے کے لئے منفرد موقع، کیونکہ اس شعبے نے نمامی گنگے پروگرام کی سرپرستی میں ڈولفن کے تحفظ کے کام میں شمولیت اختیار کی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 AUG 2020 10:40PM by PIB Delhi

 

 ‘‘دریاؤں کی صحت کے ایکو نظام اور اس کی ڈولفن مچھلیوں کی آبادی پر کووڈ-19 کے اثرات کی تلاش:موجودہ کیفیت اور بھارت-بنگلہ دیش- میانمار –نیپال میں تحفظ کی مستقبل کی حکمت عملی ’’کے موضوع پر منعقدہ ایک ویبی نار کا اہتمام انڈین فیشریز سوسائٹی آف انڈیا، آئی سی اے آر-سینٹرل اِن-لینڈ فیشریز  ریسرچ  انسٹی ٹیوٹ، نیشنل مشن فار کلین گنگا، پروفیشنل فیشریز گریجویٹس فورم (پی ایف جی ایف)اور آبی جانوروں کے ایکو نظام کی صحت اور انتظام سے متعلق سوسائٹی کی جانب سے کیا گیا۔

دریائی ڈولفن مچھلیاں منفرد قسم کی ہوتی ہیں، جو ایشیا اور جنوبی امریکہ کے دریاؤں میں پائی جاتی ہیں اور بڑی تیزی سے معدوم ہورہی ہیں۔ گنگائی ڈولفن، جو بھارت کا قومی آبی جانور ہے، اسے فطرت کے تحفظ کی بین الاقوامی یونین(آئی یو سی این) کی جانب سے معدوم ہونے کے خطرے سے دو چار قرار دیا جاچکا ہے۔مذکورہ ویبی نار کا اہتمام اس مقصد سے کیا گیا تھا کہ علاقائی تعاون کے ذریعے ان ڈولفن مچھلیوں کے تحفظ اور ان کے احیاء کی مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کئے جاسکیں۔

ویبی نار کا آغاز آئی سی اے آر-سی آئی ایف آر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بی کے داس کے خیر مقدمی خطبے سے ہوا، جنہوں نے اس ویبی نار کےاغراض  و مقاصد کا ایک مختصر خاکہ پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ویبی نار جنوب  مشرقی ایشیائی علاقائی ممالک میں ڈولفن مچھلیوں کے تحفظ کو تقویت فراہم کرے گا۔ آئی سی اے آر کے ماہی پروری کی سائنس کے شعبے سے متعلق ڈاکٹر جی کے جینا ڈی ڈی جی نے اپنے خطبے میں زور دے کر کہا کہ کم سے کم دخل اندازی اور عمل دخل کے ذریعے ڈولفن مچھلیاں اپنے طورپر تعداد بڑھا سکتی ہیں اور یہی چیز ہم نے لاک ڈاؤن کے دوران مشاہدہ کی ہے۔ یہ جانور کسی قسم کی سرحدوں میں بٹے ہوئے نہیں ہوتے اور انہوں نے اپنے طورپر جہاں بھی کہیں ممکن ہوا ہے، اپنی رہائش گاہیں تلاش کرلی ہیں، لہٰذا ان کے تحفظ میں علاقائی تعاون کی بڑی اہمیت ہے۔وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے سبکدوش پرنسپل سائنٹسٹ ڈاکٹر بی سی چودھری نے اب تک ڈولفن مچھلیوں کے موضوع پر کی گئی تحقیق کا ایک تاریخی جائزہ پیش کیا۔کینیڈا کی آبی جانوروں کے ایکو نظام کے صحت اور انتظام کی سوسائٹی کے ڈاکٹر ایم منور نے اپنی نیک تمنائیں ارسال کیں۔

صاف ستھری گنگا کے قومی مشن(ایم این سی جی)کے ڈائریکٹر جنرل جناب راجیو رنجن مشرا نے ڈولفن کے تحفظ کے سلسلے میں اپنے تجربات ساجھا کئے اور گنگا احیا ء کی اہمیت سے اس کے ارتباط پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ دریائے گنگا کی تحفظ پر کام کرتے ہوئے نمامی گنگے پروگرام کے تحت لگاتار اس بات کی کوششیں کی گئی ہیں کہ ڈولفن کے تحفظ کو قومی توجہ حاصل ہوسکے اور انہیں کوششوں کے نتیجے میں محترم وزیر اعظم کی جانب سے ماحولیات اور جنگلات کی وزارت کے تحت پروجیکٹ ڈولفن کا اعلان کیا گیا ہے۔یہ پروجیکٹ اصلاً پروجیکٹ ٹائیگر کے مماثل ہوگا، جس نے شیروں کی آبادی بڑھانے میں کامیابی دلائی ہے۔تاہم سب سے اہم  قابل توجہ بات اب یہ ہے کہ سائنٹفک دخل اندازی کے ساتھ کمیونٹی کی ساجھیداری پر توجہ مرکوز کی جائے ۔نمامی گنگے نے کثافت اور آلودگی کو کم کرنے کے ساتھ حیاتیاتی تنوع اور معیشت حیوانات کے  پورے ماحول کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے اور مذکورہ تمام تر پروجیکٹ ماہی پروری کو بہتر بنانے کے لئے شروع کئے گئے ہیں۔ یعنی سی آئی ایف آر آئی اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا(ڈبلیو آئی آئی) کے ساتھ مل کر یقینی بنایا جارہا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت ، یہ اپنی نوعیت کا پہلا موقع ہے،جب ماہی پروری کا شعبہ ڈولفن تحفظ پر لیکچر کا اہتمام کررہا ہے۔

آئی سی اے آر-سی آئی ایف آر آئی، بیرک پور کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر اے پی شرما نے ڈولفنوں کی رہائش کے تحفظ کی ضرورت پر تحقیق کئے جانے کا پہلو نمایاں کیا۔آئی سی اے آر-سی آئی ایف ای کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر دلیپ کمار نے ماہی گیروں کی زندگی کے سماجی پہلوؤں اور دیہی علاقوں میں ڈولفن مچھلیوں کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔

سی آئی ایف آر آئی کے توسط سے نمامی گنگے کے تحت  ماہی پروری کے پورے عمل کے تحفظ کی جو کوششیں ہورہی ہیں وہ ڈولفنوں کے رہنے کے علاقے میں، ان کی خوراک کے لئے درکار شکار کی بنیاد میں اضافہ کریں گی۔تاکہ ڈولفنوں کی آبادی میں اضافہ ہوسکے۔ماہی گیروں کی روزی روٹی کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے نیز انہیں تحفظاتی کوششوں میں شامل ہونےاور راغب کرنے کے لئے باہمی تال میل پر مبنی طریقہ کار درکار ہے، تاکہ سرحدوں کے آر پار کی جانے والی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا ہوسکے اور ایک علاقائی پروگرام تشکیل دیا جاسکے۔شمال مشرقی دریاؤں میں ڈولفنوں کی رہنے کی چھوٹی چھوٹی جگہوں یا بستیوں کو خاص طورپر مقامی تشہیر یا ٹرانس لوکیشن کے لئے زیر مطالعہ لائے جانے کی ضرورت ہے۔ طلباء کے لئے ڈولفن مچھلیوں کے بارے میں انہیں آگہی فراہم کرنا، پورے سماج کو اس کام میں ملوث کرنا اور کلی بیداری میں اضافہ کرنا بھی اس کے دیگر پہلو ہیں۔ ڈولفن کی تعداد شماری ، ای –فلو تجزیے اور حیاتیاتی تنوع کے نفاذ کے سلسلے میں جدید ترین زیر آب مخصوص طریقہ کار اپنایا جانا چاہئے۔

سندر بن ڈیلٹا یہ ایک منفرد ایکولوجیکل مقام  ہے،جہاں دریائے گنگا میں پائی جانے والی ڈولفنیں اور ارّاواڈی ڈولفنیں موجود ہیں۔ یہ ڈولفنیں بھارت اور پورے بنگلہ دیش میں پھیلی ہوئی ہیں۔کانفرنس کے دوران مندوبین کو ڈولفنوں کے سلسلے میں اپنے تجربات ساجھا کرنے کا منفرد موقع حاصل ہوا۔ اس میں ارّاواڈی ڈولفنوں کے سلسلے میں میانمار اور چلیکا لیک اتھارٹی  نے بھی  اپنے تجربات ساجھا کئے۔ویبی نار میں پوری دنیا سے آئے ہوئے 1000 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ میانمار سے آئے ہوئے سبکدوش ڈی ڈی جی-فیشریز ڈاکٹر ایچ ایل اے وِن نے  میانمار میں ارّاواڈی ڈولفنوں کے تحفظ کے لئے کئے جانے والے اقدامات پر اظہار خیال کیا۔ایکوا کلچر کے پروفیسر اے ایف یو (سبکدوش) نیپال  کے ڈاکٹر مادھو کے  شریسٹھا، بنگلہ دیش کے ڈولفن ایکشن پلان سے متعلق نیشنل ایٹلس کے پروفیسر محمد اے عزیز ، بنگلہ دیش کے ہی سینئر ماہر پروفیسر بے نظیر احمد اور دیگر معروف شخصیات نے اس کانفرنس میں نمایاں طورپر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔کانفرنس کے دوران اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ڈولفنوں کے تحفظ کے سلسلے میں علاقائی اور کثیر شعبہ جاتی اشتراک جاری رکھا جائے گا۔اس طرح کی مجالس میں ہونے والے پُرمغز تبادلہ خیال بھارت میں پروجیکٹ ڈولفن کے عناصر کو تقویت فراہم کرنے میں معاون ہوں گے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

********

 

م ن۔ن ع

(U: 4816)


(ریلیز آئی ڈی: 1648658) وزیٹر کاؤنٹر : 251